پاک افغان تصادم ترکیہ کی نظر سے

یہ تحریر ایک انٹرویو کا خلاصہ ہے جو ’’افغان آئی پوڈکاسٹ‘‘ کے میزبان سنگر پیکار نے ترکی کی ’’میپا نیوز‘‘ کے چیف ایڈیٹر محمد انس سے حال ہی میں کیا ہے۔ اس گفتگو میں افغانستان اور پاکستان کے درمیان ہونے والے حالیہ تصادم کے تناظر میں دونوں ممالک کے ساتھ ترک عوام کے تعلقات اور ترک حکومت کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے محمد انس نے اپنا تجزیہ پیش کیا۔ موضوع کا مرکزی نکتہ وہ ثالثی کردار تھا جو قطر اور ترکی نے افغانستان اور پاکستان کے درمیان ادا کیا۔ محمد انس نے سوال اٹھایا کہ مذاکرات کے چند مراحل استنبول میں ہونے کے بعد یہ سلسلہ سعودی عرب کیوں منتقل کیا گیا۔ محمد انس نے خطے میں بدلتے ہوئے توازن کے ساتھ ساتھ ترک میڈیا اور عوامی رائے میں آنے والی تبدیلیوں پر بھی اظہارِ خیال کیا۔ اور اس پر بھی کہ ترکی کی تاریخ، اندرونی سیاسی تقسیم، اور علاقائی مفادات کے پیش نظر ترک حکومت کس طرح اس پیچیدہ صورتحال میں اپنا راستہ تلاش کر رہی ہے۔

ترک میڈیا کا ابتدائی جھکاؤ

جب مذاکرات شروع ہوئے تو ترک میڈیا کے ایک اہم حصے کا جھکاؤ پاکستان کی طرف تھا۔ خصوصاً میڈیا کے وہ ادارے جو حکومت یا اسٹیبلشمنٹ کے نزدیک سمجھے جاتے ہیں، قومی اور تاریخی روابط کے تناظر میں پاکستانی موقف کو خاص اہمیت دے رہے تھے۔ بعض حلقوں کی طرف سے یہ تاثر بھی آیا کہ رپورٹرز یا خبررساں ایجنسیاں پاکستان کے قریب ہیں، مگر محمد انس نے واضح کیا کہ اصل مسئلہ قومیت نہیں بلکہ ان اداروں کی ریاستی حلقوں کے ساتھ قربت ہے جس نے انہیں پاکستانی موقف اپنانے پر مائل کیا۔

بیانیے میں تبدیلی کے اسباب

ترک عوام اور میڈیا کے بیانیے میں جو تبدیلی آئی، اس کے چند کلیدی اسباب تھے:

  • مذاکراتی وفود میں پاکستان کی طرف سے نسبتاً کم سطح کے افراد، جبکہ افغانستان کی طرف سے اعلیٰ سطح کے سفارتی اور انٹیلیجنس نمائندوں کی شرکت نے ترکی میں یہ تاثر پیدا کیا کہ افغانستان اس معاملے کو زیادہ سنجیدگی سے لے رہا ہے۔
  • غزہ کے حالیہ بحران سے چشم پوشی کرتے ہوئے پاکستان کے اعلیٰ سرکاری عہدہ داروں نے اسرائیل کے سب سے بڑے اتحادی امریکہ اور امریکی صدر کے متعلق جو فدویانہ بیانات دیے وہ ترک عوام میں ناراضگی پیدا کرنے کا باعث بنے۔
  • افغانستان میں شہری ہلاکتوں کی بارہا رپورٹس اور ویڈیوز نے عوامی ہمدردی افغانستان کی طرف منتقل کر دی۔
  • نیز مذاکرات کا استنبول یا انقرہ سے سعودی عرب منتقل ہو جانا اور ترکی کی جانب سے متوقع اعلیٰ سطحی دورے کی منسوخی نے بھی یہ اشارہ دیا کہ ترکی پاکستان کے رویے سے مایوس ہو رہا ہے۔

ترکی میں طالبان کے بارے میں منقسم تاثر

ترکی کے اندر طالبان کے بارے میں رائے یکساں نہیں۔ سیکولر حلقے طالبان کو سیاسی و سماجی سطح پر ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، جبکہ مذہبی یا روایتی حلقوں میں ان کے بارے میں اور طرح کا تاثر موجود ہے۔ ترک عوام 2021ء کے بعد سے تبدیل ہوتی ہوئی افغان صورتحال سے آگاہ نہیں تھے اور طالبان کے رویے اور اہلیت سے زیادہ واقف نہیں تھے، مگر مذاکرات میں طالبان یا ان کے نمائندوں کا سنجیدہ اور باضابطہ طرزِ عمل ترکی میں ان کے بارے میں آگاہی بڑھانے کا سبب بنا۔ نتیجتاً‌ ترکی نے افغانستان کو محض ایک بحران زدہ ملک کے بجائے ایک ایسی سیاسی قوت کے طور پر دیکھنا شروع کیا ہے جس کے ساتھ گفتگو اور تعلقات طے کرنا ضروری ہیں۔

