فہرست دستورِ پاکستان

آئینِ پاکستان 1973ء کی دفعات کے عنوانات جو دسمبر 2025ء کی اشاعت سے لیے گئے ہیں۔

حصہ اول: تمہیدی دفعات

آرٹیکل 1: جمہوریہ اور اس کے علاقے

آرٹیکل 2: اسلام ریاست کا مذہب ہوگا

آرٹیکل 2 اے: قراردادِ مقاصد کے مندرجات آئین کا مؤثر حصہ ہوں گے

آرٹیکل 3: استحصال کا خاتمہ

آرٹیکل 4: افراد کے ساتھ سلوک قانون کے مطابق کیا جائے گا

آرٹیکل 5: ریاست سے وفاداری اور آئین و قانون کی اطاعت

آرٹیکل 6: غداری

حصہ دوم: بنیادی حقوق اور پالیسی کے اصول

آرٹیکل 7: ریاست کی تعریف

آرٹیکل 8: بنیادی حقوق سے متصادم یا مجروح کرنے والے قوانین کالعدم ہوں گے

آرٹیکل 9: فرد کی حفاظت

آرٹیکل 9 اے: صاف اور صحت مند ماحول

آرٹیکل 10: گرفتاری و حراست کے تحفظات

آرٹیکل 10 اے: منصفانہ سماعت کا حق

آرٹیکل 11: غلامی، جبری مشقت وغیرہ کی ممانعت

آرٹیکل 12: قانون کی تبدیلی کے نتیجے میں سزا سے تحفظ

آرٹیکل 13: دہری سزا اور خود الزامی سے تحفظ

آرٹیکل 14: انسان کی عزت کا احترام وغیرہ

آرٹیکل 15: نقل و حرکت کی آزادی

آرٹیکل 16: اجتماع کی آزادی

آرٹیکل 17: تنظیم سازی کی آزادی

آرٹیکل 18: تجارت، کاروبار یا پیشے کی آزادی

آرٹیکل 19: اظہارِ رائے کی آزادی وغیرہ

آرٹیکل 19 اے: معلومات کا حق

آرٹیکل 20: مذہب پر عمل اور مذہبی اداروں کے انتظام کی آزادی

آرٹیکل 21: کسی خاص مذہب کے لیے ٹیکس لگانے سے تحفظ

آرٹیکل 22: تعلیمی اداروں میں مذہب وغیرہ کے حوالے سے تحفظات

آرٹیکل 23: جائیداد کے بارے میں دفعات

آرٹیکل 24: جائیداد کے حقوق کا تحفظ

آرٹیکل 25: شہریوں کی مساوات

آرٹیکل 25 اے: تعلیم کا حق

آرٹیکل 26: عوامی مقامات تک رسائی میں امتیاز نہ ہونا

آرٹیکل 27: خدمات میں امتیاز کے خلاف تحفظ

آرٹیکل 28: زبان، رسم الخط اور ثقافت کا تحفظ

آرٹیکل 29: پالیسی کے اصول

آرٹیکل 30: پالیسی کے اصولوں کے حوالے سے ذمہ داری

آرٹیکل 31: اسلامی طرزِ زندگی

آرٹیکل 32: مقامی حکومتی اداروں کی فروغ

آرٹیکل 33: علاقائیت اور دیگر اسی طرح کے تعصبات کی حوصلہ شکنی

آرٹیکل 34: خواتین کی قومی زندگی میں مکمل شرکت

آرٹیکل 35: خاندان کا تحفظ وغیرہ

آرٹیکل 36: اقلیتوں کا تحفظ

آرٹیکل 37: سماجی انصاف کی فروغ اور سماجی برائیوں کا خاتمہ

آرٹیکل 38: عوام کی سماجی و اقتصادی بہبود کی فروغ

آرٹیکل 39: مسلح افواج میں عوام کی شرکت

آرٹیکل 40: مسلم دنیا کے ساتھ تعلقات کی مضبوطی اور بین الاقوامی امن کا فروغ

حصہ سوم: وفاقِ پاکستان

آرٹیکل 41: صدر

آرٹیکل 42: صدر کا حلف

آرٹیکل 43: صدر کے عہدے کی شرائط

آرٹیکل 44: صدر کی مدتِ عہدہ

آرٹیکل 45: صدر کی معافی وغیرہ کی اختیارات

آرٹیکل 46: صدر کو مطلع رکھنا

آرٹیکل 47: صدر کا عہدہ ختم کرنا یا مواخذہ

آرٹیکل 48: صدر کا مشورے پر عمل کرنا وغیرہ

آرٹیکل 49: چیئرمین یا اسپیکر کا صدر کے طور پر کام کرنا یا اس کے فرائض انجام دینا

