بنگلہ دیش: مسلم دنیا کی چوتھی بڑی آبادی

مختصر تعارف

جنوبی ایشیا میں واقع عوامی جمہوریہ بنگلہ دیش ایک خود مختار اور آبادی کے لحاظ سے دنیا کا آٹھواں سب سے بڑا ملک ہے، جبکہ مسلم تعداد کے اعتبار سے یہ چوتھی بڑی مسلم آبادی ہے۔ ایک لاکھ اڑتالیس ہزار چار سو ساٹھ مربع کلومیٹر کے رقبے پر سترہ کروڑ سے زائد افراد کے ساتھ بنگلہ دیش انتہائی گنجان آباد ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ اس کی سرحدیں شمال، مغرب اور مشرق میں بھارت کے ساتھ اور جنوب مشرق میں میانمار سے ملتی ہیں۔ بنگلہ دیش کے جنوب میں بنگال کی خلیج کا ساحل واقع ہے، سلگوری راہداری اسے بھوٹان اور نیپال سے الگ کرتی ہے، جبکہ اس کے اور چین کے درمیان بھارت کی ریاست سکم واقع ہے۔ بنگلہ دیش کا دارالحکومت اور سب سے بڑا شہر ڈھاکا ملک کا سیاسی، مالی اور ثقافتی مرکز ہے۔ چٹاگانگ دوسرا سب سے بڑا شہر اور ملک کی مصروف ترین بندرگاہ ہے۔

موجودہ بنگلہ دیش کا خطہ قدیم تاریخ میں کئی ہندو اور بدھ مت کے خاندانوں کا گڑھ رہا۔ 1204ء میں مسلم فتح کے بعد یہاں سلطنت اور مغلیہ دور کا آغاز ہوا۔ مغلیہ سلطنت کا حصہ ہونے کی وجہ سے بنگال کا علاقہ دنیا کے خوشحال اور تجارتی طور پر سرگرم ترین خطوں میں سے ایک کے طور پر ابھرا اور اپنی کپڑا سازی کی صنعت اور زرعی پیداواری صلاحیت کے لیے کے حوالے سے مشہور رہا۔ 1757ء میں پلاسی کی جنگ نے اگلے دو صدیوں تک برطانوی نوآبادیاتی حکومت کی بنیاد رکھی۔ 1947ء میں برصغیر کی تقسیم کے بعد، مشرقی بنگال نئی تشکیل پانے والی ریاستِ پاکستان کا مشرقی اور سب سے زیادہ آبادی والا حصہ بنا اور بعد میں اس کا نام ’’مشرقی پاکستان‘‘ رکھ دیا گیا۔

مغربی پاکستان کی حکومت کی طرف سے دو دہائیوں سے زائد عرصے تک مبینہ طور پر سیاسی جبر اور نظامی امتیاز کے بعد 1971ء میں مشرقی پاکستان میں خانہ جنگی کی صورتحال پیدا ہوئی، جو آخرکار ایک پرتشدد فوجی آپریشن کے بعد آزادی کی جنگ میں تبدیل ہو گئی۔ مکتی باہنی نے بھارتی افواج کی امداد اور معاونت سے ایک کامیاب مسلح انقلاب برپا کیا۔ اور پاکستان کی طرف سے کی گئی فوج کشی کے باوجود بنگلہ دیش 16 دسمبر 1971ء کو ایک خود مختار قوم بن کر ابھرا۔ آزادی کے بعد، شیخ مجیب الرحمٰن نے 1975ء میں اپنے قتل تک ملک کی قیادت کی۔ بعد میں صدارت ضیاء الرحمن کو منتقل ہوئی، جن کا خود 1981ء میں قتل ہو گیا۔ 1980ء کی دہائی پر حسین محمد ارشاد کی آمریت کا غلبہ رہا، جنہیں 1990ء میں ایک عوامی بغاوت کے ذریعے اقتدار سے ہٹا دیا گیا۔ 1991ء میں جمہوریت کی بحالی کے بعد خالدہ ضیا اور شیخ حسینہ کے درمیان "بیگمات کی جنگ" نے اگلی تین دہائیوں تک ملک کی سیاست پر حکمرانی کی۔ حسینہ واجد کو اگست 2024ء میں ایک انقلاب کے ذریعے اقتدار سے ہٹا دیا گیا، اور نوبل انعام یافتہ محمد یونس کی قیادت میں ایک عبوری حکومت قائم کی گئی۔

بنگلہ دیش ویسٹ منسٹر نظام پر مبنی ایک وحدانی پارلیمانی جمہوریہ ہے۔ یہ جنوبی ایشیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت کے ساتھ ایک اہم علاقائی طاقت ہے۔ بنگلہ دیش دنیا کی چوتھی سب سے بڑی مسلم آبادی کا ملک ہے۔ اس کے پاس جنوبی ایشیا کی تیسری سب سے بڑی فوج ہے اور یہ اقوام متحدہ کی امن محافظ دستوں میں سب سے بڑا شراکت دار ہے۔ بنگلہ دیش آٹھ ڈویژنز، 64 اضلاع اور 495 ذیلی اضلاع پر مشتمل ہے، اور یہ دنیا کے سب سے بڑے مینگروو جنگل کا حامل بھی ہے۔ تاہم، اس میں دنیا کی سب سے بڑی مہاجر آبادیوں میں سے ایک آباد ہے اور اسے اندرونی بدعنوانی، انسانی حقوق کی پامالیوں، سیاسی عدمِ استحکام، اور موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ بنگلہ دیش سارک اور کئی دیگر بین الاقوامی تنظیموں کا رکن ملک ہے۔

نام "بنگلہ دیش" کی تاریخ

"بنگلہ دیش" (بنگالی ملک) کی اصطلاح کی تاریخ بیسویں صدی کے اوائل میں ملتی ہے، جب بنگالی وطن پرست گیتوں، جیسے رابندر ناتھ ٹیگور کا "آجی بنگلادیشر ہردوئے" اور قاضی نذرالاسلام کا "نامو نامو نامو بنگلہ دیش مومو" نے بالترتیب 1905ء اور 1932ء میں اس اصطلاح کو استعمال کیا۔ 1950ء کی دہائی سے، بنگالی قوم پرستوں نے مشرقی پاکستان میں سیاسی جلسوں میں اس اصطلاح کا استعمال شروع کر دیا۔

لفظ "بنگلا" بنگال خطے اور بنگالی زبان دونوں کے لیے ایک اہم نام ہے۔ اس لفظ کی ابتدا واضح نہیں، تاہم کچھ نظریات کا تعلق کانسی کے دور کی ایک قدیم دراوڑی قبیلے یا لوہے کے دور کے ونگا بادشاہت سے بتایا جاتا ہے۔ اس اصطلاح کا سب سے قدیم معلوم استعمال 805 عیسوی کے نیساری پلیٹ میں ملتا ہے۔ "ونگالا دیش" کی اصطلاح گیارہویں صدی کے جنوبی ہندوستانی ریکارڈز میں پائی جاتی ہے۔ چودہویں صدی میں بنگال کی سلطنت کے دوران اس اصطلاح کو سرکاری حیثیت حاصل ہوئی۔ شمس الدین الیاس شاہ نے 1342ء میں خود کو پہلا "شاہِ بنگالہ" قرار دیا۔ اسلامی دور کے دوران لفظ "بنگال" خطے کا سب سے عام نام بن گیا۔ سولہویں صدی کے مورخ ابوالفضل ابن مبارک اپنی کتاب "آئینِ اکبری" میں ذکر کرتے ہیں کہ "ال" کا لاحقہ اس حقیقت سے آیا کہ قدیم راجاؤں نے پہاڑوں کے دامن میں نشیبی علاقوں میں مٹی کے ٹیلے بنائے تھے جنہیں "ال" کہا جاتا تھا۔ غلام حسین سالم نے بھی اپنی کتاب "ریاض السالتین" میں اس کا ذکر کیا ہے۔ ہند آریائی لاحقہ "دیش" سنسکرت لفظ "دیشا" سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے "زمین" یا "ملک"۔ لہٰذا، نام "بنگلہ دیش" کا مطلب ہے "بنگال کی زمین" یا "بنگال کا ملک"۔

خطے کی تاریخ

ابتدائی تاریخ

اس خطے کا احاطہ کرنے والی پہلی عظیم مقامی سلطنت موریا سلطنت تھی (تقریباً 320-185 قبل مسیح)۔ اس کے زوال کے بعد سمتاتا کی ریاست وجود میں آئی، جو گپتا سلطنت (تقریباً 319-540 عیسوی) کی باج گزار ریاست تھی۔ ہرش (606-647 عیسوی) نے سمتاتا کو اپنی سیاسی ساخت میں شامل کر لیا۔ بدھ مت کی پال سلطنت نے 750ء سے 1150ء عیسوی تک اس خطے پر حکومت کی۔ اسے ہندو سین خاندان نے شکست دی، جس نے 1204ء میں غوری خاندان کے محمد بختیار خلجی کی قیادت میں مسلمانوں کی فتح تک اس خطے پر حکومت کی۔

قرونِ وسطی کا دور

اس کے بعد بنگال کو دہلی سلطنت (1206–1526 عیسوی) میں شامل کر لیا گیا۔ 1341ء میں فخر الدین مبارک شاہ نے آزاد بنگال سلطنت قائم کی۔ جغرافیائی توسیع اور معاشی خوشحالی کے درمیان، یورپی اور چینی زائرین اسے "تجارت کے لیے سب سے امیر ملک" سمجھتے تھے۔ مغلیہ سلطنت نے 1576ء میں بنگال فتح کر لیا۔ 18ویں صدی تک بنگال صوبہ مغلیہ سلطنت کا سب سے امیر صوبہ بن کر ابھرا اور اسے "ممالک کی جنت" اور "ہندوستان کی روٹی کی ٹوکری" کہا جاتا تھا۔ اس کے شہریوں کو دنیا میں معیارِ زندگی کے بہترین معیارات حاصل تھے، کیونکہ یہ خطہ کپاس کے کپڑوں، خاص طور پر ململ، ریشم اور جہاز سازی کا ایک بڑا عالمی برآمد کنندہ اور پروڈیوسر تھا۔ 1700ء کی دہائی کے اوائل میں مغلیہ سلطنت کے زوال کے بعد، مرشد قلی خان کے ہاتھوں 1717ء میں قائم ہونے والے بنگال کے نوابوں کے تحت یہ خطہ ایک نیم آزاد ریاست بن گیا۔

برطانوی نوآبادیاتی دور

23 جون 1757ء کو جنگِ پلاسچی میں برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے نواب سراج الدولہ کی فوج کو شکست دی، جس سے بنگال اور پورے برصغیر میں برطانوی راج کی بنیاد پڑی۔ اس دور میں بنگال سے دولت کی بڑے پیمانے پر منتقلی اور کپڑے کی صنعت کی تباہی نے برطانیہ کے صنعتی انقلاب میں اہم کردار ادا کیا۔ 1770ء کے خوفناک قحطِ بنگال کے نتیجے میں ایک کروڑ سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جو بنگال کی کل آبادی کا ایک تہائی حصہ تھا؛ یہ انسانی تاریخ کے بدترین قحطوں میں سے ایک شمار ہوتا ہے۔