ترکی کی علاقائی حکمتِ عملی

محمد انس نے واضح کیا کہ ترکی کی خارجہ پالیسی تاریخی طور پر مشرقِ وسطیٰ، قفقاز، بالکان اور وسطی ایشیا کی طرف زیادہ مائل رہی ہے۔ جنوبی ایشیا، بشمول پاکستان، روایتی طور پر ترکی کے اثر و رسوخ کے دائرے سے نسبتاً دور رہا ہے۔ البتہ وسطی ایشیا اور افغانستان میں استحکام اور تجارت کے امکانات نے ترکی کو افغانستان کے ساتھ جغرافیائی، ثقافتی اور تجارتی روابط بڑھانے کی جانب مائل کیا ہے۔ افغانستان کا امن وسطی ایشیا، چین اور روس کے مفادات سے وابستہ ہے اور ترکی اس حوالے سے ایک خاص کردار اپنانے کی کوشش کر رہا ہے، بشرطیکہ عالمی دباؤ اور مقامی داخلی سیاست اس کی اجازت دے۔

پاکستان کے چیلنجز اور ترکی کے شبہات

محمد انس نے پاکستان کی داخلی سیاسی کشمکش، بار بار عسکری مداخلتیں، اقتصادی بحران، اور بدعنوانی کو اس رکاوٹ کے طور پر پیش کیا جو ترکی اور دیگر بین الاقوامی قوتوں کو پاکستان کے ساتھ گہرے اور دیرپا تزویراتی تعلقات بنانے سے روکتی ہے۔ ترکی میں عوامی سطح پر پاکستان کو برادر ملک کے طور پر دیکھا جاتا ہے مگر اسٹیبلشمنٹ کے بین الاقوامی مواقف، بعض متنازع بیانات، اور مذاکرات میں کمزور پیشرفت نے ترکی میں پاکستان کے حوالے سے شبہات پیدا کیے ہیں۔ محمد انس کا کہنا تھا کہ جب تک پاکستان میں استحکام، شفافیت اور ایک مستقل خارجہ پالیسی قائم نہ ہو، ترکی بڑے پیمانے پر سرمائے یا عسکری شراکت کے حوالے سے محتاط رہے گا۔

جنگ یا کشیدگی کی صورتحال میں ممکنہ ردِعمل

اگر بالفرض پاکستان اور بھارت کے درمیان براہِ راست جنگ کا خطرہ سامنے آئے، تو محمد انس کے مطابق ترکی اور خلیجی ممالک اخلاقی حمایت اور محدود سیاسی یا انسانی امداد فراہم کریں گے، مگر بھارت جیسے بڑے اقتصادی شراکت دار کے ساتھ تعلقات بھی برقرار رکھے جائیں گے۔ کسی بھی ملک کے لیے بھارت کے ساتھ مکمل تعلق توڑنا آسان نہیں، اس لیے عملی سیاست میں محدود اور متوازن مداخلت کا ہی امکان زیادہ ہے۔

مستقبل کی جھلک

مجموعی طور پر محمد انس کا اندازہ یہ تھا کہ ترکی آنے والے دور میں وسطی ایشیا، قفقاز، اور مشرقِ وسطیٰ میں اپنی موجودگی مضبوط کرے گا، اور جنوبی ایشیا میں اس کا اثر افغانستان کے راستے بڑھنے کا زیادہ امکان ہے، بجائے اس کے کہ پاکستان کے ذریعے۔ ترکی کی خارجہ پالیسی میں داخلی سیاسی تقابل، مغربی دباؤ، اور علاقائی مفادات کا امتزاج ایک مسلسل توازن طلب عمل ہے۔ تاہم عالمی نظام کی موافقت کے ساتھ ترکی کی افغان پالیسی زیادہ واضح ہو سکتی ہے اور تیزی کے ساتھ طے پا سکتی ہے۔

مجموعی تاثر

یہ گفتگو اس بات کا اشارہ دیتی ہے کہ علاقائی تعلقات محض تاریخی یا نظریاتی بنیادوں پر قائم نہیں رہتے؛ عملی رویے، میڈیا کا تاثر، عوامی ردِعمل، اور داخلی استحکام وہ عناصر ہیں جو ملکوں کی پالیسیوں کو راستہ دکھاتے ہیں۔ ترکی نے اس کشیدگی میں ابتدا میں پاکستان کو ایک نزدیک حیثیت دی، مگر مذاکرات کی کیفیت، عوامی مایوسی، اور افغان وفد کی سنجیدگی نے اس موقف کو بدلنے پر مجبور کیا، اور یہی تبدیلی خطے کی آنے والی سیاست میں اہم اثر ڈال سکتی ہے۔

https://youtu.be/hXhuF9ksgZY