آرٹیکل 50: مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ)

آرٹیکل 51: قومی اسمبلی

آرٹیکل 52: قومی اسمبلی کی مدت

آرٹیکل 53: قومی اسمبلی کے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر

آرٹیکل 54: مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) کا اجلاس طلب کرنا اور ملتوی کرنا

آرٹیکل 55: اسمبلی میں ووٹنگ اور کورم

آرٹیکل 56: صدر کا خطاب

آرٹیکل 57: مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) میں تقریر کا حق

آرٹیکل 58: قومی اسمبلی کی تحلیل

آرٹیکل 59: سینٹ

آرٹیکل 60: چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین

آرٹیکل 61: سینٹ سے متعلق دیگر دفعات

آرٹیکل 62: مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) کی رکنیت کی اہلیت

آرٹیکل 63: مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) کی رکنیت کے لیے نااہلی

آرٹیکل 63 اے: بغاوت وغیرہ کی بنیاد پر نااہلی

آرٹیکل 64: نشستوں کا خالی ہونا

آرٹیکل 65: اراکین کا حلف

آرٹیکل 66: اراکین کی مراعات وغیرہ

آرٹیکل 67: طریقہ کار کے قواعد وغیرہ

آرٹیکل 68: مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) میں بحث پر پابندی

آرٹیکل 69: مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) کی کارروائیوں میں عدالتوں کی مداخلت نہ ہونا

آرٹیکل 70: بلوں کا پیش کرنا اور منظور ہونا

آرٹیکل 71: ثالثی کمیٹی (حذف شدہ)

آرٹیکل 72: مشترکہ اجلاسوں کا طریقہ کار

آرٹیکل 73: مالیاتی بلوں کے حوالے سے طریقہ کار

آرٹیکل 74: مالی اقدامات کے لیے وفاقی حکومت کی رضامندی ضروری

آرٹیکل 75: بلوں پر صدر کی منظوری

آرٹیکل 76: بل کا ملتوی ہونے پر ختم نہ ہونا وغیرہ

آرٹیکل 77: صرف قانون کے ذریعے ٹیکس لگایا جانا

آرٹیکل 78: فیڈرل کنسولیڈیٹڈ اکاؤنٹ اور پبلک اکاؤنٹ (وفاقی حکومت کے دو فنڈز)

آرٹیکل 79: فیڈرل کنسولیڈیٹڈ اکاؤنٹ اور پبلک اکاؤنٹ کی تحویل وغیرہ

آرٹیکل 80: سالانہ بجٹ

آرٹیکل 81: فیڈرل کنسولیڈیٹڈ اکاؤنٹ پر عائد اخراجات

آرٹیکل 82: سالانہ بجٹ سے متعلق طریقہ کار

آرٹیکل 83: مجاز اخراجات کی فہرست کی توثیق

آرٹیکل 84: اضافی اور زائد گرانٹس

آرٹیکل 85: اکاؤنٹ پر ووٹ

آرٹیکل 86: اسمبلی کے تحلیل ہونے پر اخراجات کی اجازت دینے کا اختیار

آرٹیکل 87: مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) کے سیکرٹریٹ

آرٹیکل 88: فنانس کمیٹی

آرٹیکل 89: صدر کے آرڈیننس جاری کرنے کا اختیار

آرٹیکل 90: وفاقی حکومت

آرٹیکل 91: کابینہ

آرٹیکل 92: وفاقی وزراء اور وزرائے مملکت

آرٹیکل 93: مشیر

آرٹیکل 94: وزیراعظم کا عہدے پر برقرار رہنا

آرٹیکل 95: وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ

آرٹیکل 96: وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ (حذف شدہ)