بطور مشرقی پاکستان

ہندوستان کی تقسیم کے دوران 15 اگست 1947ء کو جدید بنگلہ دیش کی سرحدیں ریڈکلف لائن کے ذریعے قائم ہوئیں۔ تقریباً دو صدیوں کی براہِ راست برطانوی حکومت کے بعد یہ خطہ مشرقی بنگال کے طور پر نئی تشکیل پانے والی ریاست پاکستان کا مشرقی اور سب سے زیادہ آبادی والا حصہ بنا۔ نئی تشکیل پانے والے پاکستان کے مغربی اور مشرقی حصے جغرافیائی طور پر ایک ہزار میل سے زیادہ کے فاصلے سے جدا تھے، جو گہری معاشی عدمِ مساوات کی وجہ بن گیا۔

خواجہ ناظم الدین مشرقی بنگال کے پہلے وزیر اعلیٰ بنے جبکہ فریڈرک چالمرز بورن گورنر تھے۔ آل پاکستان عوامی مسلم لیگ 1949ء میں قائم ہوئی۔ 1950ء میں مشرقی بنگال کی قانون ساز اسمبلی نے اصلاحات نافذ کیں اور Permanent Settlement اور زمینداری نظام کو ختم کر دیا۔ عوامی مسلم لیگ کا نام بدل کر 1953ء میں زیادہ سیکولر عوامی لیگ رکھ دیا گیا۔ پہلی آئین ساز اسمبلی 1954ء میں تحلیل کر دی گئی۔ 1954ء کے مشرقی بنگال قانون ساز انتخابات میں یونائیٹڈ فرنٹ اتحاد نے زبردست کامیابی کے ذریعے مسلم لیگ کو ہٹا دیا۔ اگلے سال One Unit پروگرام کے تحت مشرقی بنگال کا نام بدل کر ’’مشرقی پاکستان‘‘ رکھ دیا گیا، اور یہ صوبہ ساؤتھ ایسٹ ایشیا ٹریٹی آرگنائزیشن کا ایک اہم حصہ بن گیا۔

بڑھتے ہوئے ثقافتی اور سماجی اختلافات کے درمیان 1952ء کی بنگالی زبان کی تحریک کے خلاف حکومتی جارحانہ کارروائی نے بنگالی قوم پرستی اور جمہوریت کی تحریکوں کو ہوا دی۔ اس تحریک کا مقصد بنگالی کو پاکستان کی سرکاری زبان بنانا تھا۔ پاکستان نے 1956ء میں ایک نیا آئین اپنایا۔ پاکستان مسلح افواج نے 1958ء میں بغاوت کے بعد مارشل لا نافذ کیا اور ایوب خان نے ایک دہائی سے زیادہ کی آمریت قائم کی۔ 1962ء میں ایک نیا آئین متعارف کرایا گیا، جس نے پارلیمانی نظام کو صدارتی اور گورنری نظام سے بدل دیا جسے "بنیادی جمہوریت" کہا جاتا تھا۔ 1962ء میں ڈھاکہ پاکستان کی قومی اسمبلی کا دارالحکومت بنا۔ یہ اقدام بڑھتی ہوئی بنگالی قوم پرستی کو مطمئن کرنے کے طور پر دیکھا گیا۔ 1966ء میں عوامی لیگ کے رہنما شیخ مجیب الرحمٰن نے وفاقی پارلیمانی جمہوریت کے لیے چھ نکاتی تحریک کا اعلان کیا۔

پاکستان کی سول اور فوجی سروسز میں نسلی، لسانی اور ثقافتی امتیاز موجود تھا جس میں بنگالیوں کی نمائندگی کم تھی۔ اس کے نتیجے میں مشرقی پاکستان نے ایک الگ سیاسی شناخت تشکیل دی۔ حکام نے ریاستی میڈیا میں بنگالی ادب اور موسیقی پر پابندی لگا دی۔ پاکستانی حکومت نے مشرقی پاکستان کے خلاف وسیع پیمانے پر معاشی امتیاز برتا، جس میں غیر ملکی امداد کی تقسیم سے انکار بھی شامل تھا۔ برآمدی آمدنی کا بڑا حصہ حاصل کرنے کے باوجود مشرقی پاکستان کو حکومتی اخراجات میں بہت کم حصہ ملا۔ مشرقی پاکستان کے معروف ماہرین اقتصادیات، جن میں رحمان سبحان اور نور الاسلام شامل تھے، نے مشرقی بازو کے لیے ایک الگ غیر ملکی زر مبادلہ اکاؤنٹ کا مطالبہ کیا، اور پاکستان کے اندر دو مختلف معیشتوں کے وجود کی طرف بھی اشارہ کیا، جسے Two-Economies Theory کا نام دیا گیا۔ عوامی رہنما شیخ مجیب الرحمٰن کو آگرتالا سازش کیس میں غداری کے الزام میں گرفتار کیا گیا اور 1969ء میں مشرقی پاکستان میں ہونے والی بغاوت کے دوران رہا کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں ایوب خان نے استعفیٰ دے دیا۔ جنرل یحییٰ خان نے اقتدار سنبھالا اور مارشل لا دوبارہ نافذ کر دیا۔

1970ء کے بھولا سائیکلون (طوفان) آیا جس میں 500,000 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے۔ اس میں پاکستانی حکومت کی عدمِ توجہ کے بعد ایک ممتاز سیاسی شخصیت عبد الحمید خان بھاشانی 23 نومبر 1970ء کو ایک بہت بڑی عوامی ریلی میں مشرقی پاکستان کی آزادی کا اعلان کرنے والے پہلے بنگالی بنے، لیکن اسے سرکاری طور پر تسلیم نہیں کیا گیا۔ عبد الحمید خان بھاشانی نے اس سے پہلے برطانوی راج کے خلاف کئی بغاوتوں کی قیادت کی تھی۔

دسمبر 1970ء کے انتخابات کے بعد بنگالی قوم پرست عوامی لیگ نے قومی اسمبلی میں مشرقی پاکستان کی 169 میں سے 167 نشستیں جیتیں۔ عوامی لیگ نے حکومت بنانے اور نیا آئین ترتیب دینے کے حق دعویٰ کیا لیکن پاکستانی فوج اور ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے سخت مخالفت کی گئی۔

شیخ مجیب کی 7 مارچ کی تقریر نے عدمِ تعاون کی تحریک کو جنم دیا۔ آمرانہ پاکستانی حکومت نے جوابی کارروائی کے طور پر 25 مارچ 1971ء کو آپریشن سرچ لائٹ شروع کیا۔ شیخ مجیب نے 26 مارچ 1971ء کو آزادی کے اعلان پر دستخط کیے۔ میجر ضیاء الرحمٰن نے اگلے دن مجیب کا پیغام عوام تک پہنچایا۔ نو ماہ طویل خونریز آزادی کی جنگ کا آغاز ہوا جس کے نتیجے میں مبینہ طور پر نسل کشی ہوئی اور 16 دسمبر 1971ء کو پاکستانی فوج کے ہتھیار ڈالنے کے بعد بنگلہ دیش ایک خود مختار قوم کے طور پر وجود میں آیا۔

آزاد بنگلہ دیش

بنگلہ دیش کا آئین 4 نومبر 1972ء کو نافذ ہوا۔ آزادی کے بعد، شیخ مجیب کی قیادت والی حکومت بڑے پیمانے پر بدعنوانی اور بدانتظامی کا شکار ہوئی۔ جس کے نتیجے میں پورے ملک میں لاقانونیت اور معاشی تباہی پھیل گئی۔ ون پارٹی سوشلزم قائم کرنے کی کوششوں اور 1974ء کے ایک بڑے قحط نے شیخ مجیب کی مقبولیت میں نمایاں کمی کی اور اس کے بعد 1975ء میں ان کے قتل کا راستہ ہموار کیا۔ اس کے بعد صدارت ضیاء الرحمٰن کو منتقل ہوئی جنہوں نے عوامی نظم و ضبط بحال کیا، زراعت کو صنعتی بنایا، بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی قائم کی، اور جنوب ایشیائی علاقائی تعاون کی تنظیم کی تشکیل کا آغاز کیا۔ 1981ء ضیاء الرحمٰن کے قتل کے بعد آنے والی دہائی حسین محمد ارشاد کی فوجی آمریت میں گزری۔ جس میں ملکی ترقی، اصلاحات، قومی صنعتوں کی نجکاری، اور 1988ء میں اسلام کو ریاستی مذہب قرار دینے جیسے واقعات شامل تھے۔

1991ء میں پارلیمانی جمہوریت کی بحالی کے بعد، بی این پی کی خالدہ ضیا اور عوامی لیگ کی شیخ حسینہ کے درمیان اقتدار کی جنگ ہوئی، ایک دور جسے "بیگمات کی جنگ" کا نام دیا گیا، جس نے اگلے 18 سال تک بنگلہ دیش کی سیاسی تاریخ رقم کی۔ 2008ء کے عام انتخابات کے بعد عوامی لیگ کی حکومت میں واپسی کے بعد شیخ حسینہ کی قیادت میں ملک نے معاشی ترقی دیکھی لیکن اس کے ساتھ ہی جمہوریت میں پسپائی، بڑھتا ہوا آمرانہ رجحان، اندرونی بدعنوانی، اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا مشاہدہ بھی کیا گیا۔ مختلف رپورٹس کے مطابق شیخ حسینہ اور عوامی لیگ حکومت نے بھارت کے تعاون سے 2009ء کی بنگلہ دیش رائفلز کی بغاوت منظم کی تاکہ قابل فوجی افسروں کو ہلاک کیا جا سکے، جنہیں شیخ حسینہ اپنی طاقت کے لیے خطرہ سمجھتی تھیں۔ اس سے بنگلہ دیش فوج غیر مستحکم ہوئی اور وَن پارٹی رول مضبوط ہوا۔ حسینہ نے 2014ء، 2018ء اور 2024ء کے عام انتخابات میں اپنی دوسری، تیسری اور چوتھی مسلسل مدت جیتی، جو مبینہ طور پر دھاندلی پر مبنی غیر منصفانہ نتائج تھے۔ جولائی 2024ء میں ہونے والے ملکی انقلاب کے بعد شیخ حسینہ کو 5 اگست 2024ء کو استعفیٰ دینے پر مجبور کیا گیا اور وہ بھارت فرار ہو گئیں۔ 8 اگست 2024ء کو نوبل انعام یافتہ محمد یونس کے چیف ایڈوائزر کے طور پر ایک عبوری حکومت قائم کی گئی۔

