خطابات
قائد اعظم کے افکار اور آج کا پاکستان
علامہ ڈاکٹر طاہر القادری نے میر خلیل الرحمٰن میموریل سوسائٹی کے اس علمی و فکری کردار کو سراہا جو مسلسل قومی سطح کے اہم معاملات پر غور و فکر اور مکالمے کے مواقع فراہم کرتی ہے، ایسے فورمز اہلِ دانش کو مختلف زاویہ ہائے نظر سننے کا موقع دیتے ہیں مکمل تحریر
پروفیسر خورشید احمد کے افکار
انسٹیٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز اسلام آباد کے زیر اہتمام ایک تقریب سے پروفیسر خورشید احمد کی اپنی ذاتی زندگی، دو قومی نظریہ، اسلامی ریاست، امتِ مسلمہ، نوجوانوں کی ذمہ داریاں، علم و تحقیق، و دیگر عنوانات پر تفصیلی گفتگو۔ مکمل تحریر
بوریت کیوں ضروری ہے؟
ڈاکٹر آرتھر بروکس کے مطابق آپ کا بور ہونا آپ کی زندگی کے لیے نہایت ضروری ہے۔ اگر آپ کبھی بور نہیں ہوتے تو آپ کی زندگی سے مقصدیت ختم ہو جائے گی اور آپ ڈپریشن کا شکار ہو سکتے ہیں۔ مکمل تحریر
خدا کو پہچاننے کا میرا سفر
پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال نے مفتی شمائل ندوی اور جاوید اختر کے حالیہ مباحثہ کے تناظر میں خدا کے وجود اور مذہب و سائنس کے تعلق پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے مکمل تحریر
مذاہب میں اسلام کی برتری
اسلام کی اصل قوت اور خوبصورتی اس کی اِس غیر معمولی صلاحیت میں ہے کہ وہ انسانی تاریخ کی دو بڑی فکری روایتوں کو ایک وحدت میں سمو دیتا ہے۔ مکمل تحریر
اسلام کیوں پڑھیں؟ عیسائی نقطۂ نظر
یہ گفتگو ڈاکٹر جیمز اینڈرسن کے ایک لیکچر پر مبنی ہے، جس کا مرکزی موضوع یہ سوال ہے کہ مسیحیوں کو دنیا کے دوسرے سب سے بڑے مذہب ’’اسلام‘‘ اور تیزی سے بڑھتے ہوئے مسلمان گروہ کے بارے میں جاننے اور سمجھنے کی ضرورت کیوں ہے؟ مکمل تحریر
قائد اعظم کی یکم جولائی ۱۹۴۸ء کی تقریر
جناب گورنر، ڈائریکٹرز اسٹیٹ بینک، خواتین و حضرات! اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا افتتاح مالیاتی شعبے میں ہماری ریاست کی خود مختاری کی علامت ہے، اور مجھے آج یہاں افتتاحی تقریب منعقد کرنے کے لیے موجود ہونے پر بہت خوشی ہے۔ مکمل تحریر
واحد خودمختار فلسطینی ریاست کا موقف
میں پاکستان اور فلسطین کے کردار کا بھی تذکرہ کرنا چاہوں گا، کیونکہ پاکستان اور فلسطین کا رشتہ انتہائی مضبوطی سے باہم مربوط ہے۔ اسی شہر لاہور میں، خواتین و حضرات، 23 مارچ 1940ء کو دو قراردادیں منظور ہوئیں۔ مینارِ پاکستان کا وہی مقام، جہاں حافظ (نعیم) صاحب نے کل مکمل تحریر
Page 1 of 2 اگلا صفحہ