آرٹیکل 96 اے: وزیراعظم پر اعتماد کے حوالے سے ریفرنڈم

آرٹیکل 97: وفاق کی انتظامی اختیارات کی حدود

آرٹیکل 98: ماتحت اتھارٹیز کو فرائض تفویض کرنا

آرٹیکل 99: وفاقی حکومت کے کام کا طریقہ کار

آرٹیکل 100: پاکستان کے اٹارنی جنرل

حصہ چہارم: صوبے

آرٹیکل 101: گورنر کی تقرری

آرٹیکل 102: حلفِ عہد

آرٹیکل 103: گورنر کے عہدے کی شرائط

آرٹیکل 104: صوبائی اسمبلی کے اسپیکر کا گورنر کی غیر موجودگی میں اس کے طور پر کام کرنا یا اس کے فرائض انجام دینا

آرٹیکل 105: گورنر کا مشورے پر عمل کرنا وغیرہ

آرٹیکل 106: صوبائی اسمبلیوں کی تشکیل

آرٹیکل 107: صوبائی اسمبلی کی مدت

آرٹیکل 108: اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر

آرٹیکل 109: صوبائی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنا اور ملتوی کرنا

آرٹیکل 110: گورنر کا صوبائی اسمبلی سے خطاب کا حق

آرٹیکل 111: صوبائی اسمبلی میں تقریر کا حق

آرٹیکل 112: صوبائی اسمبلی کی تحلیل

آرٹیکل 113: صوبائی اسمبلی کی رکنیت کے لیے اہلیت اور نااہلی

آرٹیکل 114: صوبائی اسمبلی میں بحث پر پابندی

آرٹیکل 115: مالی اقدامات کے لیے صوبائی حکومت کی رضامندی ضروری

آرٹیکل 116: بلوں پر گورنر کی منظوری

آرٹیکل 117: بل کا ملتوی ہونے پر ختم نہ ہونا وغیرہ

آرٹیکل 118: صوبائی کنسولیڈیٹڈ فنڈ اور پبلک اکاؤنٹ (صوبائی حکومت کے دو فنڈز)

آرٹیکل 119: صوبائی کنسولیڈیٹڈ فنڈ اور پبلک اکاؤنٹ کی تحویل وغیرہ

آرٹیکل 120: سالانہ بجٹ

آرٹیکل 121: صوبائی کنسولیڈیٹڈ فنڈ پر عائد اخراجات

آرٹیکل 122: سالانہ بجٹ سے متعلق طریقہ کار

آرٹیکل 123: مجاز اخراجات کی فہرست کی توثیق

آرٹیکل 124: ضمنی اور زائد گرانٹ

آرٹیکل 125: اکاؤنٹ پر ووٹ

آرٹیکل 126: اسمبلی کے تحلیل ہونے پر اخراجات کی اجازت دینے کا اختیار

آرٹیکل 127: قومی اسمبلی وغیرہ سے متعلق دفعات کا صوبائی اسمبلی وغیرہ پر اطلاق

آرٹیکل 128: گورنر کے آرڈیننس جاری کرنے کا اختیار

آرٹیکل 129: صوبائی حکومت

آرٹیکل 130: کابینہ

آرٹیکل 131: گورنر کو مطلع رکھنا

آرٹیکل 132: صوبائی وزراء

آرٹیکل 133: وزیراعلیٰ کا عہدے پر برقرار رہنا

آرٹیکل 134: وزیراعلیٰ کی جانب سے استعفیٰ (حذف شدہ)

آرٹیکل 135: وزیراعلیٰ کے فرائض انجام دینے والا صوبائی وزیر (حذف شدہ)

