پروفیسر خورشید احمد کے افکار انسٹیٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز اسلام آباد کی دعوتی تقریب میں اظہارِ خیال
23 مارچ یومِ پاکستان بھی ہے اور پروفیسر خورشید احمد کا یومِ پیدائش بھی۔ چنانچہ اس مناسبت سے 23 مارچ 2017ء کو انسٹیٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز اسلام آباد کے زیر اہتمام پروفیسر خورشید احمد کے اعزاز میں ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں انہوں نے اپنی ذاتی زندگی، دو قومی نظریہ، اسلامی ریاست، امتِ مسلمہ، نوجوانوں کی ذمہ داریاں، اور علم و تحقیق کے عنوانات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ یہاں بطور خلاصہ اس ساری گفتگو کا ایک خاکہ پیش کیا جا رہا ہے۔ تقریب کی ویڈیو کا لنک آخر میں دیا گیا ہے۔ (ترجمان)
ذاتی زندگی اور تربیتی دور کا تذکرہ
پروفیسر صاحب نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے بعد کہا کہ میری زندگی حیرت انگیز واقعات سے بھری ہوئی ہے۔ سالگرہ منانا ہماری روایتی تاریخ کا حصہ نہیں، بلکہ ہماری روایت تو یہ ہے کہ ہر گزرتا لمحہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زندگی کی مہلت کم ہو رہی ہے اور ہمیں خالق کے سامنے جوابدہ ہونا ہے۔ لیکن بہرحال اس تقریب کا اہتمام کیا گیا ہے تو اس پر احباب کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے اپنے بچپن کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ دہلی کے ایک علمی اور ادبی ماحول والے گھرانے میں پیدا ہوئے۔ تحریکِ پاکستان کے دوران انہوں نے قیامِ پاکستان کی جدوجہد کو بہت قریب سے دیکھا۔ انہوں نے ہجرت کے دوران ہونے والے فسادات، انسانیت کی تذلیل، اور اپنے گھر کے لٹ جانے کے تلخ تجربات بھی بیان کیے۔ فروری 1948ء میں وہ پاکستان منتقل ہوئے۔
فکری ارتقا اور اسلامی تحریک
پروفیسر صاحب نے بتایا کہ ان کے تعلیمی دور میں دو بڑے نظریات مدمقابل تھے: اشتراکیت (سوشلزم) اور اسلام۔ اللہ کے فضل سے وہ اسلام کے راستے پر گامزن ہوئے۔ 1949ء میں مولانا مودودیؒ کی تحریروں نے ان کے ذہن میں یہ واضح کیا کہ اسلام صرف ایک روایتی مذہب نہیں بلکہ ایک مکمل نظامِ زندگی ہے۔ اس کے بعد وہ اسلامی جمعیت طلبہ اور پھر جماعتِ اسلامی سے وابستہ ہو کر تحریکِ اسلامی کا حصہ بن گئے۔
قیامِ پاکستان کے حوالے سے ماہِ مارچ کی اہمیت
انہوں نے کہا کہ ہماری تاریخ میں مارچ کا مہینہ بہت اہم ہے:
- ۲۳ مارچ 1940ء: قراردادِ پاکستان کی منظوری، جس نے تاریخ کا رخ موڑ دیا۔
- مارچ 1949ء: قراردادِ مقاصد کی پیشی اور منظوری، جس نے پاکستان کی منزل متعین کر دی۔
- ۲۳ مارچ 1956ء: پاکستان کے پہلے اسلامی و جمہوری آئین کا نفاذ۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی تاریخ میں کئی بار اسے لادین (سیکولر) ریاست بنانے کی کوشش کی گئی، لیکن ہر بار عوامی طاقت اور دستوری روایات نے اسے ناکام بنایا۔ 1973ء کا آئین بھی تمام تر ترامیم کے باوجود بنیادی طور پر اسلامی، جمہوری اور وفاقی ہے۔
دو قومی نظریہ: ایک ابدی حقیقت
پروفیسر صاحب نے وضاحت کی کہ دو قومی نظریہ کوئی نئی ایجاد نہیں بلکہ اسلام کے آغاز سے ہی موجود ہے۔ اس کی بنیاد رنگ، نسل، یا زبان پر نہیں بلکہ عقیدے اور نظریے پر ہے۔ یہ نظریہ جہاں مسلمانوں کے لیے جداگانہ وجود کا حق مانگتا ہے، وہاں اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ دوسروں کو بھی اپنے نظریے اور عقیدے کے مطابق جینے کا حق حاصل ہے۔ اسلام میں کسی پر زبردستی اپنا نظریہ تھوپنے کی اجازت نہیں، لیکن مسلمان جہاں اکثریت میں ہوں وہاں انہیں اپنے نظام کو نافذ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
