بوریت کیوں ضروری ہے؟

ڈاکٹر آرتھر بروکس (Arthur Brooks) ہارورڈ یونیورسٹی میں پروفیسر، ایک مشہور سماجی سائنسدان اور "دی اٹلانٹک" کے کالم نگار ہیں۔ وہ خوشی اور انسانی فلاح و بہبود (Happiness and Wellbeing) کے موضوع پر دنیا کے صفِ اول کے ماہرین میں شمار کیے جاتے ہیں۔ ان کی تحقیق کا محور یہ ہے کہ انسان کس طرح اپنی عادات اور طرزِ زندگی میں تبدیلی لا کر ایک بامقصد اور خوشحال زندگی گزار سکتا ہے۔ بوریت (Boredom) کی اہمیت اور فوائد پر مبنی ڈاکٹر آرتھر کی ایک گفتگو کا اردو خلاصہ یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔

بوریت کی ضرورت اور دماغی نیٹ ورک

ڈاکٹر بروکس کے مطابق آپ کا بور ہونا آپ کی زندگی کے لیے نہایت ضروری ہے۔ اگر آپ کبھی بور نہیں ہوتے تو آپ کی زندگی سے مقصدیت ختم ہو جائے گی اور آپ ڈپریشن کا شکار ہو سکتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ جب ہم کسی کام میں مصروف نہیں ہوتے تو ہمارے دماغ کا ایک مخصوص حصہ متحرک ہوتا ہے، جسے "ڈیفالٹ موڈ نیٹ ورک" (Default Mode Network) کہا جاتا ہے۔ یہ نظام تب کام شروع کرتا ہے جب ہمارے پاس سوچنے کے لیے کوئی خاص چیز نہیں ہوتی، جیسے کہ ٹریفک سگنل پر فون کے بغیر کھڑے ہونا۔

ہم بوریت سے کیوں ڈرتے ہیں؟

انسانی فطرت بوریت سے گھبراتی ہے۔ ہارورڈ میں کی گئی ایک تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر بروکس بتاتے ہیں کہ جب لوگوں کو 15 منٹ تک ایک خالی کمرے میں کچھ کیے بغیر بٹھایا گیا، تو ان میں سے اکثریت نے بور ہونے کے بجائے خود کو "الیکٹرک شاک" (بجلی کا جھٹکا) دینا پسند کیا۔ ہم بوریت سے اس لیے بھاگتے ہیں کیونکہ "ڈیفالٹ موڈ نیٹ ورک" ہمیں وجودی سوالات (Existential Questions) کی طرف لے جاتا ہے، جیسے: ’’میری زندگی کا مقصد کیا ہے؟‘‘ یہ سوالات ہمیں بے چین کر دیتے ہیں۔

ٹیکنالوجی کا نتیجہ، مقصدیت کے زوال کی صورت میں

آج کل ڈپریشن اور بے چینی میں اضافے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے بوریت کو ختم کر دیا ہے۔ ہماری جیب میں موجود سمارٹ فون نے "ڈیفالٹ موڈ نیٹ ورک" کو خاموش کر دیا ہے۔ ہم 15 سیکنڈ کا انتظار بھی نہیں کر سکتے اور فوراً فون نکال لیتے ہیں۔ ڈاکٹر بروکس اسے "معنی کا تباہ کن چکر" (Doom Loop of Meaning) کہتے ہیں۔ جب بھی آپ بوریت سے بچنے کے لیے فون اٹھاتے ہیں، آپ کے لیے زندگی کے گہرے معنی تلاش کرنا مشکل تر ہوتا جاتا ہے، جس سے زندگی میں کھوکھلا پن پیدا ہوتا ہے۔

بغیر ڈیوائس کے وقت گزارنے کا چیلنج

ڈاکٹر بروکس مشورہ دیتے ہیں کہ جب آپ ورزش کے لیے جائیں، یا سفر کریں، تو اپنا فون دور رکھیں اور سننے کے لیے بھی کچھ نہ لگائیں. صرف اپنے خیالات کے ساتھ رہیں۔ ان کا یقین ہے کہ زندگی کے بہترین اور دلچسپ خیالات تبھی آئیں گے جب آپ ڈیوائسز سے دور رہیں گے۔ 15 منٹ یا اس سے زیادہ کی بوریت کی عادت ڈالیں، اس سے نہ صرف آپ کی کام اور رشتوں میں دلچسپی بڑھے گی، بلکہ آپ زندگی کی حقیقت اور مقصد کو بہتر طور پر سمجھ سکیں گے۔

ڈاکٹر بروکس کے ذاتی اصول

وہ بتاتے ہیں کہ وہ خود بھی ان مسائل کا شکار ہو سکتے ہیں، اس لیے وہ چند سخت اصولوں (Protocols) پر عمل کرتے ہیں:

  • شام 7 بجے کے بعد کوئی ڈیوائس نہیں: وہ فون کے بغیر سوتے ہیں۔
  • کھانے کے دوران فون کی ممانعت: فیملی کے ساتھ وقت گزارتے ہوئے فون میز پر نہیں ہوتا۔
  • سوشل میڈیا سے دوری (Cleanses): وہ باقاعدگی سے کچھ وقت کے لیے سوشل میڈیا چھوڑ دیتے ہیں۔ شروع میں عادت کے پورا نہ ہونے کی وجہ سے بے چینی ہوتی ہے، لیکن بالآخر وہ ذہنی سکون محسوس کرتے ہیں۔

نصیحت

لوگ اکثر ایمرجنسی کا عذر پیش کرتے ہیں، لیکن ڈاکٹر بروکس کا کہنا ہے کہ ٹویٹر پر کیا ہو رہا ہے یا واشنگٹن کی خبریں کیا ہیں، یہ ہنگامی حالات نہیں ہیں۔ اپنے فون کو ایک طرف رکھیں، خاص طور پر اپنے بچوں کے لیے وہ یہی پیغام دیتے ہیں: ’’فون سے دور رہیں، آپ کو اور مجھے، ہم سب کو زندگی میں مزید معنی اور مقصد کی ضرورت ہے۔‘‘

https://youtu.be/orQKfIXMiA8