1990ء کی دہائی کے آغاز سے آزاد منڈی کی پالیسیوں اور معاشی اصلاحات کی بدولت بنگلہ دیش نے نمایاں معاشی ترقی کی ہے، جس کے نتیجے میں یہ دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشتوں میں شامل ہو گیا ہے۔ اس ترقی میں اس کی ٹیکسٹائل کی صنعت کا بڑا ہاتھ ہے جو دنیا میں دوسری بڑی صنعت بن چکی ہے۔ بنگلہ دیش جنوبی ایشیا کی دوسری بڑی معیشت کے طور پر ابھرا ہے اور فی کس آمدنی کے لحاظ سے یہ اپنے پڑوسی ملک بھارت کے برابر پہنچ گیا ہے۔ بنگلہ دیش نے غربت کی شرح میں کمی لانے کے لیے بھی شاندار کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ 1971ء میں غربت کی شرح 80 فیصد تھی جو 1991ء میں کم ہو کر 44.2 فیصد اور 2022ء تک مزید کم ہو کر 18.7 فیصد رہ گئی۔ اکیسویں صدی کے دوران انسانی ترقی کے اشاریے (Human Development Index) میں بنگلہ دیش کی ترقی کی رفتار چین کے بعد سب سے زیادہ رہی ہے۔ ماحول دوست اقدامات کے تحت بنگلہ دیش کا صنعتی شعبہ "گرین فیکٹریاں" بنانے میں دنیا بھر میں پہلے نمبر پر ہے اور یہاں تصدیق شدہ گرین فیکٹریوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ بنگلہ دیش نے 2017ء سے روہنگیا نسل کشی سے جان بچا کر آنے والے دس لاکھ سے زائد پناہ گزینوں کو پناہ دے رکھی ہے، جس نے اگرچہ اس کے وسائل پر بوجھ ڈالا ہے لیکن اس کے انسانی ہمدردی کے عزم کو بھی دنیا بھر میں اجاگر کیا ہے۔

جغرافیہ، آب و ہوا، حیاتیات

بنگلہ دیش جنوبی ایشیا میں خلیج بنگال کے کنارے واقع ہے۔ یہ تقریباً ہر طرف سے بھارت کے حصار میں ہے، جبکہ جنوب مشرق میں اس کی چھوٹی سی سرحد میانمار سے ملتی ہے۔ بنگلہ دیش کی سرحدیں اگرچہ نیپال، بھوٹان اور چین سے براہ راست نہیں ملتیں لیکن مختصر علاقوں کے فاصلے سے یہ ان ملکوں کے بہت قریب ہے۔ ملک کو تین جغرافیائی حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ملک کا زیادہ تر حصہ زرخیز "گنگا ڈیلٹا" پر مشتمل ہے، جو دنیا کا سب سے بڑا دریائی ڈیلٹا ہے۔ شمال مغربی اور وسطی حصے سطح مرتفع پر مبنی ہیں، جبکہ شمال مشرق اور جنوب مشرق میں سدا بہار پہاڑی سلسلے موجود ہیں۔

گنگا ڈیلٹا تین بڑے دریاؤں گنگا (مقامی نام پدما)، برہم پتر (جمنا)، اور میگھنا کے ملاپ سے بنتا ہے۔ یہ دریا آپس میں مل کر آخر کار خلیج بنگال میں گرتے ہیں۔ بنگلہ دیش کو "دریاؤں کی سرزمین" کہا جاتا ہے کیونکہ یہاں 57 سے زائد ایسے دریا بہتے ہیں جو سرحد پار سے آتے ہیں، جو کسی بھی ملک کے مقابلے میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔ بھارت کے زیریں علاقے میں واقع ہونے کی وجہ سے پانی کے مسائل یہاں سیاسی طور پر کافی پیچیدہ ہیں۔

بنگلہ دیش کی زمین زیادہ تر زرخیز اور ہموار ہے۔ اس کا بڑا حصہ سطح سمندر سے صرف 12 میٹر بلند ہے، اور یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ اگر سطح سمندر 1 میٹر بلند ہو جائے تو ملک کی 10 فیصد زمین زیرِ آب آ سکتی ہے۔ ملک کا 12 فیصد حصہ پہاڑی ہے، جبکہ یہاں کی مرطوب زمینیں عالمی ماحولیاتی سائنس کے لیے بہت اہمیت رکھتی ہیں۔ بنگلہ دیش کا بلند ترین مقام "ساکا ہافونگ" ہے جو میانمار کی سرحد کے قریب واقع ہے اور اس کی بلندی 1,064 میٹر ہے۔

بنگلہ دیش میں جنگلات کل رقبے کے تقریباً 14 فیصد حصے پر پھیلے ہوئے ہیں جو 2020ء کے اعداد و شمار کے مطابق 1,883,400 ہیکٹر بنتا ہے۔ ان جنگلات میں سے زیادہ تر قدرتی طور پر اگے ہوئے ہیں جبکہ ایک چھوٹا حصہ لگائے گئے درختوں پر مشتمل ہے۔ 2015ء کی رپورٹ کے مطابق ملک کے تمام جنگلات سرکاری ملکیت میں ہیں۔

بنگلہ دیش میں اکتوبر سے مارچ تک ہلکی سردی اور مارچ سے جون تک مرطوب موسم گرما ہوتا ہے۔ ملک میں ہوا کا درجہ حرارت کبھی بھی 0 ڈگری سینٹی گریڈ (32 ڈگری فارن ہائیٹ) سے نیچے ریکارڈ نہیں کیا گیا۔ سب سے کم درجہ حرارت 1.1 ڈگری سینٹی گریڈ (34.0 ڈگری فارن ہائیٹ) 3 فروری 1905ء کو شمال مغربی شہر دیناج پور میں ریکارڈ کیا گیا۔ جون سے اکتوبر تک ایک گرم اور مرطوب مون سون کا موسم رہتا ہے جو ملک کی زیادہ تر بارشیں لاتا ہے۔ سیلاب، سمندری طوفان، بگولے اور مدوجزر کی لہریں جیسی قدرتی آفتیں تقریباً ہر سال آتی ہیں، جس پر جنگلات کی کٹائی، زمینی کٹاؤ اور مٹی کے بنیادی ڈھانچے کی تباہی کے اثرات بھی شامل ہیں۔ 1970ء اور 1991ء کے سمندری طوفان خاص طور پر تباہ کن تھے۔ 1991ء کے طوفان نے تقریباً 140,000 افراد ہلاک کر دیے۔

ستمبر 1998ء میں بنگلہ دیش نے جدید تاریخ کا سب سے شدید سیلاب دیکھا، جس کے بعد ملک کا دو تہائی حصہ زیر آب آ گیا اور تقریباً 1,000 افراد ہلاک ہوئے۔ آفات کے خطرے کو کم کرنے کے مختلف بین الاقوامی اور قومی اقدامات کے نتیجے میں، سیلاب اور سمندری طوفانوں سے انسانی ہلاکتوں اور معاشی نقصان میں گذشتہ سالوں کے دوران کمی آئی ہے۔ 2007ء کے جنوب ایشیائی سیلاب نے پورے ملک کے علاقوں کو تباہ کر دیا، جس سے پچاس لاکھ افراد بے گھر ہوئے اور تقریباً 500 افراد ہلاک ہوئے۔

بنگلہ دیش کو موسمیاتی تبدیلیوں (کلائمیٹ چینج) سے سب سے زیادہ خطرے کا شکار ممالک میں شمار کیا جاتا ہے۔ ایک صدی کے دوران خلیج بنگال کے خطے میں 508 سمندری طوفان آئے ہیں، جن میں سے تقریباً 17 فیصد بنگلہ دیش کے ساحلوں سے ٹکرائے۔ یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے بارشوں میں اضافے، سطح سمندر کی بلندی اور شدید سمندری طوفانوں جیسے قدرتی خطرات مزید بڑھیں گے، جس سے زراعت، خوراک، پینے کے پانی، انسانی صحت اور رہائش کے مسائل پیدا ہوں گے۔ ایک اندازے کے مطابق 2050ء تک سطح سمندر میں تین فٹ اضافے سے بنگلہ دیش کی تقریباً 20 فیصد زمین زیرِ آب آ جائے گی اور تین کروڑ سے زائد افراد بے گھر ہو سکتے ہیں۔ سطح سمندر میں اضافے کے اس خطرے سے نمٹنے کے لیے حکومت نے "بنگلہ دیش ڈیلٹا پلان 2100ء" شروع کیا ہے۔

بنگلہ دیش قدرتی تنوع اور جنگلی حیات سے مالا مال ملک ہے۔ اس کا جغرافیہ سمندری ساحلوں، دریاؤں، زرخیز میدانوں اور گھنے جنگلات پر مشتمل ہے۔ یہاں دنیا کا سب سے بڑا مینگروو جنگل "سندر بن" واقع ہے، جو یونیسکو کا عالمی ورثہ بھی ہے اور بنگال ٹائیگر کا مسکن ہے۔ اس کے علاوہ یہاں ہاتھی، تیندوے، ڈولفن اور پرندوں کی سینکڑوں اقسام پائی جاتی ہیں۔ ملک کی زمین انتہائی زرخیز ہے جہاں آم، ناریل اور بانس کے باغات عام ہیں۔ بنگلہ دیش میں پودوں کی 6,000 اور پرندوں کی 600 سے زائد اقسام موجود ہیں۔ تاہم، بڑھتی ہوئی آبادی اور صنعتی آلودگی کی وجہ سے یہاں کی قدرتی حیات کو خطرات بھی لاحق ہیں۔ حکومت نے تحفظِ ماحول کے لیے کئی قوانین بنائے ہیں اور سندر بن سمیت کئی علاقوں کو محفوظ قرار دے کر ٹائیگر پروجیکٹ جیسے حفاظتی اقدامات شروع کیے ہیں۔

آبادیات

بنگلہ دیش کی آبادی 2022ء کی مردم شماری کے مطابق 169.8 ملین (تقریباً‌ سترہ کروڑ) ریکارڈ کی گئی تھی، جو 2023ء تک بڑھ کر 171.4 ملین ہو گئی۔ یہ آبادی کے لحاظ سے دنیا کا آٹھواں، ایشیا کا پانچواں سب سے بڑا، اور دنیا کا سب سے گنجان آباد بڑا ملک ہے۔ بنگلہ دیش میں 2020ء میں کثافتِ آبادی 1,265 افراد فی مربع کلومیٹر تھی۔ بنگلہ دیش کی مجموعی شرحِ پیدائش، جو کبھی دنیا میں سب سے زیادہ تھی، اس میں ڈرامائی کمی آئی ہے، جو 1985ء میں 5.5 سے گر کر 1995ء میں 3.7، اور 2022ء میں صرف 1.9 رہ گئی ہے، جو کہ 2.1 کی تبدیلی کی ضروری شرح سے بھی کم ہے۔ زیادہ تر آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے، جبکہ 2023ء تک صرف 40 فیصد آبادی شہری علاقوں میں مقیم ہے۔ بنگلہ دیش کی اوسط عمر تقریباً 28 سال ہے اور کل آبادی کا 26 فیصد حصہ 14 سال یا اس سے کم عمر کا ہے، اور صرف 6 فیصد افراد کی عمر 65 سال یا اس سے زیادہ ہے۔

نسلی و لسانی تنوع

بنگلہ دیش نسلی اور ثقافتی طور پر یکساں معاشرہ ہے جس میں بنگالی 99 فیصد آبادی پر مشتمل ہیں۔ مقامی قبائلی آبادی میں چکما، مارما، سانتھال، مرو، تنچنگیا، باوم، تریپوری، کھاسی، کھومی، کُکی، گارو، اور بسنوپریہ منی پوری شامل ہیں۔ چٹاگانگ ہل ٹریکٹس کے علاقے میں 1975ء سے 1997ء تک مقامی لوگوں کی خودمختاری کی تحریک کے باعث بد امنی اور شورش رہی۔ اگرچہ 1997ء میں ایک امن معاہدہ ہوا، لیکن یہ خطہ فوجی کنٹرول میں ہے۔ اردو بولنے والے پھنسے ہوئے پاکستانیوں کو 2008ء میں سپریم کورٹ نے شہریت دی تھی۔ بنگلہ دیش 2017ء سے 700,000 سے زائد روہنگیا مہاجرین کو بھی پناہ دیے ہوئے ہے، جو اسے دنیا کی سب سے بڑی مہاجر آبادیوں میں سے ایک بناتا ہے۔

