خدا کو پہچاننے کا میرا سفر

خدا کے وجود اور مذہب و سائنس کے تعلق پر معروف دانشور پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال کی گفتگو کا خلاصہ یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔

بحث و مباحثہ اور انسانی عقل کی حد

پروفیسر صاحب گفتگو کا آغاز دہلی میں ہونے والے اس مباحثے سے کرتے ہیں جس میں الحادی نظریات کے حامل معروف نغمہ نگار جاوید اختر اور ممتاز عالم دین مفتی شمائل ندوی کے درمیان خدا کے وجود پر بحث ہوئی۔ وہ کہتے ہیں کہ فلسفیانہ بحثوں سے اکثر خدا نہیں ملتا، کیونکہ جتنا اس سوال کو سلجھانے کی کوشش کی جائے، اتنے ہی نئے سوالات جنم لیتے ہیں۔ پھر وہ اپنے ذاتی سفر کو بیان کرتے ہیں جس نے ان کے لیے خدا کو ماننا آسان بنا دیا۔

کائنات کی وسعت میں انسان کی حیثیت

پروفیسر صاحب انسان کو اپنی اوقات پہچاننے کی دعوت دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر ہم کائنات کے نقشے پر غور کریں تو ایک کمرے میں بیٹھا ہوا انسان اس عمارت، شہر، ملک اور پھر پوری زمین کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔ زمین نظامِ شمسی میں ریت کے ایک ذرے جیسی ہے، اور ہمارا نظامِ شمسی اربوں کہکشاؤں کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ کائنات کا 98 فیصد حصہ غیر مادی (انرجی) ہے جو ہمیں نظر بھی نہیں آتا۔ اتنے بڑے نظام کو چلانے والی قوت کو ہم اپنی محدود عقل کے پیمانے سے نہیں ناپ سکتے۔

سائنس اور مذہب کے الگ الگ پیمانے

ڈاکٹر جاوید اقبال کے مطابق مذہب اور سائنس کے دائرہ کار مختلف ہیں۔ وہ مثال دیتے ہیں کہ جیسے ہاکی کے کھلاڑی کا مقابلہ فٹ بال کے کھلاڑی سے نہیں ہو سکتا، ویسے ہی مادی چیزوں کو ناپنے والے سائنسی آلات سے ہم غیر مادی حقیقتوں کو نہیں پرکھ سکتے۔ سائنس صرف 2 فیصد مادی وجود پر بحث کرتی ہے، جبکہ مذہب اس کے پیچھے چھپی طاقت اور شعور کو مخاطب کرتا ہے۔

عقل بمقابلہ وجدان

پروفیسر صاحب بتاتے ہیں کہ علم حاصل کرنے کی دو سطحیں ہیں: پہلی سطح عقل و فکر کی ہے جس کے تحت ہم سوچتے ہیں، تجربہ (Experiment) کرتے ہیں، اور سائنسی تھیوری بناتے ہیں۔ یہ طریقۂ کار مادی دنیا کے لیے ہے۔ دوسری سطح وجدان اور مکاشفہ کی ہے، جو کہ عقل سے برتر چیز ہے، اس میں انسان تجربہ نہیں کرتا بلکہ محسوسات (Experience) سے گزرتا ہے۔ جس طرح سائنسی تجربے سے تھیوری بنتی ہے، اسی طرح وجدانی مشاہدے سے ’’ایمان‘‘ (Faith) بنتا ہے۔ چونکہ خدا ان قوانین (فزکس، کیمسٹری وغیرہ) کا خالق ہے، اس لیے اسے ان ہی قوانین کے ترازو میں نہیں تولا جا سکتا۔

رہنمائی کے لیے ’’سہارے‘‘ کی ضرورت

پروفیسر جاوید اقبال صاحب ایک عام انسان کی الجھن کا حل پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب ہماری اپنی عقل مابعد الطبیعاتی حقائق (Metaphysics) تک پہنچنے سے قاصر ہو، تو اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ کسی ایسے انسان کو راہنما بنایا جائے جس کے پاس اس سلسلہ میں سب سے بہترین راہنمائی موجود ہے۔ پروفیسر صاحب کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی اور اتباع کا انتخاب کیا ہے۔ پیغمبرِ اسلامؐ نے جو خبر دی اور جو زندگی گزار کر دکھائی، وہ ایک کامل نمونہ ہے۔ جیسے ایک چھوٹا بچہ سڑک پار کرنے کے لیے کسی بڑے کی انگلی پکڑ لیتا ہے اور محفوظ رہتا ہے، ویسے ہی ایمان کے سفر میں نبوت کا سہارا لینے میں ہی عافیت ہے۔

شر اور مصائب کا سوال، غزہ کے تناظر میں

مباحثے میں اٹھائے گئے اس سوال پر کہ ’’اگر خدا موجود ہے تو وہ غزہ میں بچوں کو کیوں نہیں بچاتا؟‘‘ پروفیسر صاحب اپنی رائے دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات کو اصولوں اور قوانین (سنت اللہ) کے تحت باندھ دیا ہے۔ جس طرح کھانے پینے اور تکلیف کے انفرادی اصول و قوانین ہیں، اسی طرح مجموعی طور پر انسانی معاشرے کے بھی اصول و قوانین ہیں۔ غزہ کے مصائب انسانوں کے گروہی مفادات، طاقت کے عدمِ توازن، اور غلط فیصلوں کا نتیجہ ہیں۔ اللہ نے انسان کو ارادہ اور اختیار دیا ہے، اور دنیا کے معاملات ان ہی مادی اور اخلاقی قوانین کے تحت چلتے ہیں جو اللہ نے بنائے ہیں۔

سائنس میں بھی ’’عقیدہ‘‘ موجود ہے

پروفیسر صاحب ایک دلچسپ نکتہ پیش کرتے ہیں کہ سائنسدان بھی ایک حد پر جا کر رک جاتے ہیں۔ جس طرح کم از کم وقت (plank time) یا کم از کم فاصلے (plank distance) سے نیچے جانا ممکن نہیں، ویسے ہی سائنس میں بھی کچھ بنیادی حقائق، جیسے پروٹان اور الیکٹران کی ترتیب، کو ’’ماننا‘‘ پڑتا ہے تاکہ اس پر آگے علم کی عمارت کھڑی کی جا سکے۔ اگر سائنس کو بنیادوں کے لیے کسی مفروضے یا یقین کی ضرورت ہے، تو مذہب میں بھی کائنات کے خالق پر ایمان لانا ایک منطقی ضرورت ہے۔

حرفِ آخر

پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال اپنی گفتگو اس بات پر ختم کرتے ہیں کہ بنیادی حکمت یعنی خالق اور مخلوق کا تعلق بہت سادہ ہے، مگر وقت کے ساتھ ساتھ انسانوں نے اپنی سہولت کے لیے مذہب میں بہت سی رسومات اور قانونی پیچیدگیاں خود شامل کر لی ہیں، بہرحال اصل مقصد کائنات کے اس عظیم نظام کے محرک کے طور پر موجود واحد طاقت کو پہچاننا ہے۔

https://youtu.be/a51l4G5xhLk


اقسام مواد

خلاصہ جات, خطابات