قائد اعظم کے افکار اور آج کا پاکستان

(علامہ صاحب کے ۲۰۰۴ء کے ایک خطاب کا خلاصہ)

علامہ ڈاکٹر طاہر القادری نے اپنے خطاب کا آغاز بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سے کرتے ہوئے صدرِ مجلس، قومی قیادت اور معزز حاضرین کو مخاطب کیا۔ انہوں نے میر خلیل الرحمٰن میموریل سوسائٹی کے اس علمی و فکری کردار کو سراہا جو مسلسل قومی سطح کے اہم معاملات پر غور و فکر اور مکالمے کے مواقع فراہم کرتی ہے۔ ان کے نزدیک ایسے فورمز اہلِ دانش کو باہمی خیالات کے تبادلے اور مختلف زاویہ ہائے نظر سننے کا قیمتی موقع دیتے ہیں، جو فکری بالیدگی کے لیے ناگزیر ہے۔ علامہ صاحب نے واضح کیا کہ ان کی گفتگو دو حصوں پر مشتمل ہو گی: 

  1. پہلے حصے میں وہ قائد اعظم محمد علی جناح کے افکار کی روشنی میں اُس پاکستان کے تصور کو واضح کریں گے جس کی بنیاد انہوں نے رکھی، اور جس کے لیے تاریخ ساز جدوجہد کی گئی۔ 
  2. دوسرے حصے میں آج کے پاکستان کا جائزہ پیش کیا جائے گا تاکہ دونوں کے درمیان تقابلی مطالعہ ممکن ہو سکے اور انحراف کے مقامات نمایاں ہو سکیں۔

’’قراردادِ مقاصد‘‘: قائد اعظم کے افکار کا آئینی اظہار

علامہ ڈاکٹر طاہر القادری کے مطابق قوم کے پاس اس وقت سب سے مستند دستاویز 1973ء کا آئینِ پاکستان ہے، اور اگر قائد اعظم کے افکار کو کسی ایک جامع مقام پر تلاش کیا جائے تو وہ قراردادِ مقاصد میں سمٹ کر سامنے آتے ہیں۔ یہ قرارداد محض ایک دیباچہ نہیں بلکہ قائد اعظم کے تصورِ پاکستان کی آئینی صورت ہے۔ علامہ صاحب اس بات پر زور دیتے ہیں کہ جب تک ہم قائد اعظم کے اس تصور کو کلیت کے ساتھ سامنے نہیں رکھتے، اس وقت تک موجودہ پاکستان کے مسائل اور ان کی جڑ کو سمجھنا ممکن نہیں۔ 

عوامی حاکمیت اور جمہوری ریاست کا تصور

قراردادِ مقاصد کی پہلی بنیادی شق کے مطابق ریاست اپنی تمام تر طاقت اور اختیار عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال کرے گی۔ علامہ ڈاکٹر طاہر القادری اس نکتے کو قائد اعظم کے جمہوری وژن کا مرکزی ستون قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک قائد اعظم ایک ایسی ریاست کے قائل تھے جہاں پارلیمنٹ حقیقی معنوں میں مقتدر ادارہ ہو اور اقتدار کا سرچشمہ عوام ہوں، نہ کہ کوئی غیر منتخب قوت۔

اسلامی طرزِ حیات اور اقلیتوں کی آئینی ضمانت

علامہ صاحب کے مطابق قائد اعظم کے تصورِ پاکستان میں اسلامی طرزِ زندگی کو بنیادی حیثیت حاصل تھی۔ مسلمانوں کو انفرادی اور اجتماعی سطح پر قرآن و سنت کے مطابق زندگی گزارنے کا حق حاصل ہو، جبکہ غیر مسلم اقلیتوں کے مذہبی، سماجی اور شہری حقوق کی مکمل ضمانت دی جائے۔ وہ واضح کرتے ہیں کہ یہ تصور تنگ نظری یا جبر پر مبنی نہیں بلکہ جدید دنیا کے تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ ایک ایسا اسلامی فریم ورک پیش کرتا ہے جو انسانی ارتقا، آزادی اور وقار کو یکجا کرتا ہے۔

بنیادی حقوق، مساوات، سماجی انصاف

علامہ ڈاکٹر طاہر القادری اس امر پر زور دیتے ہیں کہ قائد اعظم ایک ایسا معاشرہ چاہتے تھے جس کی بنیاد قانون کے سامنے مساوات، مواقع کی برابری، اور سماجی و معاشی و سیاسی انصاف پر ہو۔ امتیازی قوانین، طبقاتی تفریق اور طاقت کی بنیاد پر مراعات قائد اعظم کے تصورِ ریاست سے مطابقت نہیں رکھتیں۔

عدلیہ کی آزادی اور مقننہ کی خودمختاری

قائد اعظم کے افکار میں عدلیہ کی آزادی کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ علامہ صاحب کے مطابق قائد اعظم چاہتے تھے کہ عدلیہ ہر قسم کے سیاسی، عسکری اور انتظامی دباؤ سے مکمل طور پر آزاد ہو۔ پارلیمنٹ بالادست ہو، مگر عدلیہ انصاف کی فراہمی میں کسی اثر و رسوخ کو خاطر میں نہ لائے۔