بڑے شہر

بنگلہ دیش کا دارالحکومت اور سب سے بڑا شہر ڈھاکا ہے، جسے دو شہری کارپوریشنز چلاتی ہیں جو شہر کے شمالی اور جنوبی حصوں کا انتظام سنبھالتی ہیں۔ کل 13 شہری کارپوریشنز ہیں جن کے لیے میئر کے انتخابات ہوتے ہیں۔ ڈھاکا ساؤتھ، ڈھاکا نارتھ، چٹاگانگ، کومیلا، کھلنا، میمن سنگھ، سلہٹ، راجشاہی، باریسال، رنگپور، غازی پور، بوگرا اور نارائن گنج۔ میئر پانچ سال کی مدت کے لیے منتخب ہوتے ہیں۔ مجموعی طور پر بنگلہ دیش میں 506 شہری مراکز ہیں، جن میں سے 43 شہروں کی آبادی ایک لاکھ سے زیادہ ہے۔ بنگلہ دیش کے بڑے شہر درج ذیل ہیں۔

  1. ڈھاکا: 10,278,882

  2. چٹاگانگ: 3,227,246

  3. غازی پور: 2,674,697

  4. نارائن گنج: 967,724

  5. کھلنا: 718,735

  6. رنگپور: 708,384

  7. میمن سنگھ: 576,722

  8. راجشاہی: 552,791

  9. سلہٹ: 532,426

  10. بوگرا: 542,420

زبانیں

بنگلہ دیش کی سرکاری اور غالب زبان بنگالی ہے، جو 99 فیصد سے زیادہ آبادی کی مادری زبان ہے۔ بنگالی زبان کے ملک بھر میں مختلف لہجے بولے جاتے ہیں۔ چٹاگونی، جو چٹاگانگ کے جنوب مشرقی علاقے میں بولی جاتی ہے۔ نواخالی، نواخالی ضلع میں۔ اور سلہٹی، سلہٹ کے شمال مشرقی علاقے میں۔

انگریزی ملک کی برطانوی سلطنت کی تاریخ کے باعث بنگلہ دیش کے عدالتی اور تعلیمی معاملات میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہ بڑے پیمانے پر بولی اور سمجھی جاتی ہے، اور تمام اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں لازمی مضمون کے طور پر پڑھائی جاتی ہے، جبکہ انگریزی میڈیم تعلیمی نظام بھی بڑے پیمانے پر رائج ہے۔

قبائلی زبانیں اگرچہ خطرے سے دوچار ہیں، ان میں چکما زبان شامل ہے، جو چکما لوگوں کی ایک اور مشرقی ہند آریائی زبان ہے۔ دیگر میں گارو، میٹی، کوک بورک اور راخائن شامل ہیں۔ آسٹرو ایشیائی زبانوں میں، سنتالی زبان سب سے زیادہ بولی جاتی ہے، جو سنتال لوگوں کی مادری زبان ہے۔ پرانے پاکستانی اور ڈھاکہ کے بعض طبقات اکثر اردو کو اپنی مادری زبان کے طور پر استعمال کرتے ہیں، اگرچہ اس کا استعمال متنازعہ سمجھا جاتا ہے۔

مذاہب

اسلام بنگلہ دیش کا ریاستی مذہب ہے۔ تاہم آئین سیکولرازم کی تائید بھی کرتا ہے اور تمام مذاہب کے لیے مساوی حقوق یقینی بناتا ہے۔ ہر شہری کو کسی بھی مذہب پر عمل کرنے کی آزادی حاصل ہے۔ اسلام پورے ملک کا سب سے بڑا مذہب ہے، جسے تقریباً 91 فیصد آبادی مانتی ہے۔ بنگلہ دیشی شہریوں کی اکثریت بنگالی مسلمانوں پر مشتمل ہے جو سُنی اسلام کی پیروی کرتے ہیں۔ یہ ملک دنیا کا تیسرا سب سے زیادہ مسلم آبادی والا ملک ہے اور مجموعی طور پر مسلمانوں کی چوتھی سب سے بڑی آبادی کا حامل ہے۔

ہندو بنگلہ دیش کا دوسرا بڑا مذہبی اقلیتی گروہ اور دنیا میں ہندوؤں کی تیسری سب سے بڑی برادری ہے۔ 2022ء کی مردم شماری کے مطابق ہندو کل آبادی کا تقریباً‌ 8 فیصد ہیں۔

بدھ مت تیسرا سب سے زیادہ مانا جانے والا مذہب ہے، جسے صرف 0.6 فیصد آبادی مانتی ہے۔ بنگلہ دیشی بدھ مت کے ماننے والے زیادہ تر چٹاگانگ ہل ٹریکٹس کے قبائلی گروہوں اور ساحلی چٹاگانگ میں پھیلے بنگالی بدھ مت کی اقلیت میں مرتکز ہیں، جو زیادہ تر تھیرواد مکتب فکر سے وابستہ ہیں۔

عیسائیت چوتھا بڑا مذہب ہے جسے 0.3 فیصد آبادی مانتی ہے، جو بنیادی طور پر ایک چھوٹی بنگالی عیسائی اقلیت پر مشتمل ہے۔ جبکہ 0.1 فیصد آبادی دیگر مذاہب جیسے جاندار پرستی پر عمل کرتی ہے یا غیر مذہبی ہے۔

تعلیم

آئین میں کہا گیا ہے کہ تمام بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم حاصل ہو گی۔ بنگلہ دیش میں تعلیم وزارتِ تعلیم کے تحت ہے۔ "منسٹری آف پرائمری اینڈ ماس ایجوکیشن" پرائمری تعلیم اور ریاستی فنڈز والے اسکولوں کی مقامی سطح پر پالیسی نافذ کرنے کی ذمہ دار ہے۔ پرائمری اور ثانوی تعلیم لازمی ہے، اور سرکاری اسکولوں میں ریاست کی طرف سے مالی تعاون اور مفت فراہم کی جاتی ہے۔ بنگلہ دیش میں خواندگی کی شرح 2021ء تک 76 فیصد تھی۔ مردوں کی 79 فیصد اور خواتین کی 71.9 فیصد۔ تعلیمی نظام تین سطحوں پر تقسیم ہے اور بھاری سبسڈی پر چلتا ہے۔ حکومت پرائمری، ثانوی اور ہائر سیکنڈری سطح کے بہت سے اسکول چلاتی ہے، اور بہت سے پرائیویٹ اسکولوں کو سبسڈی دیتی ہے۔ تاہم، تعلیم پر حکومتی اخراجات دنیا میں سب سے کم ہیں، جو کل جی ڈی پی کا صرف 1.8 فیصد ہیں۔

تعلیمی نظام پانچ سطحوں پر تقسیم ہے: پرائمری (پہلی سے پانچویں جماعت)، جونیئر سیکنڈری (چھٹی سے آٹھویں جماعت)، سیکنڈری (نویں اور دسویں جماعت)، ہائر سیکنڈری (گیارہویں اور بارہویں جماعت)، اور ٹیرٹری (یونیورسٹی کی سطح)۔

یونیورسٹیاں تین عمومی اقسام کی ہیں: سرکاری (حکومتی ملکیت اور یونیورسٹی گرانٹس کمیشن سے امداد شدہ)، پرائیویٹ (نجی ملکیت والی یونیورسٹیاں)، اور بین الاقوامی (بین الاقوامی تنظیموں کی امداد شدہ)۔ ملک میں 55 سرکاری، 115 پرائیویٹ اور 2 بین الاقوامی یونیورسٹیاں ہیں۔ نیشنل یونیورسٹی اندراج کے لحاظ سے دنیا کی دوسری سب سے بڑی یونیورسٹی ہے۔ ڈھاکہ یونیورسٹی، جو 1921ء میں قائم ہوئی، سب سے پرانی سرکاری یونیورسٹی ہے۔ بی یو ای ٹی انجینئرنگ تعلیم کی معیاری یونیورسٹی ہے۔ چٹاگانگ یونیورسٹی، جو 1966ء میں قائم ہوئی، کا سب سے بڑا کیمپس ہے۔ بی یو پی مسلح افواج سے وابستہ سب سے بڑی سرکاری یونیورسٹی ہے۔ ڈھاکہ کالج، جو 1841ء میں قائم ہوا، ہندوستانی برصغیر کے قدیم ترین تعلیمی اداروں میں سے ایک ہے۔ طبی تعلیم 39 سرکاری، 6 مسلح افواج اور 68 پرائیویٹ میڈیکل کالجوں میں فراہم کی جاتی ہے۔ تمام میڈیکل کالج وزارت صحت و خاندانی بہبود سے وابستہ ہیں۔

صحت عامہ

بنگلہ دیش کا آئین صحت کی دیکھ بھال کی خدمات کو تمام شہریوں کا بنیادی حق قرار دیتا ہے۔ وزارت صحت و خاندانی بہبود بنگلہ دیش کا سب سے بڑا ادارتی صحت فراہم کنندہ ہے، جس کے دو ذیلی ڈویژن ہیں: ہیلتھ سروس ڈویژن اور میڈیکل ایجوکیشن اینڈ فیملی ویلفیئر ڈویژن۔ تاہم، بنگلہ دیش میں صحت کی سہولیات ناکافی سمجھی جاتی ہیں، حالانکہ معیشت کی ترقی اور غربت میں نمایاں کمی کے ساتھ ان میں بہتری آئی ہے۔ بنگلہ دیش صحت کے کارکنوں کے شدید بحران کا شکار ہے، کیونکہ رسمی تربیت یافتہ افراد تمام کارکنوں کا ایک چھوٹا سا حصہ ہیں۔ دیہی معالجوں کے علاج کے طریقوں میں نمایاں خامیاں برقرار ہیں، جہاں نقصان دہ اور نامناسب ادویات تجویز کرنے کا رواج عام ہے۔

بنگلہ دیش کے ناکافی نظام صحت کو حکومت کی طرف سے شدید فنڈنگ کی کمی کا سامنا ہے۔ 2021ء تک کُل جی ڈی پی کا تقریباً 2.36 فیصد صحت کے شعبے کے لیے مختص تھا، اور صحت پر گھریلو عمومی حکومتی اخراجات کُل بجٹ کا 16.88 فیصد تھے، جبکہ آؤٹ آف پاکٹ اخراجات کل بجٹ کا غالب اکثریت، تقریباً 73 فیصد پر مشتمل تھے۔ گھریلو نجی صحت کے اخراجات کل صحت کے اخراجات کا تقریباً 75.48 فیصد تھے۔ ہر 10,000 افراد پر صرف 5.3 ڈاکٹر تھے، اور ہر 1,000 افراد پر تقریباً چھ معالج اور چھ نرسیں تھیں، جبکہ ہسپتال کے بستر ہر 1,000 پر 9 ہیں۔ ماہر سرجیکل ورک فورس صرف ہر 100,000 افراد پر 3 تھی، اور ہر 1,000 افراد پر تقریباً 5 کمیونٹی ہیلتھ ورکرز تھے۔