آرٹیکل 136: وزیراعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ

آرٹیکل 137: صوبے کی انتظامی اختیارات کی حدود

آرٹیکل 138: ماتحت اختیارات کو فرائض تفویض کرنا

آرٹیکل 139: صوبائی حکومت کے کاروبار کا طریقہ کار

آرٹیکل 140: صوبے کے ایڈووکیٹ جنرل

آرٹیکل 140 اے: مقامی حکومت

حصہ پنجم: وفاق اور صوبوں کے درمیان تعلقات

آرٹیکل 141: وفاقی اور صوبائی قوانین کی حدود

آرٹیکل 142: وفاقی اور صوبائی قوانین کے موضوعات

آرٹیکل 143: وفاقی اور صوبائی قوانین کے درمیان تضاد

آرٹیکل 144: مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) کی ایک یا زیادہ صوبوں کے لیے رضامندی سے قانون سازی کا اختیار

آرٹیکل 145: صدر کی گورنر کو اپنے نمائندہ کے طور پر مخصوص فرائض انجام دینے کی ہدایت دینے کا اختیار

آرٹیکل 146: وفاق کا مخصوص صورتوں میں صوبوں کو اختیارات وغیرہ تفویض کرنے کا اختیار

آرٹیکل 147: صوبوں کا وفاق کو فرائض سونپنے کا اختیار

آرٹیکل 148: صوبوں اور وفاق کی ذمہ داری

آرٹیکل 149: مخصوص صورتوں میں صوبوں کو ہدایات

آرٹیکل 150: عوامی افعال وغیرہ کے لیے مکمل اعتماد اور ساکھ

آرٹیکل 151: بین الصوبائی تجارت

آرٹیکل 152: وفاقی مقاصد کے لیے زمین کا حصول

آرٹیکل 153: مشترکہ مفادات کا کونسل

آرٹیکل 154: افعال اور طریقہ کار کے قواعد

آرٹیکل 155: آبی ذخائر میں مداخلت کے حوالے سے شکایات

آرٹیکل 156: قومی اقتصادی کونسل

آرٹیکل 157: بجلی

آرٹیکل 158: قدرتی گیس کی ضروریات کی ترجیح

آرٹیکل 159: نشریات اور ٹیلی کاسٹنگ

حصہ شسشم: مالیات، جائیداد، معاہدات اور دعویٰ جات

آرٹیکل 160: قومی مالیاتی کمیشن

آرٹیکل 161: قدرتی گیس اور ہائیڈرو الیکٹرک پاور

آرٹیکل 162: صوبوں سے متعلق ٹیکسیشن پر اثر انداز ہونے والے بلوں کے لیے صدر کی پیشگی منظوری ضروری

آرٹیکل 163: پیشوں وغیرہ کے حوالے سے صوبائی ٹیکس

آرٹیکل 164: کنسولیڈیٹڈ فنڈ سے گرانٹس

آرٹیکل 165: کچھ عوامی جائیدادوں کو ٹیکسیشن سے مستثنیٰ قرار دینا

آرٹیکل 166: مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) کا کچھ کارپوریشنز وغیرہ کی آمدنی پر ٹیکس عائد کرنے کا اختیار

آرٹیکل 167: وفاقی حکومت کا قرضہ لینے کا اختیار

آرٹیکل 168: صوبائی حکومت کا قرضہ لینے کا اختیار

آرٹیکل 169: آڈیٹر جنرل کے افعال اور اختیارات

آرٹیکل 170: آڈیٹر جنرل کا اکاؤنٹس کے حوالے سے ہدایات دینے کا اختیار

آرٹیکل 171: آڈیٹر جنرل کی رپورٹس

آرٹیکل 172: بے مالک جائیداد

آرٹیکل 173: جائیداد حاصل کرنے اور معاہدے کرنے کا اختیار وغیرہ

آرٹیکل 174: دعوے اور کارروائیاں

حصہ ہفتم: عدلیہ

آرٹیکل 175: عدالتوں کا قیام اور دائرہ کار

آرٹیکل 175 اے: وفاقی آئینی عدالت، سپریم کورٹ، ہائی کورٹس اور وفاقی شرعی عدالت میں ججوں کی تقرری

