مذاہب میں اسلام کی برتری چینی پروفیسر شوئے جیانگ کی تقابلی گفتگو
اسلام بطور ایک فکری و ذہنی انقلاب
اسلام کی اصل قوت اور خوبصورتی اس کی اِس غیر معمولی صلاحیت میں ہے کہ وہ انسانی تاریخ کی دو بڑی فکری روایتوں کو ایک وحدت میں سمو دیتا ہے۔
ایک طرف قدیم مشرکانہ یا دیومالائی روایت ہے، جس میں انسان کہانیوں، رسومات اور علامتوں کے ذریعے کائنات سے قربت محسوس کرتا تھا۔ وائی کنگز جیسی تہذیبوں میں دیوتاؤں کے تصور کے ساتھ ساتھ یہ تصور بھی موجود تھا کہ انسان کسی نہ کسی درجے میں کائنات پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔ اس روایت نے انسان کو جذباتی قرب، معنویت اور زندگی سے متعلق کر دیا تھا۔ اسلام نے اس قربت کو ختم نہیں کیا بلکہ ایک بالکل نئی سطح پر لے گیا۔ اسلام میں خدا الگ اور دور نہیں بلکہ ہر جگہ موجود ہے، سب کچھ جاننے والا ہے، اور انسان کے انتہائی قریب ہے۔ یوں خدا محض ایک فلسفیانہ تصور نہیں رہتا، بلکہ ایک زندہ حقیقت بن جاتا ہے، جسے محسوس کیا جا سکتا ہے۔
دوسری طرف اسلام خالص توحید کی سادگی، وضاحت، اور قطعیت کو بھی اختیار کرتا ہے۔ مشرکانہ نظام میں خداؤں کی کثرت انسان کو الجھن میں ڈال دیتی ہے کہ کس خدا کو راضی کیا جائے اور کس سے کیا تعلق رکھا جائے، جبکہ توحید میں تعلق نہایت واضح ہے: ایک خدا، ایک مرکز، ایک سمت۔ انسان جانتا ہے کہ کس پر ایمان رکھنا ہے اور کس کی اطاعت کرنی ہے۔ یہی وضاحت اسلام کو ایک عظیم فکری انقلاب بناتی ہے۔ مگر آج چونکہ یہ فکر جدید دنیا کی بنیادوں میں جذب ہو چکی ہے، اس لیے ہم اس کی انقلابی نوعیت کو اکثر بھول جاتے ہیں۔
جدیدیت کا آغاز اسلام سے ہوا
عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ جدیدیت کا آغاز یورپ میں ہوا، مگر اس تصور میں ایک بڑی تاریخی حقیقت نظرانداز ہو جاتی ہے۔ درحقیقت اسلام نے جدیدیت کی فکری بنیادیں بہت پہلے رکھ دی تھیں۔ اسلام نے خدائی پیغام کو مکمل کیا، بائبل کی روایت کو آگے بڑھایا، اور خدا کو انسان کے قریب لے آیا۔ اب خدا کو جانا جا سکتا تھا، سمجھا جا سکتا تھا، اور اس کے ساتھ براہِ راست تعلق قائم کیا جا سکتا تھا۔ یہی تصور بعد میں پروٹسٹنٹ فکر کی بنیاد بنا۔
اسی طرح اسلام میں دنیا کو بہتر بنانے کا تصور موجود ہے۔ سائنس محض تجسس کا نام نہیں بلکہ ایک اخلاقی ذمہ داری ہے، کیونکہ خدا انسان سے چاہتا ہے کہ وہ زمین کو بہتر بنائے۔ یہی فکر اسلامی سنہری دور کا باعث بنتی ہے، جہاں علم، سائنس، اور تحقیق محض دنیاوی مفاد نہیں بلکہ عبادت کا درجہ رکھتے ہیں۔ خدا پر گہرا ایمان اور اس کی وحدانیت ہی وہ قوت تھی جس نے مسلمانوں کو تخلیقی بلندیوں تک پہنچایا۔
یہودیت، عیسائیت، اسلام: ایک تقابلی جائزہ