2022ء تک تقریباً 60 فیصد آبادی کو پینے کے صاف پانی تک رسائی حاصل تھی۔ 2002ء میں اندازہ لگایا گیا تھا کہ پینے کے پانی کا آدھا حصہ آرسینک سے آلودہ تھا، جو فی لیٹر 10 مائیکرو گرام کی سطح سے تجاوز کر رہا تھا۔

بنگلہ دیش دنیا کی بدترین فضائی معیار کے مسئلے سے دوچار ہے، جو زیادہ تر گنجان آباد شہری علاقوں، خاص طور پر دارالحکومت ڈھاکہ اور اس کے میٹروپولیٹن علاقے میں مرتکز ہے۔ عالمی بینک کے تخمینے کے مطابق 2019ء میں فضائی آلودگی کے شدید اثرات کی وجہ سے بنگلہ دیش میں تقریباً 80,000–90,000 اموات ہوئیں۔ یہ موت اور معذوری کی دوسری بڑی وجہ تھی، جس کی وجہ سے ملک کو کل جی ڈی پی کا تقریباً 4 سے 4.4 فیصد نقصان اٹھانا پڑا۔

2022ء تک پیدائش کے وقت بنگلہ دیش میں مجموعی متوقع عمر 74 سال تھی (مردوں کے لیے 72 سال اور خواتین کے لیے 76 سال)۔ اس میں نسبتاً زیادہ شیر خوار اموات کی شرح (ہر 1,000 زندہ پیدائش پر 24) اور بچوں کی اموات کی شرح (ہر 1,000 زندہ پیدائش پر 29) پائی جاتی ہے۔ 2020ء تک ماؤں کی اموات کی شرح اب بھی زیادہ ہے، جو ہر 100,000 زندہ پیدائش پر 123 ہے۔ بنگلہ دیش مختلف ممالک بنیادی طور پر بھارت کے لیے میڈیکل ٹورزم کی ایک اہم مارکیٹ ہے، جو اس کے شہریوں کے اپنے نظامِ صحت سے عدمِ اطمینان اور عدمِ اعتماد کی وجہ سے ہے۔

موت کی بنیادی وجوہات کورونری آرٹری بیماری، فالج، اور دائمی تنفسی بیماری ہیں؛ جو بالترتیب تمام بالغ مرد اور خواتین کی اموات کا 62 فیصد اور 60 فیصد حصہ ہیں۔ غذائی قلت بنگلہ دیش کا ایک بڑا اور مستقل مسئلہ ہے، جو بنیادی طور پر دیہی علاقوں کو متاثر کرتا ہے، جہاں نصف سے زیادہ آبادی اس سے متاثر ہے۔ لاکھوں بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔ پانچ سال سے کم عمر کے بچے 52 فیصد خون کی کمی (انیمیا) سے متاثر ہیں، 41 فیصد قد میں کم ہیں، 16 فیصد کمزور ہیں، اور 36 فیصد کا وزن کم ہے۔ خواتین کا ایک چوتھائی وزن میں کم ہے اور تقریباً 15 فیصد کا قد چھوٹا ہے، جبکہ نصف سے زیادہ خون کی کمی کا شکار ہیں۔ بنگلہ دیش 2024ء کے گلوبل ہنگر انڈیکس (بھوک) میں شامل 127 ممالک میں 84ویں نمبر پر تھا۔

تہوار اور تقریبات

بنگلہ دیش میں ثقافتی، مذہبی اور قومی تہوار بڑے جوش و خروش سے منائے جاتے ہیں۔ بنگالی سالِ نو (پہیلا بوشاک) سب سے بڑا ثقافتی میلہ ہے۔ اس کے علاوہ بہار کا استقبال (پہیلا پھلگن)، فصلوں کی کٹائی کے تہوار (نبونو) اور پتنگ بازی کا میلہ (شکرائن) بھی بہت مقبول ہیں۔ مسلمان اکثریت عید الفطر اور عید الاضحیٰ کو طویل سرکاری تعطیلات کے ساتھ مناتی ہے۔ دیگر اہم ایام میں عید میلاد النبیؐ، شبِ برات اور یومِ عاشورہ شامل ہیں۔ ہندو برادری کا بڑا تہوار درگا پوجا ہے، جبکہ بدھ مت کے ماننے والے بدھ پورنیما اور مسیحی برادری کرسمس (بڑو دن) مناتی ہے۔ 21 فروری کو "مادری زبان کا عالمی دن" لسانی تحریک کے شہداء کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ 26 مارچ کو یومِ آزادی اور 16 دسمبر کو یومِ فتح کے طور پر منایا جاتا ہے، جس میں قومی یادگاروں پر عوامی اجتماعات اور شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔

ادب

بنگالی ادب، بنگالی ثقافت کا ایک نہایت اہم حصہ ہے، جس کی جڑیں دسویں صدی کی نظموں (چریا پد) سے ملتی ہیں۔ قرونِ وسطیٰ میں بنگالی ادیب عربی اور فارسی ادب سے متاثر رہے، اور اسی دور میں رامائن اور مہابھارت کے بنگالی تراجم بھی ہوئے۔ جدید بنگالی ادب پر "بنگال رینیساں" (نشاۃ ثانیہ) کے گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ مائیکل مدھوسودن دت نے جدید شاعری کی بنیاد رکھی، جبکہ رابندر ناتھ ٹیگور ادب میں نوبل انعام جیتنے والے پہلے ایشیائی بنے۔ قاضی نذر الاسلام اپنے انقلابی کلام کی وجہ سے "باغی شاعر" کہلائے۔ بیگم رقیہ نے نسائی ادب (feminism) کی بنیاد رکھی اور جسیم الدین "دیہاتی شاعر" کے طور پر مشہور ہوئے۔ بنگلہ دیش کی آزادی کے بعد ہمایوں احمد، شمس الرحمن اور احمد صفا جیسے ادیبوں نے بڑی مقبولیت حاصل کی۔ آج کل محمد ظفر اقبال سائنس فکشن اور انیس الحق معاصر ادب کے نمایاں نام ہیں۔ بنگلہ اکیڈمی کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والا "اکوشے کتاب میلہ" جنوبی ایشیا کے بڑے ادبی میلوں میں شمار ہوتا ہے۔

فنون

بنگلہ دیش کا طرزِ تعمیر یہاں کی تاریخ، مذہب اور ثقافت کا خوبصورت آئینہ دار ہے۔ قدیم دور کے آثارِ قدیمہ میں تیسری صدی قبل مسیح کے ہندو اور بدھ مت کے مندر اور خانقاہیں شامل ہیں، جن میں آٹھویں صدی کا "سوم پورہ مہاویہارا" سب سے نمایاں ہے۔ مسلم دور کے فنِ تعمیر کی بہترین مثالیں سلطنتِ بنگال کی مساجد ہیں، جیسے کہ یونیسکو کے عالمی ورثے میں شامل "ساٹھ گنبد والی مسجد"۔ مغل دور میں ڈھاکہ میں لال باغ قلعہ اور ست گنبد مسجد جیسی شاندار عمارتیں تعمیر ہوئیں۔ اس کے علاوہ، کانتاجیو مندر قرونِ وسطیٰ کے ہندو فنِ تعمیر کا شاہکار ہے۔ برطانوی دور میں "انڈو ساراسینک" طرزِ تعمیر مقبول ہوا، جس کی مثالیں ڈھاکہ یونیورسٹی کا کرزن ہال اور احسن منزل جیسے محلات ہیں۔ جدید بنگلہ دیشی فنِ تعمیر کے بانی مظہر الاسلام مانے جاتے ہیں، جبکہ امریکی ماہرِ تعمیرات لوئس کاہن کا ڈیزائن کردہ "قومی پارلیمنٹ ہاؤس" بنگلہ دیش کی جدید پہچان ہے۔

بنگلہ دیش میں فنونِ لطیفہ کی تاریخ تیسری صدی قبل مسیح کے مٹی کے مجسموں سے شروع ہوتی ہے (مجسمہ سازی بنگلہ دیش کی اکثریتی مسلم آبادی کے عقائد کی رو سے محلِ نظر ہے۔ ترجمان)۔ مغل دور میں ڈھاکہ کی "جامدانی" اور ململ دنیا بھر میں مشہور ہوئی، جسے یونیسکو نے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ راجشاہی کا ریشم، نقشہ کانٹھا (کڑھائی والے لحاف) اور مٹی کے برتن بنگلہ دیشی ثقافت کی پہچان ہیں۔ جدید مصوری میں زین العابدین، ایس ایم سلطان اور قمر الحسن جیسے فنکاروں نے عالمی شہرت حاصل کی۔ نوویرا احمد کو جدید مجسمہ سازی کی بانی مانا جاتا ہے۔ ڈھاکہ یونیورسٹی کا "منگل شوبھا جاترا" (سالِ نو کی پریڈ) بھی یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کا حصہ ہے۔ حالیہ برسوں میں فوٹوگرافی نے بھی بہت ترقی کی ہے اور ڈھاکہ میں ایشیا کا سب سے بڑا فوٹوگرافی فیسٹیول منعقد ہوتا ہے۔ لباس کے لحاظ سے مردوں میں لنگی اور کرتا (پنجابی) عام ہے، جبکہ شادیوں میں شیروانی اور چوڑیدار پاجامہ پہنا جاتا ہے۔ خواتین عام طور پر شلوار قمیض اور دوپٹہ پہنتی ہیں، جبکہ خاص تقریبات کے لیے ساڑھی کو ترجیح دی جاتی ہے۔ کچھ خواتین اسلامی روایات کے مطابق پردے کا اہتمام بھی کرتی ہیں۔

بنگلہ دیش میں تھیٹر، موسیقی اور میڈیا کی تاریخ کافی قدیم اور متنوع ہے۔ بنگلہ دیشی تھیٹر کی تاریخ چوتھی صدی عیسوی سے ملتی ہے۔ "جاترا" یہاں کا مقبول ترین لوک تھیٹر ہے۔ رقص میں کتھک، بھرت ناٹیم اور منی پوری کے ساتھ ساتھ مقامی روایتی رقص بھی شامل ہیں۔ یہاں کلاسیکی، صوفیانہ اور عوامی موسیقی کا سنگم ملتا ہے۔ لالون شاہ کی "باول" موسیقی عالمی سطح پر مشہور ہے۔ رابندر سنگیت اور نذرل سنگیت آج بھی مقبول ہیں۔ گلوکاری میں رونا لیلیٰ، سبینہ یاسمین اور اینڈریو کشور جیسے نامور فنکار شامل ہیں، جبکہ پاپ اور راک موسیقی میں اعظم خان اور ایوب بچو نے شہرت حاصل کی۔ ایکتارہ، دوتارہ اور ڈھول یہاں کے روایتی ساز ہیں۔ بنگلہ دیش میں میڈیا کا آغاز 1860ء میں ہوا۔ آج یہاں درجنوں نجی ٹی وی چینلز اور اخبارات موجود ہیں، جن میں "ڈیلی اسٹار" اور "پرتھم آلو" نمایاں ہیں۔ تاہم، 2025ء کے ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس کے مطابق ملک میں صحافتی آزادی کی صورتحال تشویشناک ہے اور اسے 180 ممالک میں 149 ویں نمبر پر رکھا گیا ہے۔ بنگلہ دیشی سنیما کا باقاعدہ آغاز 1956ء میں فلم "مکھ او مکھوش" سے ہوا۔ ظہیر رائے خان اور طارق مسعود جیسے ہدایت کاروں نے عالمی سطح پر پذیرائی حاصل کی۔ طارق مسعود کی فلم "ماتیر موئنا" کو کانز فلم فیسٹیول میں ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اگرچہ ماضی میں یہاں سالانہ 80 کے قریب فلمیں بنتی تھیں، لیکن حالیہ برسوں میں فلموں کی تعداد میں کمی آئی ہے۔