آرٹیکل 175 بی: وفاقی آئینی عدالت کی تشکیل

آرٹیکل 175 سی: وفاقی آئینی عدالت کے ججوں کی تقرری

آرٹیکل 175 ڈی: وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس اور دیگر ججوں کا حلفِ عہد

آرٹیکل 175 ای: وفاقی آئینی عدالت کا ابتدائی دائرہ کار

آرٹیکل 175 ایف: وفاقی آئینی عدالت کا اپیل کا دائرہ کار

آرٹیکل 175 جی: وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے فیصلوں یا احکامات کا جائزہ

آرٹیکل 175 ایچ: مشاورتی دائرہ کار

آرٹیکل 175 آئی: وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس اور دیگر ججوں کی ریٹائرمنٹ عمر

آرٹیکل 175 جے: وفاقی آئینی عدالت کے قائم مقام چیف جسٹس

آرٹیکل 175 کے: وفاقی آئینی عدالت کے قائم مقام جج

آرٹیکل 175 ایل: وفاقی آئینی عدالت کا مقام

آرٹیکل 176: سپریم کورٹ کی تشکیل

آرٹیکل 177: سپریم کورٹ کے ججوں کی تقرری

آرٹیکل 178: حلفِ عہد

آرٹیکل 179: ریٹائرمنٹ عمر

آرٹیکل 180: قائم مقام چیف جسٹس

آرٹیکل 181: قائم مقام جج

آرٹیکل 182: وقتی ججوں کی تقرری

آرٹیکل 183: سپریم کورٹ کا مقام

آرٹیکل 184: سپریم کورٹ کا ابتدائی دائرہ کار (حذف شدہ)

آرٹیکل 185: سپریم کورٹ کا اپیل کا دائرہ کار

آرٹیکل 186: مشاورتی دائرہ کار (حذف شدہ)

آرٹیکل 186 اے: سپریم کورٹ کا مقدمات منتقل کرنے کا اختیار (حذف شدہ)

آرٹیکل 187: وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے کام اور ان پر عمل درآمد

آرٹیکل 188: سپریم کورٹ کی جانب سے فیصلوں یا احکامات کا جائزہ

آرٹیکل 189: دیگر عدالتوں کا وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کا پابند ہونا

آرٹیکل 190: وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے تعاون کا عمل

آرٹیکل 191: طریقہ کار کے قواعد

آرٹیکل 191 اے: سپریم کورٹ کے آئینی بنچ (حذف شدہ)

آرٹیکل 192: ہائی کورٹ کی تشکیل

آرٹیکل 193: ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری

آرٹیکل 194: حلفِ عہد

آرٹیکل 195: ریٹائرمنٹ عمر

آرٹیکل 196: قائم مقام چیف جسٹس

آرٹیکل 197: اضافی جج

آرٹیکل 198: ہائی کورٹ کا مقام

آرٹیکل 199: ہائی کورٹ کا دائرہ کار

آرٹیکل 200: ہائی کورٹ کے ججوں کی منتقلی

آرٹیکل 201: ماتحت عدالتوں کا ہائی کورٹ کے فیصلوں کا پابند ہونا

آرٹیکل 202: طریقہ کار کے قواعد

آرٹیکل 202 اے: ہائی کورٹس کے آئینی بنچ

آرٹیکل 203: ماتحت عدالتوں کی نگرانی کرنا ہائی کورٹ کی ذمہ داری

آرٹیکل 203 اے: اِس باب کی دفعات کا آئین کی دیگر دفعات پر فوقیت ہونا

آرٹیکل 203 بی: تعریفات

آرٹیکل 203 سی: وفاقی شرعی عدالت

آرٹیکل 203 سی سی: علماء پینل اور علماء اراکین (حذف شدہ)