ہر مذہبی روایت میں قوت بھی ہوتی ہے اور کمزوریاں بھی، اور یہی بات ان تینوں ابراہیمی مذاہب پر بھی صادق آتی ہے۔
یہودیت
یہودیت ایک عظیم ادبی اور تاریخی روایت رکھتی ہے۔ یہودی دنیا کی پہلی قوم ہیں جنہوں نے اپنی مکمل تاریخ قلم بند کی۔ تورات اور بائبل کی کہانیاں آج بھی ادب اور فکر کو متاثر کرتی ہیں۔ چونکہ مذہبی عمل کے لیے مطالعہ اور فہم ضروری تھا، اس لیے یہود میں علم، خواندگی، اور تعلیم کا گہرا احترام پیدا ہوا، جس کے اثرات ہمیں آج بھی علمی، قانونی، اور ثقافتی میدانوں میں نظر آتے ہیں۔ لیکن یہودی روایت میں تضادات بھی ہیں۔ بائبل میں بیانیے ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں، جس کی وجہ سے عام آدمی کے لیے ایک واضح پیغام اخذ کرنا مشکل ہو جاتا ہے، اسی لیے مذہبی پیشواؤں کی تشریح ناگزیر بن جاتی ہے۔ مزید یہ کہ بائبل میں پیش کیا گیا خدا بعض اوقات سخت، پرتشدد، اور غیر واضح نظر آتا ہے۔ جبکہ یہود کے ایک ’’منتخب قوم‘‘ ہونے کے باوجود مسلسل جلاوطنی اور مصائب کا سوال ایک گہرا فکری بحران پیدا کرتا ہے۔
عیسائیت
عیسائیت نے انہی مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی۔ خدا کو حضرت عیسیٰ کی صورت میں مجسم کر کے ایک قابلِ فہم، مہربان، اور اخلاقی نمونہ پیش کیا گیا۔ تاریخ کو ایک مقصد دیا گیا کہ جیسَس (حضرت عیسیٰ) کی واپسی ہو گی، اور موجودہ مصائب کو مستقبل کی نجات سے جوڑ دیا گیا۔ لیکن اس کے نتیجے میں نئے مسائل پیدا ہوئے۔ تثلیث جیسے تصورات عام انسان کے لیے ناقابلِ فہم بن گئے، اور خدا ایک بعید اور غیر محسوس حقیقت بن گیا جس تک براہِ راست رسائی ممکن نہ رہی۔
اسلام
اسلام نے یہودی اور عیسائی دونوں روایتوں کو اپنے اندر سمو کر ایک مربوط، واضح، اور مکمل نظام پیش کیا۔ یہاں خدا نہ تو متضاد ہے، نہ مجسم، بلکہ ہر جگہ موجود ہے۔ یہ خالص توحید ہے، ایسی توحید جو خدا کو انسان کے دل کے قریب لے آتی ہے۔ ایمان، عبادت، اور عمل کے ذریعے خدا انسان کے اندر آ جاتا ہے، اور یہی اندرونی تعلق زندگی کو مقصد، طاقت، اور سمت عطا کرتا ہے۔ اسلامی تعلیمات میں عمل کی وضاحت غیر معمولی حد تک صاف ہے۔ پانچ ارکانِ اسلام انسان کو بتاتے ہیں کہ اسے کیسے جینا ہے، کیا کرنا ہے، اور کس سمت میں بڑھنا ہے۔ یہی وضاحت اور سادگی وہ قوت بنی جس نے اسلامی سنہری دور کو پیدا دیا اور مسلمانوں کو علمی و سائنسی میدان میں سبقت دلائی۔
تاہم یہی شفافیت وقت کے ساتھ ایک مسئلہ بھی بن گئی۔ جب کسی روایت میں تضاد کم ہو تو نئے فکری زاویے پیدا ہونا مشکل ہو جاتا ہے۔ بائبل کی داخلی پیچیدگیاں ہی وہ عنصر تھیں جنہوں نے عیسائیت میں اصلاحِ مذہب جیسی تحریک کو جنم دیا۔ قرآن کی غیر معمولی وضاحت نے اگرچہ ابتدا میں تخلیقی قوت کو جنم دیا، مگر وقت کے ساتھ یہی وضاحت جمود میں بدلنے لگی۔ ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ اسلام خود کو تاریخ سے ماورا اور ابدی سچائی کے طور پر پیش کرتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بدلتے تاریخی حالات میں اس ابدی پیغام کی تعبیر کیسے کی جائے اور معاشرے کو کیسے بہتر بنایا جائے۔ جب تشریحات جامد ہو جائیں تو تخلیق کی جگہ تقلید لے لیتی ہے، اور یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں سنہری دور زوال کی طرف مڑنے لگتا ہے۔
(نوٹ: یہاں اسلام کے تصورِ اجتہاد کا کچھ تذکرہ ہو جاتا تو اس جمود کا باعث اسلامی تعلیمات نہیں بلکہ مسلمانوں کا طرزِ عمل قرار پاتا۔ ترجمان)
افلاطون اور ارسطو: دو فکری راستے
یہاں فلسفے کا کردار فیصلہ کن ہو جاتا ہے۔ یورپی دنیا نے افلاطون کو بنیاد بنایا، جبکہ مسلمان دنیا نے ارسطو کو اختیار کیا۔
افلاطون کے نزدیک اصل حقیقت ’’خیرِ مطلق‘‘ ہے جو کامل، غیر متغیر، اور ابدی ہے۔ دنیا محض اس کامل حقیقت کا ناقص سایہ ہے، اس لیے دنیا میں دکھ اور نقص ناگزیر ہیں۔ نجات کا راستہ اس دنیا سے کنارہ کشی، ریاضت، اور گناہ سے بچاؤ میں ہے۔ مسیحی مفکر آگسٹین نے اسی فکر کو عیسائیت میں ضم کر دیا، جہاں اصل مقصد محض خطا سے بچ کر آخرت کی نجات پانا بن گیا۔
اس کے برعکس ارسطو کے نزدیک خدا ’’محرکِ اول‘‘ ہے جو حرکت کو جنم دیتا ہے۔ کائنات مسلسل حرکت میں ہے، اور ہر شے کا ایک مقصد ہے جسے وہ ’’غایت‘‘ کہتا ہے۔ انسان کا کام یہ ہے کہ وہ اپنے مقصد کو پہچانے اور مسلسل عمل کے ذریعے اسے پورا کرے۔ مشاہدے، تجربے، اور سائنسی تحقیق کی بنیاد یہی فکر بنتی ہے۔مسلمانوں نے ارسطوئی فکر کو اپنایا، اور یہی وجہ ہے کہ سائنس، طب، فلکیات، اور فلسفے میں غیر معمولی ترقی ہوئی، جبکہ یورپ افلاطونی جمود میں پھنسا رہا۔
یورپی دنیا کا اَحیا
وقت کے ساتھ یورپ نے مسلمانوں سے سیکھا۔ نشاۃِ ثانیہ میں ارسطو دوبارہ دریافت ہوا، اصلاحِ مذہب میں خدا کو دوبارہ انسان کے قریب لایا گیا، اور سائنسی انقلاب میں تجربہ اور مشاہدہ مرکزی حیثیت اختیار کر گئے۔ یہ تینوں عناصر وہی تھے جو کبھی اسلامی دنیا کی قوت تھے۔ فرق یہ تھا کہ یورپ نے ایسے ادارے قائم کر لیے جو جمود کو توڑ سکتے تھے۔ بحث، تنقید، اور اختلاف کو منظم طریقے سے فروغ دیا گیا، تاکہ ہر نیا نظریہ سوال کی کسوٹی پر پرکھا جا سکے، یہی عمل جدید دنیا کی بنیاد بنا۔
نتیجہ
مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسلامی سنہری دور محض تاریخ کا ایک روشن باب نہیں بلکہ انسانی جدیدیت کا ابتدائی خاکہ تھا۔ یورپ نے جن عناصر کے ذریعے جدید دنیا تشکیل دی، ان کی فکری بنیادیں اسلام میں پہلے سے موجود تھیں۔ اسی لیے اسلامی سنہری دور کو انسانی تاریخ کی ابتدائی جدیدیت (Proto-Modernity) کہنا محض دعویٰ نہیں بلکہ ایک مضبوط فکری موقف ہے۔