خوراک

بنگلہ دیش کا دسترخوان اپنے جغرافیائی محلِ وقوع اور تاریخ کی وجہ سے انتہائی متنوع ہے۔ یہاں کی بنیادی غذا سفید چاول اور مچھلی ہے، جس کے ساتھ دالیں اور مختلف سبزیاں (بھرتہ اور بھاجی) شوق سے کھائی جاتی ہیں۔ مغلئی اثرات کی وجہ سے بریانی، قورمہ، پلاؤ اور کباب بھی بہت مقبول ہیں۔ بنگلہ دیش "دریاؤں کی سرزمین" ہے، اس لیے مچھلی پروٹین کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ "ہلسا" یہاں کی قومی مچھلی ہے، جبکہ چٹاگانگ کا "کالا بھونا" اور "میزبانی گوشت" اپنی لذت کے لیے مشہور ہیں۔ مصالحوں میں ہلدی، کلونجی، رائی کا تیل اور میتھی کا استعمال عام ہے۔ میٹھوں میں رس گلہ، رس ملائی، چم چم اور میٹھی دہی بہت پسند کی جاتی ہے۔ روایتی "پٹھا" (چاول سے بنی مٹھائی) بھی یہاں کی خاص پہچان ہے۔ مشروبات میں دودھ پتی چائے سب سے زیادہ پی جاتی ہے، جبکہ برہانی اور لسی بھی مقبول ہیں۔ اسٹریٹ فوڈ میں چٹ پٹی، جھال موری، سنگاڑا اور پھچکا (گول گپے) ہر جگہ دستیاب ہوتے ہیں۔

کھیل

بنگلہ دیش کا قومی کھیل کبڈی ہے، جو دیہی علاقوں میں اب بھی مقبول ہے، لیکن کرکٹ ملک کا سب سے مشہور کھیل بن چکا ہے۔ بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم نے 1999ء میں اپنا پہلا ورلڈ کپ کھیلا اور بعد میں ٹیسٹ کرکٹ کا درجہ حاصل کیا۔ شکیب الحسن کا شمار کرکٹ کے عظیم آل راؤنڈرز میں ہوتا ہے۔ بنگلہ دیش نے انڈر 19 ورلڈ کپ اور ایشیا کپ سمیت کئی اہم ٹورنامنٹ جیتے ہیں۔

کرکٹ کے بعد فٹ بال دوسرا مقبول ترین کھیل ہے۔ 1971ء کی جنگِ آزادی کے دوران "شھادین بنگلا فٹ بال ٹیم" نے اہم کردار ادا کیا۔ قومی ٹیم نے 1980ء میں اے ایف سی ایشین کپ میں شرکت کی اور 2003ء کا سیف گولڈ کپ جیتا۔ خواتین کی فٹ بال ٹیم نے بھی حالیہ برسوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

دیگر کھیلوں میں بنگلہ دیش کی تیر انداز خواتین رومن ثناء اور ایتی خاتون نے جنوبی ایشین گیمز میں گولڈ میڈل جیتے ہیں۔ شطرنج بھی کافی مقبول ہے اور نیاز مرشد جنوبی ایشیا کے پہلے گرینڈ ماسٹر بنے۔ موسیٰ ابراہیم اور وصفیہ نازرین جیسے کوہ پیماؤں نے ماؤنٹ ایورسٹ اور دنیا کی دیگر بلند چوٹیوں کو سر کیا ہے۔

معیشت

بنگلہ دیش ایک نچلے درمیانی آمدنی والا ملک ہے، جس کی معیشت مخلوط منڈی کے اصولوں پر استوار ہے۔ حجم کے اعتبار سے یہ دنیا کی چھتیسویں بڑی معیشت ہے، جبکہ قوتِ خرید کے مساویے کے لحاظ سے اسے چوبیسواں درجہ حاصل ہے۔ ملک کی افرادی قوت 71.4 ملین افراد پر مشتمل ہے، جو دنیا میں ساتویں بڑی ہے، اور 2023ء تک بے روزگاری کی شرح 5.1 فیصد رہی۔

اگرچہ زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی آ رہی ہے، تاہم جنوبی ایشیا میں بھارت کے بعد بنگلہ دیش دوسرے نمبر پر ہے۔ بیرونِ ملک مقیم بنگلہ دیشی باشندوں نے 2024ء میں تقریباً 27 ارب امریکی ڈالر کی ترسیلاتِ زر بھیجیں۔ بنگلہ دیشی ٹاکا ملک کی قومی کرنسی ہے۔

2023ء تک خدمات کا شعبہ مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً 51.5 فیصد حصہ رکھتا ہے، اس کے بعد صنعتی شعبہ (34.6 فیصد) ہے، جبکہ زرعی شعبہ صرف 11 فیصد کے ساتھ سب سے چھوٹا ہے، اگرچہ یہی شعبہ افرادی قوت کے تقریباً نصف کو روزگار فراہم کرتا ہے۔ برآمدی آمدنی کا 84 فیصد سے زائد حصہ ٹیکسٹائل صنعت سے حاصل ہوتا ہے۔ بنگلہ دیش دنیا کا دوسرا بڑا ملبوسات برآمد کرنے والا ملک ہے اور عالمی تیز رفتار فیشن صنعت میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔

دیگر اہم پیداوار میں جوٹ، چاول، مچھلی، چائے اور پھول شامل ہیں۔ نمایاں صنعتوں میں جہاز سازی، ادویہ سازی، فولاد، برقی آلات اور چمڑے کی مصنوعات شامل ہیں۔ چین بنگلہ دیش کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے (15 فیصد)، اس کے بعد بھارت ہے (8 فیصد)۔

نجی شعبہ مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً 80 فیصد پیدا کرتا ہے، جبکہ سرکاری ملکیت کے اداروں کا کردار بتدریج کم ہو رہا ہے۔ معیشت پر خاندانی ملکیت کے بڑے کاروباری گروہوں اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں کا غلبہ ہے۔ نمایاں عوامی سطح پر کاروبار کرنے والی کمپنیوں میں بیگزیمکو، بریک بینک، بی ایس آر ایم، جی پی ایچ اسپات، گرامین فون، سمٹ گروپ اور اسکوائر فارماسیوٹیکلز شامل ہیں۔ ڈھاکا اور چٹاگانگ اسٹاک ایکسچینج ملک کی دو بڑی سرمایہ منڈیاں ہیں۔

ٹیلی مواصلات کی صنعت دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی صنعتوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں نومبر 2024ء تک موبائل فون صارفین کی تعداد 188.78 ملین (تقریباً‌ اُنیس کروڑ) تک پہنچ چکی تھی۔ سیاسی عدمِ استحکام، بلند افراطِ زر، اندرونی بدعنوانی، ناکافی بجلی کی فراہمی اور اصلاحات کی سست رفتار معاشی ترقی کے بڑے چیلنج ہیں۔ بنگلہ دیش کو 2024ء اور 2025ء کے عالمی جدت اشاریے میں 106واں مقام حاصل ہوا۔

توانائی

2009ء میں روزانہ کئی بار بجلی کی بندش کا سامنا کرنے والا بنگلہ دیش 2022ء تک سو فیصد آبادی کو بجلی کی رسائی فراہم کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ ملک بتدریج سبز معیشت کی جانب بڑھ رہا ہے اور یہاں دنیا کا سب سے بڑا آف گرڈ شمسی توانائی منصوبہ موجود ہے، جس سے دو کروڑ افراد مستفید ہو رہے ہیں۔ ’’پالکی‘‘ نامی برقی گاڑی ملک میں تیاری کے مرحلے میں ہے، جبکہ حیاتیاتی گیس کو نامیاتی کھاد کی تیاری میں استعمال کیا جا رہا ہے۔

روسی کمپنی روساتوم کی معاونت سے زیرِ تعمیر روپ پور جوہری بجلی گھر ملک کا پہلا فعال جوہری توانائی منصوبہ ہوگا، جس کے دو میں سے پہلے یونٹ کے 2025ء میں فعال ہونے کی توقع ہے۔

بنگلہ دیش کے سمندری علاقوں میں قدرتی گیس کے وسیع مگر غیر دریافت شدہ ذخائر موجود ہیں۔ تلاش میں کمی اور ثابت شدہ ذخائر کے گھٹنے کے باعث ملک کو بیرونِ ملک سے مائع قدرتی گیس درآمد کرنا پڑی۔ روس اور یوکرین کی جنگ نے عالمی سطح پر گیس کی قلت میں مزید اضافہ کیا۔ جولائی 2022ء میں قیمتوں میں شدید اضافے کے سبب بنگلہ دیش نے عارضی طور پر کھلی منڈی سے گیس کی خرید روک دی، تاہم فروری 2023ء میں قیمتوں میں کمی کے بعد دوبارہ خریداری شروع کر دی گئی۔

اگرچہ سرکاری ادارے ملک کی تقریباً نصف بجلی پیدا کرتے ہیں، تاہم سمٹ گروپ اور اورین گروپ جیسی نجی کمپنیاں بجلی پیدا کرنے اور مشینری و ساز و سامان کی فراہمی میں تیزی سے اہمیت اختیار کر رہی ہیں۔ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 2009ء میں 5 گیگاواٹ سے بڑھ کر 2022ء میں 25.5 گیگاواٹ ہو گئی، اور 2041ء تک اسے 50 گیگاواٹ تک پہنچانے کا منصوبہ ہے۔ چیورون اور جنرل الیکٹرک جیسی امریکی کمپنیاں گھریلو گیس پیداوار کا تقریباً 55 فیصد فراہم کرتی ہیں، جبکہ گیس سے چلنے والے بجلی گھروں کی 80 فیصد صلاحیت امریکی ساختہ ٹربائنوں پر مشتمل ہے۔