آرٹیکل 203 ڈی: عدالت کے اختیارات، دائرہ کار اور افعال

آرٹیکل 203 ڈی ڈی: عدالت کا جائزہ اور دیگر دائرہ کار

آرٹیکل 203 ای: عدالت کے اختیارات اور طریقہ کار

آرٹیکل 203 ایف: سپریم کورٹ میں اپیل

آرٹیکل 203 جی: دائرہ کار کی پابندی

آرٹیکل 203 جی جی: ہائی کورٹ اور اس کی ماتحت عدالتوں کا وفاقی شرعی عدالت کے فیصلوں کا پابند ہونا

آرٹیکل 203 ایچ: زیر التواء کارروائیاں جاری رہنا وغیرہ

آرٹیکل 203 آئی: انتظامی سرگرمیاں وغیرہ (حذف شدہ)

آرٹیکل 203 جے: قواعد بنانے کا اختیار

آرٹیکل 204: عدالت کی توہین

آرٹیکل 205: ججوں کا معاوضہ وغیرہ

آرٹیکل 206: استعفیٰ

آرٹیکل 207: جج کا منافع بخش عہدہ نہ رکھنا وغیرہ

آرٹیکل 208: عدالتوں کے افسران اور ملازمین

آرٹیکل 209: سپریم جوڈیشل کونسل

آرٹیکل 210: کونسل کا افراد کی حاضری وغیرہ کو نافذ کرنے کا اختیار

آرٹیکل 211: دائرہ کار کی پابندی

آرٹیکل 212: انتظامی عدالتیں اور ٹریبونلز

آرٹیکل 212 اے: فوجی عدالتوں یا ٹریبونلز کا قیام (حذف شدہ)

آرٹیکل 212 بی: سنگین جرائم کے مقدمات کی سماعت کے لیے خصوصی عدالتوں کا قیام (منسوخ شدہ)

حصہ ہشتم: انتخابات

آرٹیکل 213: چیف الیکشن کمشنر

آرٹیکل 214: حلفِ عہد

آرٹیکل 215: کمشنر اور اراکین کی مدتِ عہدہ

آرٹیکل 216: کمشنر اور اراکین کا منافع بخش عہدہ نہ رکھنا

آرٹیکل 217: قائم مقام کمشنر

آرٹیکل 218: الیکشن کمیشن

آرٹیکل 219: کمیشن کے فرائض

آرٹیکل 220: انتظامی اداروں کا کمیشن کی مدد کرنا وغیرہ

آرٹیکل 221: افسران اور عملہ

آرٹیکل 222: انتخابی قوانین

آرٹیکل 223: دوہری رکنیت پر پابندی

آرٹیکل 224: انتخاب اور ضمنی انتخاب کا وقت

آرٹیکل 224 اے: کمیٹی یا الیکشن کمیشن کی جانب سے قرارداد

آرٹیکل 225: انتخابی تنازع

آرٹیکل 226: خفیہ رائے شماری سے انتخاب

حصہ نہم: اسلامی دفعات

آرٹیکل 227: قرآن و سنت سے متعلق دفعات

آرٹیکل 228: اسلامی کونسل کی تشکیل وغیرہ

آرٹیکل 229: مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) وغیرہ کی جانب سے اسلامی کونسل سے رجوع کرنا

آرٹیکل 230: اسلامی کونسل کے افعال

آرٹیکل 231: طریقہ کار کے قواعد

حصہ دہم: ہنگامی حالات

آرٹیکل 232: جنگ، اندرونی بے امنی وغیرہ کی بنیاد پر ہنگامی حالت کا اعلان

آرٹیکل 233: ہنگامی حالت کے دوران بنیادی حقوق معطل کرنے کا اختیار وغیرہ

آرٹیکل 234: صوبے میں آئینی مشینری ناکام ہونے کی صورت میں اعلان جاری کرنے کا اختیار

آرٹیکل 235: مالیاتی ہنگامی حالت کے اعلان کا اختیار

آرٹیکل 236: اعلان کی تنسیخ وغیرہ

آرٹیکل 237: مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) معافی وغیرہ کے قوانین بنا سکتی ہے