مسلم امہ اور عالمی تناظر
مسلم دنیا کے بارے میں انہوں نے کہا کہ 20ویں صدی میں ہمیں سیاسی آزادی ملی، معاشی وسائل ملے، اور دین کا درست تصور بھی سامنے آیا۔ اگرچہ ابھی ہماری قیادتیں جاہلیت کے زیرِ اثر ہیں، لیکن تبدیلی کی لہر ہر جگہ موجود ہے۔ مصر، ترکی، اور وسطی ایشیا کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ وہ حالات سے مایوس نہیں بلکہ پرامید ہیں۔
نوجوانوں اور خواتین کے لیے پیغام
نوجوانوں کے لیے ان کا پیغام یہ ہے کہ زندگی کا مقصد صرف کھانا پینا اور آرام کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ 'خدا شناسی' (خالق کو پہچاننا)، 'خود شناسی' (اپنی صلاحیتوں کو جاننا) اور 'خلق شناسی' (مخلوق کے حقوق ادا کرنا) کو اپنا شعار بنائیں۔
خواتین کے لیے ان کا پیغام یہ ہے کہ اسلام نے مرد اور عورت کے درمیان کامیابی کے معیار میں کوئی فرق نہیں رکھا، البتہ ذمہ داریوں کی تقسیم ہے۔ خواتین گھر کی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ سماجی، سیاسی، اور علمی میدان میں اپنی حدود میں رہ کر بھرپور کردار ادا کر سکتی ہیں۔
علم و تحقیق کی اہمیت اور تقاضے
علم و تحقیق کے حوالے سے انہوں نے تین باتیں کہی:- مطالعہ کی عادت: قوم میں پڑھنے کا رجحان کم ہو رہا ہے، اسے دوبارہ زندہ کرنا ہوگا۔
- تنقیدی سوچ: محض دوسروں کی نقل کرنے کے بجائے سوچنے سمجھنے اور پرکھنے کی صلاحیت پیدا کرنی چاہیے۔
- حقائق کی تلاش: محقق کو چاہیے کہ وہ حقیقت اور افسانے میں فرق کرے اور محنت کے ساتھ نئی راہیں تلاش کرے۔
انسٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز
آخر میں انہوں نے اپنے قائم کردہ ادارہ ’’انسٹیٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز‘‘ (IPS) کے بارے میں کہا کہ یہ ادارہ آپ لوگوں کے پاس ایک امانت ہے، جس کا بنیادی مقصد مختلف قومی شعبوں کی پالیسیوں کا جائزہ لے کر ان کے مثبت و منفی پہلوؤں کی نشاندہی کرنا اور درست پالیسیاں تجویز کرنا ہے۔حاضرین کے سوالات
دیانت اور امانت کا فروغ
دیانت اور امانت کو فروغ دینے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دیانت داری کوئی انتخاب نہیں بلکہ انسان کا شرف ہونے کے ساتھ ساتھ ذمہ داری ہے۔ یہ چیز ’منتقل‘ نہیں کی جاتی بلکہ اپنی مثال سے سکھائی جاتی ہے۔ جب ہم خود دیانت دار بنتے ہیں اور اداروں کے قواعد و ضوابط پر عمل کرتے ہیں، تو تبدیلی آنا شروع ہو جاتی ہے۔
قومیت اور امت کا تصور
قومیت اور امت کے تصور میں توازن کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اسلام جغرافیائی قومیت کی اس حوالے سے نفی کرتا ہے کہ اسے خیر اور شر کا معیار بنا لیا جائے۔ لیکن اسلام وطن سے فطری محبت کا انکار نہیں کرتا۔ ہم جس ریاست میں رہتے ہیں اس کے وفادار رہنا اور اس کے قوانین کا احترام کرنا ضروری ہے، تاہم ہماری اصل پہچان ہمارا عقیدہ ہونا چاہیے۔ ایک اسلامی ریاست میں جہاں مسلم اکثریت کے پاس اپنے دین پر عمل کرنے کے مواقع ہوتے ہیں، وہاں غیر مسلموں کو بھی اپنا تشخص برقرار رکھنے اور اپنے عقیدے پر عمل کرنے کی آزادی حاصل ہوتی ہے۔
پاکستان کی موجودہ معاشی صورتحال
ملک کی موجودہ معاشی صورتحال کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ہم نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا اور موجود امکانات سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ بجلی کا بحران، کرپشن، اور برآمدات و درآمدات میں بڑھتا ہوا فرق معیشت کے لیے خطرناک ہے۔ ہم قرضوں پر گزارہ کر کے اپنا مستقبل گروی رکھ رہے ہیں۔ معیشت کو خود انحصاری کی طرف لے جانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