سیاحت

سیاحت کی صنعت تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً 3.02 فیصد حصہ رکھتی ہے۔ 2019ء میں بین الاقوامی سیاحت سے حاصل ہونے والی آمدنی 391 ملین امریکی ڈالر تھی۔ بنگلہ دیش میں یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی تین مقامات (1) مسجد شہر، (2) بدھ خانقاہیں (3) اور سندربن واقع ہیں، جبکہ سات مقامات تجویزی فہرست میں شامل ہیں۔ عالمی سفر و سیاحت کونسل کی 2019ء کی رپورٹ کے مطابق 2018ء میں اس صنعت نے براہِ راست 11 لاکھ 80 ہزار سے زائد ملازمتیں فراہم کیں، جو ملک کی کل ملازمتوں کا تقریباً 1.9 فیصد بنتا ہے۔ اسی رپورٹ کے مطابق ہر سال تقریباً ایک لاکھ پچیس ہزار بین الاقوامی سیاح بنگلہ دیش کا رخ کرتے ہیں، جبکہ 2012ء میں اندرونی سیاحت کے اخراجات نے سیاحت سے متعلق مجموعی قومی پیداوار کا 97.7 فیصد حصہ پیدا کیا۔

حکومت اور سیاست

جنوبی ایشیا کے دل میں واقع بنگلہ دیش کی سیاسی تاریخ جدوجہد، قربانی اور مسلسل ارتقا کی داستان ہے۔ یہ ملک 1971ء میں ایک خونریز آزادی کی جنگ کے بعد دنیا کے نقشے پر ابھرا، اور تب سے اب تک اس کا سیاسی نظام کئی نشیب و فراز سے گزرتا رہا ہے۔ بنگلہ دیش کی سیاست کو سمجھنے کے لیے اس کے تاریخی پس منظر، آئینی ڈھانچے، سیاسی جماعتوں اور فوج و عدلیہ کے کردار کا جائزہ لینا ناگزیر ہے۔

بنگلہ دیش کی سیاست کی جڑیں برطانوی نوآبادیاتی دور اور بعد ازاں پاکستان کے ساتھ الحاق میں پیوست ہیں۔ 1947ء میں قیامِ پاکستان کے بعد مشرقی پاکستان کو سیاسی، معاشی اور لسانی محرومیوں کا سامنا رہا۔ 1952ء کی لسانی تحریک اور پھر 1960ء کی دہائی کی عوامی بیداری نے بنگالی قوم پرستی کو تقویت دی۔ بالآخر 1971ء میں شیخ مجیب الرحمٰن کی قیادت میں آزادی حاصل ہوئی، جس نے بنگلہ دیش کی سیاست کو ایک واضح قومی شناخت دی۔

آئینی و حکومتی ڈھانچہ

بنگلہ دیش ایک جمہوری، پارلیمانی ریاست ہے۔ 1972ء کا آئین ملک کا بنیادی دستاویز ہے، جس میں عوامی حاکمیت، سیکولرازم، قوم پرستی اور سماجی انصاف کو بنیادی اصول قرار دیا گیا۔ صدر ریاست کا علامتی سربراہ ہوتا ہے، جبکہ اصل اختیارات وزیرِ اعظم اور کابینہ کے پاس ہوتے ہیں۔ قومی پارلیمان (جاتیہ سنگشد) واحد قانون ساز ادارہ ہے، جس کے ارکان عوام کے ووٹ سے منتخب ہوتے ہیں۔

دو جماعتی نظام

بنگلہ دیش کی سیاست بنیادی طور پر دو بڑی جماعتوں کے گرد گھومتی ہے:

  • عوامی لیگ (Awami League)
  • بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP)

عوامی لیگ، جس کی بنیاد شیخ مجیب الرحمٰن نے رکھی، نسبتاً سیکولر اور قوم پرستانہ نظریات کی حامل ہے۔ دوسری جانب BNP، ضیاء الرحمٰن کے سیاسی ورثے کی امین، قوم پرستی اور نسبتاً قدامت پسند رجحانات رکھتی ہے۔ ان دونوں جماعتوں کی باہمی رقابت نے سیاست کو شدید محاذ آرائی کی شکل دی، جس کے نتیجے میں اکثر سیاسی تعطل، ہڑتالیں اور احتجاجی سیاست دیکھنے میں آئی۔

فوج، مارشل لا اور جمہوری تسلسل

آزادی کے بعد بنگلہ دیش کو متعدد فوجی مداخلتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ 1975ء میں شیخ مجیب الرحمٰن کے قتل کے بعد فوجی حکومتوں کا دور شروع ہوا، جو 1990ء تک مختلف شکلوں میں جاری رہا۔ اگرچہ 1991ء کے بعد جمہوری نظام بحال ہوا، مگر فوج کا سیاسی کردار ایک اہم بحث کا موضوع رہا ہے۔ اس کے باوجود، وقت کے ساتھ جمہوری ادارے مضبوط ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔

نگران حکومت کا تصور

بنگلہ دیش کی سیاست کا ایک منفرد پہلو نگراں حکومت (Caretaker Government) کا نظام تھا، جو منصفانہ انتخابات کے لیے متعارف کرایا گیا۔ اس نظام کے تحت انتخابات سے قبل ایک غیر جماعتی عبوری حکومت قائم کی جاتی تھی۔ اگرچہ اس نظام نے کچھ عرصہ سیاسی اعتماد بحال رکھا، مگر بعد میں اسے آئینی ترمیم کے ذریعے ختم کر دیا گیا، جس پر سیاسی اختلافات آج بھی موجود ہیں۔

عدلیہ، میڈیا اور سول سوسائٹی

عدلیہ بظاہر آزاد ہے اور آئینی تشریحات میں اہم کردار ادا کرتی ہے، تاہم اس کی خودمختاری پر کبھی کبھار سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ میڈیا نسبتاً فعال اور بااثر ہے، جو سیاسی احتساب میں کردار ادا کرتا ہے۔ سول سوسائٹی، طلبہ تنظیمیں اور غیر سرکاری ادارے بھی سیاسی مباحث میں حصہ لیتے ہیں، اگرچہ ان کی آزادی کی حدود وقتاً فوقتاً زیرِ بحث رہتی ہیں۔

موجودہ سیاسی منظرنامہ

حالیہ برسوں میں بنگلہ دیش میں سیاسی استحکام کے ساتھ ساتھ اختیارات کے ارتکاز، اپوزیشن کی کمزوری اور انتخابی شفافیت جیسے مسائل پر تنقید بھی سامنے آئی ہے۔ معاشی ترقی اور انفراسٹرکچر کی بہتری نے حکومت کو عوامی حمایت فراہم کی، مگر سیاسی شمولیت اور جمہوری اقدار کے تحفظ کا سوال بدستور اہم ہے۔

بنگلہ دیش کا نظامِ سیاست ایک متحرک مگر پیچیدہ حقیقت ہے۔ یہ نظام تاریخ کی گہری چھاپ، شدید سیاسی رقابت اور عوامی جدوجہد سے تشکیل پایا ہے۔ اگرچہ جمہوریت نے یہاں جڑیں مضبوط کی ہیں، مگر اسے مؤثر، شفاف اور ہمہ گیر بنانے کے لیے سیاسی برداشت، ادارہ جاتی توازن اور عوامی اعتماد کا فروغ ناگزیر ہے۔ بنگلہ دیش کی سیاست دراصل ایک قوم کی مسلسل کوششوں کی کہانی ہے، ایک بہتر، منصفانہ اور مستحکم مستقبل کی تلاش۔

خارجہ تعلقات

بنگلہ دیش کو عالمی سیاست میں ایک درمیانی سطح کی طاقت تصور کیا جاتا ہے۔ جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا کے سنگم پر واقع ہونے کے باعث یہ ملک ہند-بحرالکاہلی خطّے کے جغرافیائی و سیاسی معاملات میں ایک نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔ بنگلہ دیش 1972ء میں دولتِ مشترکہ اور 1974ء میں اقوامِ متحدہ کا رکن بنا۔ اس کی خارجہ حکمتِ عملی کثیرالجہتی سفارت کاری پر مبنی ہے، خصوصاً موسمیاتی تبدیلی، جوہری ہتھیاروں کی عدم توسیع، تجارتی پالیسی اور غیر روایتی سلامتی کے امور کے حوالے سے۔

بنگلہ دیش نے جنوبی ایشیائی علاقائی تعاون تنظیم (سارک) کے قیام میں پیش قدمی کی، جو برصغیر میں علاقائی سفارت کاری کا ایک اہم فورم ہے۔ یہ 1974ء میں تنظیمِ تعاونِ اسلامی کا رکن بنا اور ترقی پذیر آٹھ ممالک کے اتحاد (ڈیولپنگ-8) کا بانی رکن بھی ہے۔ حالیہ برسوں میں، عالمی بینک کی معاونت سے بنگلہ دیش نے علاقائی تجارت اور نقل و حمل کے روابط کو مضبوط بنانے پر توجہ دی ہے۔ ایشیائی معاشی شراکت داری میں شمولیت بھی اس کی خارجہ پالیسی کے اہم اہداف میں شامل ہے۔ دارالحکومت ڈھاکا بنگال کی خلیج سے وابستہ ممالک کی تنظیم بمسٹیک کے صدر دفتر کی میزبانی کرتا ہے۔

ہمسایہ ملک میانمار کے ساتھ تعلقات 2016ء اور 2017ء کے بعد شدید تناؤ کا شکار ہیں، جب سات لاکھ سے زائد روہنگیا پناہ گزین غیر قانونی طور پر بنگلہ دیش میں داخل ہوئے۔ بنگلہ دیش کی پارلیمان، حکومت اور شہری معاشرے نے میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف فوجی کارروائیوں پر عالمی سطح پر سخت تنقید کی اور ان کی ریاستِ اراکان میں باعزت واپسی کا مطالبہ کیا۔

بھارت، جو بنگلہ دیش کا سب سے بڑا ہمسایہ ملک ہے، کے ساتھ اس کے دو طرفہ اور معاشی تعلقات نہایت اہم ہیں، تاہم دریائے گنگا اور تیستا کے پانی کی تقسیم اور سرحدی ہلاکتوں جیسے مسائل ان تعلقات پر اثر انداز ہوتے رہے ہیں۔ پاکستان کے ساتھ بنگلہ دیش کے تعلقات پیچیدہ نوعیت کے ہیں، جس کی بنیادی وجہ 1971ء کی نسل کشی سے متعلق تاریخی اختلافات ہیں۔ چین کے ساتھ بنگلہ دیش کے تعلقات خوشگوار ہیں؛ چین اس کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار اور سب سے بڑا اسلحہ فراہم کرنے والا ملک ہے۔ جاپان بنگلہ دیش کا سب سے بڑا ترقیاتی امداد فراہم کنندہ ہے، اور دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک و معاشی شراکت داری قائم ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ بھی بنگلہ دیش کے سیاسی تعلقات مضبوط ہیں، جہاں سے اسے اپنی ترسیلاتِ زر کا تقریباً 59 فیصد حاصل ہوتا ہے، اگرچہ بنگلہ دیشی محنت کشوں کو وہاں کام کے نامناسب حالات کا سامنا رہتا ہے۔

بنگلہ دیش عالمی موسمیاتی سفارت کاری میں کلائمیٹ ولنریبل فورم کی قیادت کرتے ہوئے ایک مؤثر کردار ادا کر رہا ہے۔