قومی خودمختاری اور اقتدارِ اعلیٰ

علامہ ڈاکٹر طاہر القادری اس نکتے کو نہایت اہم قرار دیتے ہیں کہ قائد اعظم نے پاکستان کے لیے مکمل خودمختاری کا تصور دیا۔ زمین، فضا اور سمندر — سب پر قومی اقتدارِ اعلیٰ غیر مشروط ہو، اور کسی عالمی طاقت کو مداخلت کی اجازت نہ ہو۔ یہ خودمختاری محض نعرہ نہیں بلکہ ایک عملی، دفاعی اور سیاسی اصول تھا۔

خارجہ پالیسی: خودداری، غیر جانبداری، انصاف

علامہ صاحب قائد اعظم کی خارجہ پالیسی کو اصولی اور غیر جانبدار قرار دیتے ہیں۔ قائد اعظم بڑی طاقتوں کی باہمی کشمکش کا حصہ بننے کے قائل نہیں تھے۔ ان کے نزدیک عالمی طاقتیں ہمیشہ اپنے مفادات کے تحت نظریات، جنگیں اور بیانیے تشکیل دیتی ہیں، اس لیے پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی دیانت، عدل اور اپنے جغرافیائی و سیاسی مفادات کے مطابق تشکیل دینی چاہیے۔

محکوم اقوام کی حمایت اور عالمی انصاف

علامہ ڈاکٹر طاہر القادری کے مطابق قائد اعظم نے کشمیر، فلسطین اور دیگر محکوم قوموں کی جدوجہدِ آزادی کو جائز قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک بنیادی اصول یہ ہونا چاہیے کہ وہ مظلوم اقوام کے ساتھ اخلاقی، سفارتی اور سیاسی سطح پر کھڑا ہو۔

اسلامی تشخص پر غیر معذرت خواہانہ موقف

علامہ صاحب اس پہلو کو خصوصی اہمیت دیتے ہیں کہ قائد اعظم اپنے اسلامی تشخص پر کبھی معذرت خواہ نہیں رہے۔ وہ جرات، وضاحت اور اعتماد کے ساتھ اسلامی اقدار کا دفاع کرتے تھے۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے جواب میں انہوں نے واضح کیا کہ مذہبی رواداری کی اصل بنیاد رسول اکرم ﷺ کے اسوۂ حسنہ میں ہے، نہ کہ کسی بعد کے تاریخی نمونے میں۔

اسلامی معاشی نظام کا تصور

اسٹیٹ بینک کے افتتاح کے موقع پر قائد اعظم کے خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے علامہ ڈاکٹر طاہر القادری واضح کرتے ہیں کہ مغربی سرمایہ دارانہ معاشی نظام کی نقالی پاکستان کے مسائل کا حل نہیں۔ قائد اعظم ایک ایسے معاشی نظام کے خواہاں تھے جو اسلامی اصولِ اخوت، عدل اور سماجی انصاف پر مبنی ہو، اور جو انسانیت کو تباہی سے بچانے کا ذریعہ بن سکے۔

جمہوریت، مشاورت، آزادئ رائے

علامہ صاحب قائد اعظم کے جمہوری کردار کو نمایاں کرتے ہوئے مسلم لیگ کونسل کے اجلاس کا حوالہ دیتے ہیں، جہاں قائد اعظم نے ہر رکن کو بلا خوف اپنی رائے کے اظہار کی تلقین کی۔ ان کے نزدیک حقیقی جمہوریت اختلافِ رائے کے احترام کے بغیر ممکن نہیں۔

داخلی خرابیاں: بدعنوانی، بدامنی، امتیاز

علامہ ڈاکٹر طاہر القادری کے مطابق قائد اعظم نے قیامِ پاکستان کے فوراً بعد تین بنیادی خطرات کی نشاندہی کی تھی: بدامنی، کرپشن اور امتیازی پالیسیاں۔ انہوں نے واضح کیا تھا کہ کرپشن محض ایک اخلاقی برائی نہیں بلکہ سماجی، معاشی اور ریاستی تباہی کی جڑ ہے، اور اس کے خاتمے کے لیے سخت اور غیر امتیازی اقدامات ناگزیر ہیں۔

آج کا پاکستان: قائد اعظم کے تصور سے انحراف

علامہ صاحب نہایت درد مندی سے موجودہ پاکستان کا جائزہ لیتے ہیں۔ ان کے مطابق عدلیہ، پارلیمنٹ اور جمہوری ادارے اپنی آئینی آزادی کھو چکے ہیں، اور جمہوریت ایک نمائشی ڈھانچے میں تبدیل ہو چکی ہے۔ قائد اعظم کے افکار کو تقریروں اور نعروں تک محدود کر دیا گیا ہے، جبکہ عملی سطح پر ان کی نفی ہو رہی ہے۔ علامہ ڈاکٹر طاہر القادری ایک ذاتی واقعے کے ذریعے اس تلخ حقیقت کو آشکار کرتے ہیں کہ کرپشن کس حد تک نظام میں سرایت کر چکی ہے۔ وہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ جب تک ریاستی ادارے اپنے آئینی کردار کی طرف واپس نہیں آتے، اور قائد اعظم کے افکار کو عملی صورت میں نافذ نہیں کیا جاتا، پاکستان ان کے تصور کا پاکستان نہیں بن سکتا۔

