امریکہ نے عالمی قیادت کا مقام کھو دیا ہے
گفتگو کا تعارف
یہ خلاصہ "سنٹر سٹیج" نامی پروگرام کی ایک اشاعت پر مبنی ہے جو "الجزیرہ انگلش" یوٹیوب چینل پر نشر ہوا ہے۔ اس گفتگو میں میزبان سیرل وانیے نے مہمان رائے کاساگراندا سے موجودہ عالمی سیاست، امریکہ کے بڑھتے ہوئے "سخت قوت" کے رویے، ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی نظام سے انخلا کی پالیسیوں، اور امریکی "نرم قوت" کے زوال جیسے اہم موضوعات پر سوالات کیے۔ مہمان نے ان سوالات کے جواب میں موجودہ دور کو 1930ء کی دہائی کے عالمی بحران سے تشبیہ دیتے ہوئے ایک "تاریک" مستقبل کی تصویر پیش کی۔ سوالات اور جوابات کا خلاصہ کچھ اس طرح ہے:
سخت قوت اور نرم قوت کا موازنہ
میزبان: موجودہ دنیا میں عسکری اور معاشی قوت (سخت قوت) کو زیادہ اہمیت مل رہی ہے، جبکہ اقدار اور نظریات (نرم قوت) بے معنی ہو چکے ہیں، اور ڈونلڈ ٹرمپ اس تبدیلی کا مرکز ہیں۔
مہمان: سخت قوت کا غلبہ ٹرمپ سے شروع نہیں ہوا بلکہ ریگن اور بش جونیئر کی عراق جنگ جیسے واقعات سے کئی دہائیوں سے جاری تھا، جس سے عالمی نظام بکھر گیا۔ ٹرمپ نے صرف اس بکھرے ہوئے نظام کو مزید جارحانہ طریقے سے استعمال کیا، جیسا کہ ان کی طرف سے ٹیرف اور دھمکیوں کا استعمال ایک "مافیا ڈان" کی طرح ہے۔
میزبان: جوزف نائے کے نظریے کے مطابق کیا امریکہ کے پاس کبھی نرم قوت تھی؟ کیا ٹرمپ کے دور میں یہ باقی ہے؟ امریکہ کو ہمیشہ "اچھائی کی طاقت" اور جمہوریت کا علَم بردار کہا گیا۔
مہمان: امریکہ کے پاس نرم قوت کا نعرہ تو تھا مگر ویتنام، عراق، اور 77 سالہ اسرائیلی مظالم کی حمایت کے عملی کردار نے ہمیشہ اس دعوے کی تردید کی۔
امریکہ ایک زوال پذیر سلطنت
میزبان: کیا امریکہ کی موجودہ کہانی کسی زوال پذیر سلطنت کی طرح ہے؟
مہمان: امریکہ عالمی قیادت کا کردار کھو چکا ہے۔ ٹرمپ شطرنج کے میدان میں چیکرز کھیل رہے ہیں اور ان کی یہ حکمتِ عملی بین الاقوامی سطح پر خطرناک عدمِ استحکام پیدا کر رہی ہے۔
امریکہ کا رفاہی کردار
میزبان: USAID جیسے ادارے جو امریکی نرم قوت کی علامت تھے، ٹرمپ نے ان کے کام میں رکاوٹ ڈالی۔ امریکہ نے ایسا کر کے کیا کھویا ہے؟
مہمان: امریکہ کی امداد کبھی بھی سویڈن جیسے ملکوں کی طرح فراخدلانہ نہیں رہی، اور اس کا بڑا حصہ ہمیشہ فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہوتا رہا، جیسے مصر، کولمبیا اور اسرائیل وغیرہ کے لیے فوجی امدادیں، جس سے امریکہ کی ساکھ کمزور ہوئی۔
عالمی قیادت کا خلا
میزبان: امریکہ کے پیچھے ہٹنے پر عالمی خلا کون پُر کرے گا؟ چین؟ یورپ؟ میزبان کے مطابق یورپ کے پاس نہ متحد سیاسی ڈھانچہ ہے، نہ فوج۔
مہمان: سب سے واضح امیدوار چین ہے جو معاشی طاقت رکھتا ہے۔ یورپ کو لازمی طور پر اپنی فوج قائم کرنی چاہیے کیونکہ امریکہ اب ناقابلِ اعتماد ثابت ہو چکا ہے۔
عالمی فورمز سے انخلا
میزبان: ٹرمپ کا عالمی اداروں جیسے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اور پیرس معاہدہ سے نکلنے کا کیا اثر ہوا؟ کیا دنیا غیر مستحکم ہوئی؟ کیا اداروں کی ناکامی، جیسے یوکرین اور غزہ میں جنگ نہ رکوا سکنا، ٹرمپ کے اس دعوے کو تقویت دیتی ہے کہ طاقتور رہنماؤں کو خود فیصلہ کرنا چاہیے؟
مہمان: عالمی اداروں کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ خود امریکہ ہے جو انہیں سبوتاژ کرتا رہا ہے۔ ٹرمپ نے دنیا کے بڑے خطرے، موسمی تبدیلیوں، کو سرمایہ دار طبقے کی حرص کے ہاتھوں قربان کر دیا۔
عالمی قانون کی بے اثری
میزبان: بین الاقوامی قانون اور ادارے (ICC، ICJ) عملی دنیا میں بے اثر ہیں۔ امریکہ نے ICC پر پابندیاں لگائیں، ICJ کے فیصلوں کو تسلیم کرنے سے انکار کیا، اور سلامتی کونسل میں اسرائیل کے حق میں 49 بار ویٹو استعمال کیا۔
مہمان: امریکہ کا یہ رویہ ہی دنیا کو بتاتا ہے کہ وہ عالمی قانون کا پابند نہیں ہے۔ ٹرمپ کا "ڈیپارٹمنٹ آف ڈیفنس" کا نام بدل کر "ڈیپارٹمنٹ آف وار" رکھنا دراصل امریکی رویے کی سچی عکاسی ہے۔
امریکی داخلی سیاست میں تشدد
میزبان: چارلی کرک کے قتل اور ٹرمپ پر حملوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا میں تشدد پر مبنی سیاست بڑھ رہی ہے؟
مہمان: سیاسی تشدد نیا نہیں مگر موجودہ شدت یہ ظاہر کرتی ہے کہ امریکہ دوبارہ 1850ء کی طرز پر تقسیم ہو رہا ہے، جہاں لوگ نظریاتی اختلاف کی بنیاد پر اپنے رہائشی علاقے بدل رہے ہیں۔
مستقبل کا منظر نامہ
میزبان: کیا یہ دور ایک وقتی خلل ہے، یا کسی بڑے اور تاریک رجحان کا تسلسل؟
مہمان: ابھرتے ہوئے رجحانات (دائیں بازو کی طاقت، اداروں کا زوال، عالمی قانون کی بے اثری) واضح طور پر 1930ء کی دہائی کی واپسی محسوس ہوتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ اب دنیا عظیم کساد بازاری میں نہیں، مگر رویے جنگِ عظیم دوم سے پہلے والے ہیں۔ انہوں نے دنیا کے مستقبل کو "بہت خوفناک" اور "تاریک" قرار دیا، جب تک کہ دولت مند ممالک قربانی نہیں دیتے۔