امریکہ پاکستان کو نہیں چھوڑ سکتا

(ڈینئل مارکی کی تصنیف ’’نو ایگزٹ فرام پاکستان‘‘ پر معروف دانشور اوریا مقبول جان کی گفتگو کا خلاصہ)

ڈینیل مارکی کی کتاب ’’نو ایگزٹ فرام پاکستان‘‘ امریکہ میں شائع ہونے کے چھ سات سال بعد 2022ء کے دوران پاکستان میں شائع ہوئی ہے۔ یہ 9/11 کے بعد پاکستان کے حوالے سے لکھی گئی اہم ترین کتب میں سے ایک ہے۔ مصنف ڈینیل مارکی امریکہ کے اہم تھنک ٹینکس میں شمار ہوتے ہیں جو پاکستان، بھارت، افغانستان اور چین کے امور پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

جیسا کہ کتاب کا عنوان بتاتا ہے کہ امریکہ کبھی پاکستان کو نہیں چھوڑ سکتا، اور پاکستان اس کی مجبوری ہے، امریکہ نے 72 سال پہلے پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کے دورِ وزارت میں دو بنیادی اصول طے کر لیے تھے، اور یہی دو اصول بعد میں آنے والے تمام امریکی پالیسی فیصلوں کی بنیاد بنے:

  1. پاکستان کو کسی بھی صورت خطے میں ترقی یافتہ اور قائدانہ ملک بننے نہ دیا جائے۔
  2. پاکستان کو کبھی بھی عالمِ اسلام کی قیادت پر فائز نہ ہونے دیا جائے۔

کتاب میں امریکہ کے لیے پاکستان کو ’’نہ چھوڑنے‘‘ کی تین بڑی وجوہات بیان کی گئی ہیں:

  1. امریکہ کے نزدیک پاکستان کا ایٹمی پروگرام بہت وسیع ہے اور اسے کنٹرول میں لانا مشکل ہے۔ امریکہ اس پر اپنی نگرانی برقرار رکھنا ضروری سمجھتا ہے۔
  2. پاکستان اور چین کے درمیان گہرے سیکیورٹی اور سفارتی تعلقات امریکہ کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔ امریکہ کو خدشہ ہے کہ پاکستان کسی بھی وقت مکمل طور پر چین کے دائرہ اثر میں جا سکتا ہے، جس سے خطے میں امریکہ کے لیے توازن بگڑ جائے گا۔
  3. پاکستان کے پاس مضبوط، تربیت یافتہ اور جدید اسلحہ سے لیس سات لاکھ فوج ہے۔ اگر پاکستان غیر مستحکم ہوا تو یہ فوج نہ صرف خطے بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں تباہی پھیلا سکتی ہے۔ اس لیے امریکہ اس فوج کی قیادت پر کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے۔

کتاب میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکہ پاکستان کو 73 ارب ڈالر کی امداد دے چکا ہے، لیکن پاکستانی عوام میں امریکہ سے نفرت کم نہیں ہوئی۔ اس کی وجہ تاریخی طور پر پاکستان میں چلنے والی سامراج مخالف اور امریکہ مخالف تحریکیں ہیں جس میں اپنے وقت کے نامور شعراء کا بھی بہت اہم کردار ہے جیسے ساحر لدھیانوی اور فیض احمد فیض کے علاوہ بہت سے جوان شعراء کا اس نوعیت کا کلام ہے۔ جبکہ ذوالفقار علی بھٹو کا ابتدائی دور کا امریکہ مخالف اور بھارت مخالف امیج بھی اس کا حصہ تھا۔

پاکستان کی طرف سے امریکہ کے متعلق اہم مواقع پر بے وفائی کا جو الزام ہے اس کے متعلق امریکہ کا موقف ہے کہ مثلاً‌ 1965ء کی جنگ پاکستان نے ہم سے پوچھ کر نہیں شروع کی تھی۔ اسی طرح 1971ء کی جنگ پاکستان کے اپنے کرتوتوں کا نتیجہ تھی۔ تاہم 1971ء کی جنگ میں بنگلہ دیش بننے کے بعد جب بھارت نے مغربی پاکستان کی طرف پیش قدمی کی، تو امریکہ نے یہ محسوس کرتے ہوئے کہ پاکستان کے زوال کا مطلب خطے میں اس کے اپنے اثرورسوخ کا خاتمہ ہوگا، بھارت کو جنگ بندی پر مجبور کر کے پاکستان کو بچانے کی کامیاب کوشش کی تھی۔