امریکہ کا عالمی کردار: طاقت، مداخلت، دوہرا معیار

علامہ ڈاکٹر طاہر القادری اپنے خطاب کے دوران امریکہ کے عالمی کردار پر نہایت دوٹوک اور تنقیدی انداز میں گفتگو کرتے ہیں۔ ان کے مطابق دنیا میں جس طاقت کو آج ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘، ’’جمہوریت کے فروغ‘‘، ’’انسانی حقوق‘‘ اور ’’عالمی امن‘‘ کا سب سے بڑا علمبردار بنا کر پیش کیا جاتا ہے، اس کا عملی کردار ان نعروں کی صریح نفی کرتا ہے۔ وہ اس امر کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ پچھلی کئی دہائیوں میں امریکہ نے درجنوں ممالک میں براہِ راست یا بالواسطہ سیاسی اور عسکری مداخلت کی، جس کے نتیجے میں ان ریاستوں کی خودمختاری، جغرافیائی سالمیت، اور عوامی رائے کو پامال کیا گیا۔

علامہ صاحب کے مطابق عالمی طاقتوں، بالخصوص امریکہ، کے نزدیک اصل اور بالادست قانون صرف ان کا قومی مفاد ہوتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قوانین اور اجتماعی عالمی فیصلے اس وقت تک قابلِ احترام سمجھے جاتے ہیں جب تک وہ ان مفادات سے متصادم نہ ہوں۔ جیسے ہی عالمی ضمیر کسی فیصلے پر متفق ہو کر طاقتور ممالک کے مفاد کے خلاف کھڑا ہوتا ہے، ویٹو پاور کے ذریعے پوری دنیا کے اجتماعی فیصلے کو بے معنی بنا دیا جاتا ہے۔ اس طرزِ عمل کے نتیجے میں دنیا بھر میں محرومی، بے چینی اور شدید غصہ پیدا ہوتا ہے، جو بالآخر انتہاپسندی اور تشدد کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ 

علامہ ڈاکٹر طاہر القادری اس نکتے پر زور دیتے ہیں کہ جب محکوم اقوام—جیسے فلسطین اور کشمیر—اپنے حقِ خود ارادیت کے لیے جدوجہد کرتی ہیں تو انہیں ’’دہشت گرد‘‘ قرار دیا جاتا ہے، حالانکہ تاریخ اور بین الاقوامی قانون میں آزادی کی جدوجہد کو طویل عرصے تک ایک جائز War of Independence تسلیم کیا جاتا رہا ہے۔ وہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر طاقتور ممالک خود مسلسل فوجی مداخلت، حکومتوں کے تختے الٹنے، اور ریاستی نظام توڑنے کے مجاز سمجھے جاتے ہیں، تو پھر مظلوم اقوام کی مزاحمت کو کس اخلاقی اصول کے تحت دہشت گردی کہا جاتا ہے؟

علامہ صاحب کے نزدیک اس عالمی دوہرے معیار کو سمجھے بغیر نہ تو دہشت گردی کے مسئلے کی اصل جڑ تک پہنچا جا سکتا ہے، اور نہ ہی پائیدار عالمی امن قائم ہو سکتا ہے۔ وہ اس بات پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں کہ مسلم دنیا، بالخصوص پاکستان، اکثر اس عالمی بیانیے کا حصہ بن جاتی ہے جو طاقتور ریاستوں نے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے تشکیل دیا ہوتا ہے۔ قائد اعظم کے تصورِ خارجہ پالیسی کے برخلاف، ہم بڑی طاقتوں کی جنگوں میں فریق بن کر اپنے داخلی استحکام، خودمختاری اور قومی وقار کو داؤ پر لگا دیتے ہیں۔

علامہ ڈاکٹر طاہر القادری اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ اصل سوال یہ نہیں کہ دنیا میں دہشت گردی کہاں ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ناانصافی، جبر، سیاسی مداخلت اور اجتماعی عالمی فیصلوں کی توہین کس حد تک جاری ہے، اور دہشت گردی کا اصل ذمہ دار کون ہے۔ جب تک ان عوامل کا دیانت داری سے احتساب نہیں کیا جاتا، دہشت گردی کے خلاف جنگ محض ایک نعرہ ہی رہے گی، اور دنیا مزید عدم استحکام کا شکار ہوتی چلی جائے گی۔

https://youtu.be/iUL51uDb0c8


اقسام مواد

خلاصہ جات, خطابات