حصہ یازدہم: دستور میں ترمیم

آرٹیکل 238: آئین میں ترمیم

آرٹیکل 239: آئین، ترمیمی بل

حصہ دوازدہم: متفرقات

آرٹیکل 240: پاکستان کی خدمات میں تقرریاں اور خدمات کی شرائط

آرٹیکل 241: موجودہ قواعد وغیرہ کا جاری رہنا

آرٹیکل 242: پبلک سروس کمیشن

آرٹیکل 243: مسلح افواج کی کمان

آرٹیکل 244: مسلح افواج کا حلف

آرٹیکل 245: مسلح افواج کے افعال

آرٹیکل 246: قبائلی علاقے

آرٹیکل 247: قبائلی علاقوں کا انتظام (حذف شدہ)

آرٹیکل 248: صدر، گورنر، وزیر وغیرہ کا تحفظ

آرٹیکل 249: قانونی کارروائیاں

آرٹیکل 250: صدر وغیرہ کی تنخواہیں، مراعات وغیرہ

آرٹیکل 251: قومی زبان

آرٹیکل 252: بڑی بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں کے حوالے سے خصوصی دفعات

آرٹیکل 253: جائیداد وغیرہ کے حوالے سے زیادہ سے زیادہ حدود

آرٹیکل 254: وقت کی شرائط پر عمل نہ ہونے سے کارروائی ناجائز نہیں ہوتی

آرٹیکل 255: حلفِ عہد

آرٹیکل 256: نجی فوجوں کی ممانعت

آرٹیکل 257: ریاست جموں و کشمیر سے متعلق دفعات

آرٹیکل 258: صوبوں سے باہر علاقوں کی حکومت

آرٹیکل 259: ایوارڈز

آرٹیکل 260: تعریفات

آرٹیکل 261: عہدے پر کام کرنے والے شخص کو عہدے کے پچھلے مالک کا جانشین نہ سمجھنا وغیرہ

آرٹیکل 262: گریگورین کیلنڈر کا استعمال

آرٹیکل 263: جنس اور عدد

آرٹیکل 264: قوانین کی تنسیخ کا اثر

آرٹیکل 265: آئین کا عنوان اور آغاز

آرٹیکل 266: تنسیخ

آرٹیکل 267: صدر کی مشکلات دور کرنے کا اختیار

آرٹیکل 267 اے: مشکلات دور کرنے کا اختیار

آرٹیکل 267 بی: شکوک کا ازالہ

آرٹیکل 268: مخصوص قوانین کا جاری رہنا اور ان میں موافقت

آرٹیکل 269: قوانین، افعال وغیرہ کی توثیق

آرٹیکل 270: مخصوص قوانین وغیرہ کی عارضی توثیق

آرٹیکل 270 اے: صدر کے احکامات وغیرہ کی توثیق

آرٹیکل 270 اے اے: قوانین وغیرہ کا اعلان اور جاری رہنا

آرٹیکل 270 اے اے اے: قوانین وغیرہ کی توثیق اور تصدیق

آرٹیکل 270 بی: آئین کے تحت ہوئے انتخابات سمجھے جانا

آرٹیکل 270 بی بی: عام انتخابات 2008ء

آرٹیکل 271: پہلی قومی اسمبلی

آرٹیکل 272: سینٹ کی پہلی تشکیل

آرٹیکل 273: پہلی صوبائی اسمبلی

آرٹیکل 274: جائیداد، اثاثے، حقوق، ذمہ داریوں اور فرائض کی منتقلی

آرٹیکل 275: پاکستان کی خدمات میں افراد کا عہدے پر برقرار رہنا وغیرہ

آرٹیکل 276: پہلے صدر کا حلف

آرٹیکل 277: (اقتدار کی) منتقلی کے وقت مالیاتی تسلسل

آرٹیکل 278: آغاز (اقتدار) کے دن سے پیشتر آڈٹ نہ ہونے والے اکاؤنٹس

آرٹیکل 279: ٹیکسز کا جاری رہنا

آرٹیکل 280: ہنگامی حالت کے اعلان کا جاری رہنا


اقسام مواد

دستور و قانون