کتاب کے مطابق، امریکہ اپنے مقاصد کے لیے پاکستان میں سیاسی لیڈروں، فوجی جرنیلوں، سول بیوروکریسی، صحافیوں اور دانشوروں کو ’’خریدنے‘‘ کی پالیسی پر عمل کرتا ہے۔ مصنف کا دعویٰ ہے کہ بہت سے پاکستانی اپنی کم قیمت لگاتے ہیں، جیسے پانچ سالہ امریکی ویزا یا بچوں کی تعلیم کے لیے سکالرشپس وغیرہ۔

پاکستان پر امریکہ کا اعتراض ہے کہ وہ امریکی امداد کو بھارت کے خلاف استعمال کرتا ہے، چین کے ساتھ تعلقات میں کسی قسم کی رکاوٹ قبول نہیں کرتا، اور افغانستان میں جاری عسکری سرگرمیوں میں مسلسل ملوث رہتا ہے۔

امریکہ کے لیے سب سے بڑا خطرہ پاکستان کی نئی نسل ہے جو ایک طرف امریکی معیارِ زندگی اور نظامِ تعلیم سے متاثر ہے، تو دوسری طرف امریکہ کو اس کی غاصبانہ پالیسیوں کے حوالے سے بہت اچھی طرح جان چکی ہے، نیز اسے جنگوں کے حوالے سے امریکی تاریخ کا بھی علم ہے، جیسے ویتنام اور لاطینی امریکہ میں سرگرمیاں وغیرہ۔ امریکہ سمجھتا ہے کہ پاکستان کی نئی نسل کسی جذباتی رہنما کے پیچھے چل کر امریکہ کے خلاف کھڑی ہو سکتی ہے۔ کتاب میں 1979ء میں اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے پر حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ امریکہ کو خدشہ ہے کہ پاکستان میں ایک ایسی عوامی تحریک اٹھ سکتی ہے جو کسی بھی حکومت کو امریکہ کے حق میں اقدامات سے روک دے۔

جب 2022ء میں جب یہ کتاب پاکستان میں شائع ہوئی تھی تو امریکہ اس وقت تک دنیا بھر میں 70 سے زیادہ حکومتیں تبدیل کر چکا تھا۔ اسی سال اپریل میں پاکستان کے اندر عمران خان کی حکومت گرائی گئی، جو کہ اسی امریکی رویے کا تسلسل ہے۔

کتاب کے آخر میں مصنف نے امریکی پالیسی سازوں کو پاکستان کے حوالے سے یہ حل پیش کیا ہے کہ:

  1. پاکستان کے ساتھ تعلقات صرف دہشت گردی کے تناظر میں محدود رکھے جائیں۔ یعنی ہمارے لیے لڑو گے تو ساتھ دیں گے، ورنہ نہیں۔
  2. تعلقات صرف فوج کے ساتھ رکھے جائیں اور وہ بھی دہشت گردی کے حوالے سے محدود پیمانے پر ہوں، فوج کی تعمیر و ترقی کے لیے نہیں۔
  3. امریکہ کبھی بھی پاکستان کو خوشحال اور مضبوط ملک نہیں دیکھنا چاہتا، چاہے خوشحال پاکستان اس کے اپنے مفاد میں ہی کیوں نہ ہو۔

اوریا مقبول جان کے مطابق یہ ایک اہم کتاب ہے جس کا شاید اردو ترجمہ بھی آ چکا ہے۔ ان کا مشورہ ہے کہ پاکستانی قوم کو اس کتاب کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے تاکہ امریکہ کے پاکستان کے بارے میں بنیادی تصورات اور عزائم کو سمجھا جا سکے۔

https://youtu.be/LLKz4ZdnEuE