’’پاکستان اور عالمِ اسلام‘‘ فلسطین، کشمیر، افغانستان، ہندوستانی مسلمان، عافیہ صدیقی
پروفیسر ڈاکٹر محمد مشتاق احمد:
مشتاق احمد خان صاحب کئی خوبیوں کے مالک ہیں۔ ان کی ہمت، جرأت، انسانی ہمدردی، جوش و ولولے اور انتظامی صلاحیتوں کی تو ایک دنیا قائل ہے، لیکن مختلف الخیال لوگوں کو ساتھ لے کر چلنے اور نظریاتی یا سیاسی اختلاف رکھنے کے باوجود ان کے ساتھ تعاون اور ان سے کام لینے کی ان کی صلاحیت کا بہت کم لوگوں کو علم ہے۔
سینٹ کے فلور پر تقریباً روزانہ ہم سب نے دیکھا کہ وہ بھرپور تیاری کر کے آتے ہیں، اعداد و شمار پیش کرتے ہیں، حوالے دیتے ہیں، ایک منطقی ترتیب کے ساتھ مقدمہ پیش کرتے ہیں، اور اس کے ساتھ ان کا مخصوص لہجہ اور آہنگ بھی شامل ہوتے، تو بات صرف عقل کو ہی اپیل نہ کرتی بلکہ ’’اَز دل خیزد، بَر دل ریزد‘‘ کا عالم ہو جاتا۔
زیر نظر کتاب مشتاق صاحب کی ان تقاریر پر مشتمل ہے جو انہوں نے سینٹ آف پاکستان میں مسلمانانِ عالم کے مسائل پر کیں۔ ان میں افغانستان میں مسلمانوں کے مسائل کے علاوہ غاصب اور ناجائز ریاست ’’اسرائیل‘‘ کے مظالم کے خلاف پاکستان کی خارجہ پالیسی کے رہنما اصولوں پر بھی گفتگو ہے، فلسطین میں جاری بدترین نسل کشی پر نوحہ بھی ہے، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جنگی جرائم پر بھرپور تنقید بھی ہے، اور بھارت میں مسلمانوں کی حالتِ زار پر دردِ دل کا اظہار بھی ہے۔
مشتاق صاحب کی گفتگو سے معلوم ہوتا ہے کہ ’’سارے جہاں کا درد‘‘ واقعی اُن کے جگر میں ہے۔ حدیثِ مبارک میں مسلمانوں کو ’’جسدِ واحد‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ کسی ایک عضو میں تکلیف ہو تو پورا جسم اس درد کو محسوس کرتا ہے۔ اقبال نے قوم کے شاعر کو ’’دیدۂ بینائے قوم‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا:
مبتلائے درد کوئی عضو ہو، روتی ہے آنکھ
کس قدر ہمدرد سارے جسم کی ہوتی ہے آنکھ
حامد میر:
آپ کا سینیٹر مشتاق احمد خان سے کیا تعلق ہے؟ یہ وہ سوال ہے جو پچھلے کچھ سالوں میں مجھ سے اکثر پوچھا جاتا ہے۔ پہلے تو یہ سوال ارکانِ پارلیمنٹ نے کرنا شروع کیا، پھر ریاستی اداروں کے ذمہ داروں نے پراسرار لہجوں میں یہ سوال کرنا شروع کر دیا۔
- وہ پوچھتے کہ آپ لاپتہ افراد کے لیے آواز اٹھاتے ہیں اور مشتاق صاحب نے بھی اس مسئلے پر چیخ و پکار شروع کر رکھی ہے۔
- آپ عافیہ صدیقی کا ذکر کرتے ہیں، مشتاق صاحب بھی یہی کام کرتے ہیں۔
- آپ فلسطین اور کشمیر پر چیخ و پکار کرتے ہیں اور مشتاق صاحب بھی یہی کام کرتے ہیں۔
- کئی دفعہ تو ایسے بھی ہوا کہ مشتاق صاحب نے ڈی چوک میں غزہ پر ظلم کے خلاف دھرنا دیا اور اربابِ اختیار دھرنے کے پیچھے میرا ہاتھ تلاش کرتے رہے۔
- اور میں نے کہیں فلسطین کے دو ریاستی حل کی مخالفت کر دی تو اسے مشتاق صاحب کے کھاتے میں ڈال دیا گیا۔
شکر ہے کہ مشتاق صاحب نے پارلیمنٹ میں اپنی اہم تقاریر کو زیرنظر کتاب میں اکٹھا کر دیا ہے۔ اب مجھ سے کوئی یہ پوچھے گا کہ آپ کا مشتاق احمد خان سے کیا تعلق ہے تو اسے کہوں گا یہ کتاب پڑھ لو، اس کتاب میں اُن کے جو خیالات ہیں، صرف میں نہیں، پاکستانیوں کی اکثریت ان سے اتفاق کرتی ہے۔ لہٰذا ہم سب ایک دوسرے کے ہم خیال ہیں۔
ہمارے خیالات وہی ہیں جو قائد اعظم اور علامہ اقبال کے خیالات تھے۔ قائد اعظم اور اقبال کے پاکستان میں جو بھی کسی غیر ملکی ایجنڈے کو آگے بڑھائے گا اس کے راستے میں مشتاق احمد خان اور اس کے کروڑوں ہم خیال دیوار بن کر کھڑے نظر آئیں گے، اور یہ کتاب ایسے سب ہم خیالوں کی ترجمان ہے۔
سینیٹر مشاہد حسین سید:
سینیٹر مشتاق احمد خان کے ساتھ میں نے سینٹ میں ایک بھرپور اور یادگار مدت گزاری، جس میں ہم نے کشمیر اور فلسطین کے لیے بھرپور آواز اٹھائی۔
5 جولائی 2022ء کو پارلیمنٹ میں ہونے والی قومی سلامتی بریفنگ کے دوران لاپتہ افراد کے مسئلے پر بات کرنے والے سینیٹرز صرف ہم دو ہی تھے۔ ہم دونوں نے یہ معاملہ آرمی چیف جنرل باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی کے سامنے رکھا۔ بعد ازاں 26 دسمبر 2023ء کو ہم نے اسلام آباد پریس کلب میں بلوچ لاپتہ افراد کے کیمپ کا بھی دورہ کیا۔ سینیٹر مشتاق اور ان کی دلیر اہلیہ ہمیشہ بے زبانوں کی آواز بنے، اربابِ اختیار کے سامنے حق کی آواز بلند کی اور پاکستان کی خاموش اکثریت کے جذبات کی نمائندگی کی۔
مشتاق صاحب نے غزہ فریڈم فلوٹیلا میں شرکت کر کے پاکستان کا سر فخر سے بلند کیا، انہوں نے فلسطین کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لیے اسرائیلی قید و بند کا سامنا بھی بہادری سے کیا۔
بطور سینیٹر انہوں نے عوام کے اصل مسائل کو اجاگر کیا، عوام دوست سیاست کی، اور آپ کی یہ مدت محنت اور لگن سے بھرپور رہی۔ سینیٹر مشتاق عالمگیر تصورِ جہاں کے حامل سیاست دان ہیں، جو ظلم و جبر اور اس کے غلبے کے خلاف ہمیشہ ڈٹ کر کھڑے رہے۔