فوج

بنگلہ دیش کی مسلح افواج کا ادارہ جاتی ڈھانچہ برطانوی فوج اور برطانوی ہندستانی فوج کے ورثے پر قائم ہے۔ 2024ء تک مسلح افواج میں فعال اہلکاروں کی تعداد تقریباً دو لاکھ تیس ہزار تھی، جن میں فضائیہ کے اکیس ہزار اور بحریہ کے ستائیس ہزار اہلکار شامل تھے۔ روایتی دفاعی ذمہ داریوں کے علاوہ، مسلح افواج قدرتی آفات کے دوران شہری انتظامیہ کی مدد اور سیاسی بے امنی کے ادوار میں داخلی سلامتی کے قیام میں بھی کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ کئی برسوں سے بنگلہ دیش اقوامِ متحدہ کے امن مشنوں میں دنیا کا سب سے بڑا فوجی تعاون فراہم کرنے والا ملک رہا ہے۔

بنگلہ دیش کا فوجی بجٹ مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً 1.3 فیصد ہے، جو 2021ء میں تقریباً 4.3 ارب امریکی ڈالر کے برابر تھا۔ بنگلہ دیش بحریہ بنگال کی خلیج میں بڑی بحری قوتوں میں شمار ہوتی ہے، جس کے پاس فریگیٹس، آبدوزیں، کارویٹس اور دیگر بحری جہاز شامل ہیں۔ فضائیہ کے پاس کثیر المقاصد جنگی طیاروں کا ایک محدود بیڑا موجود ہے۔ فوجی ساز و سامان کی بڑی مقدار چین سے حاصل کی جاتی ہے۔

حالیہ برسوں میں بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان مشترکہ فوجی مشقوں، اعلیٰ سطحی فوجی دوروں، دہشت گردی کے خلاف تعاون اور خفیہ معلومات کے تبادلے میں اضافہ ہوا ہے۔ شمال مشرقی بھارت کے استحکام کے لیے بنگلہ دیش کی سلامتی نہایت اہم سمجھی جاتی ہے۔

سول سوسائٹی

نوآبادیاتی عہد ہی سے بنگلہ دیش میں ایک مضبوط اور نمایاں شہری معاشرہ (سول سوسائٹی) موجود رہا ہے۔ ملک میں مختلف النوع مفاداتی گروہ سرگرم عمل ہیں، جن میں غیر سرکاری تنظیمیں، انسانی حقوق کی تنظیمیں، پیشہ ورانہ انجمنیں، ایوانِ تجارت، آجر تنظیمیں اور مزدور یونینیں شامل ہیں۔ بنگلہ دیش قومی انسانی حقوق کمیشن کا قیام 2007ء میں عمل میں آیا۔

اہم انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقدامات میں مرکز برائے قانون و مصالحت، اودھیکار، بنگلہ دیش کے محنت کشوں کے تحفظ کا اتحاد، بنگلہ دیش ماحولیاتی قانون ایسوسی ایشن، بنگلہ دیش ہندو، بدھسٹ اور عیسائی اتحاد کونسل، اور جنگی جرائم کی حقائق معلوم کرنے والی کمیٹی شامل ہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم ’’بریک‘‘ کا صدر دفتر بھی بنگلہ دیش میں واقع ہے۔ تاہم حالیہ برسوں میں آزاد شہری معاشرے کے لیے دستیاب گنجائش میں کمی پر سنجیدہ تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

انسانی حقوق

اگرچہ آئین کے تحت تشدد پر مکمل پابندی عائد ہے، لیکن عملی طور پر بنگلہ دیش کی سلامتی فورسز میں تشدد کے استعمال کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ بنگلہ دیش 1998ء میں تشدد کے خلاف عالمی معاہدے میں شامل ہوا اور 2013ء میں اس نے اپنا پہلا انسدادِ تشدد قانون، یعنی تشدد اور حراستی ہلاکتوں کی روک تھام کا قانون نافذ کیا۔ اس قانون کے تحت پہلی سزا 2020ء میں سنائی گئی۔

عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بعض بنگلہ دیشی شہریوں، جن میں صابر حسین چودھری اور شاہدُ العالم شامل ہیں، کو ’’ضمیر کے قیدی‘‘ قرار دیا۔ شدید تنقید کی زد میں آنے والا ڈیجیٹل تحفظ قانون 2023ء میں منسوخ کر کے اس کی جگہ سائبر تحفظ قانون نافذ کیا گیا، جس کا بین الاقوامی پریس ادارے نے خیرمقدم کیا۔

دسمبر 2021ء میں عالمی یومِ انسانی حقوق کے موقع پر، ریاستہائے متحدہ کے محکمۂ خزانہ نے بنگلہ دیش کی ریپڈ ایکشن بٹالین کے بعض کمانڈروں پر ماورائے عدالت قتل، تشدد اور دیگر انسانی حقوق کی پامالیوں کے باعث پابندیاں عائد کیں۔ فریڈم ہاؤس نے بنگلہ دیشی حکومت پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور سیاسی عمل کے ذریعے حزبِ اختلاف، ذرائع ابلاغ اور شہری معاشرے پر دباؤ ڈالنے کا الزام عائد کیا ہے۔

فریڈم ہاؤس کی ’’دنیا میں آزادی‘‘ رپورٹ میں بنگلہ دیش کو ’’جزوی طور پر آزاد‘‘ ملک قرار دیا گیا ہے، جبکہ حکومتی دباؤ میں اضافے کے باعث حالیہ برسوں میں صحافتی آزادی کی درجہ بندی ’’آزاد‘‘ سے کم ہو کر ’’غیر آزاد‘‘ ہو گئی ہے۔ برطانوی اکنامسٹ انٹیلی جنس یونٹ کے مطابق، بنگلہ دیش میں ایک مخلوط طرزِ حکومت (ہائبرڈ نظام) رائج ہے اور جمہوریت کے اشاریے میں اسے چار میں سے تیسرا درجہ حاصل ہے۔ 2022ء کے عالمی امن اشاریے میں بنگلہ دیش 163 ممالک میں 96ویں نمبر پر تھا۔ قومی انسانی حقوق کمیشن کے مطابق، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے تقریباً 70 فیصد الزامات قانون نافذ کرنے والے اداروں سے متعلق ہیں۔

جنسی اقلیتوں کے حقوق کو سماجی قدامت پسند حلقوں میں ناپسندیدگی کا سامنا ہے۔ ہم جنس پرستی تعزیراتی قانون کی دفعہ 377 کے تحت جرم تصور کی جاتی ہے، جو دراصل برطانوی نوآبادیاتی دور کا قانون ہے۔ حکومت صرف ’’ہیجڑا‘‘ کے نام سے معروف خواجہ سرا اور دو جنسی شناخت رکھنے والی برادری کو سرکاری طور پر تسلیم کرتی ہے۔ 2023ء کے عالمی غلامی اشاریے کے مطابق، 2021ء تک بنگلہ دیش میں تقریباً بارہ لاکھ افراد غلامی جیسے حالات میں زندگی گزار رہے تھے، جو دنیا کے بلند ترین اعداد میں شمار ہوتا ہے۔

بدعنوانی

دیگر کئی ترقی پذیر ممالک کی طرح بنگلہ دیش بھی ادارہ جاتی بدعنوانی کے مسئلے سے دوچار ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے 2018ء کے بدعنوانی تاثر اشاریے میں بنگلہ دیش 180 ممالک میں 146ویں نمبر پر تھا۔ 2015ء میں سب سے زیادہ رشوت ستانی زمین کے انتظامی شعبے میں رپورٹ ہوئی، جس کے بعد تعلیم، پولیس اور پانی کی فراہمی کے شعبے شامل تھے۔

انسدادِ بدعنوانی کمیشن 2004ء میں قائم کیا گیا، جس نے 2006ء سے 2008ء کے سیاسی بحران کے دوران فعال کردار ادا کرتے ہوئے کئی نمایاں سیاست دانوں، اعلیٰ سرکاری افسران اور کاروباری شخصیات پر بدعنوانی کے مقدمات قائم کیے۔

ملک کی انتظامی تقسیم

بنگلہ دیش آٹھ انتظامی خطّوں (ڈویژنوں) پر مشتمل ہے، جن کے نام ان ہی شہروں کے نام پر رکھے گئے ہیں جو ان کے صدر مقامات ہیں۔ یہ انتظامی خطّے باریسال (سرکاری نام: باریشال)، چٹاگانگ (سرکاری نام: چٹوگرام)، ڈھاکا، کھلنا، میمن سنگھ، راجشاہی، رنگ پور اور سلہٹ کہلاتے ہیں۔

ہر انتظامی خطہ مزید اضلاع میں منقسم ہے۔ بنگلہ دیش میں اضلاع کی کل تعداد 64 ہے۔ ہر ضلع کو ذیلی اضلاع یا تھانہ جات میں تقسیم کیا گیا ہے۔ شہری علاقوں کے علاوہ، ہر تھانے کے دائرۂ اختیار میں کئی یونینیں شامل ہوتی ہیں، اور ہر یونین متعدد دیہات پر مشتمل ہوتی ہے۔ بڑے شہری یا میٹروپولیٹن علاقوں میں تھانے وارڈوں میں تقسیم کیے جاتے ہیں، جو مزید محلّوں میں بٹے ہوتے ہیں۔

انتظامی خطّوں اور اضلاع کی سطح پر کوئی منتخب نمائندہ موجود نہیں ہوتا، بلکہ یہاں تمام انتظامی امور سرکاری افسران کے ذریعے انجام دیے جاتے ہیں۔ البتہ یونین یا وارڈ کی سطح پر چیئرمین اور اراکین کا انتخاب براہِ راست عوامی ووٹ کے ذریعے ہوتا ہے۔ 1997ء میں پارلیمان نے ایک قانون منظور کیا جس کے تحت ہر یونین میں کل بارہ نشستوں میں سے تین نشستیں خواتین کے لیے مخصوص کر دی گئیں۔

باریسال خطہ

صدر مقام: باریسال

قیام: یکم جنوری 1993ء

رقبہ: 13,225 مربع کلومیٹر

آبادی (2021 کا تخمینہ): 9,713,000

آبادی کی کثافت: 734 افراد فی مربع کلومیٹر

چٹاگانگ خطہ

صدر مقام: چٹاگانگ

قیام: یکم جنوری 1829ء

رقبہ: 33,909 مربع کلومیٹر

آبادی: 34,747,000

آبادی کی کثافت: 1,025

ڈھاکا خطہ

صدر مقام: ڈھاکا

قیام: یکم جنوری 1829ء

رقبہ: 20,594 مربع کلومیٹر

آبادی: 42,607,000

آبادی کی کثافت: 2,069

کھلنا خطہ

صدر مقام: کھلنا

قیام: یکم اکتوبر 1960ء

رقبہ: 22,284 مربع کلومیٹر

آبادی: 18,217,000

آبادی کی کثافت: 817

میمن سنگھ خطہ

صدر مقام: میمن سنگھ

قیام: 14 ستمبر 2015ء

رقبہ: 10,584 مربع کلومیٹر

آبادی: 13,457,000

آبادی کی کثافت: 1,271

راجشاہی خطہ

صدر مقام: راجشاہی

قیام: یکم جنوری 1829ء

رقبہ: 18,153 مربع کلومیٹر

آبادی: 21,607,000

آبادی کی کثافت: 1,190

رنگ پور خطہ

صدر مقام: رنگ پور

قیام: 25 جنوری 2010ء

رقبہ: 16,185 مربع کلومیٹر

آبادی: 18,868,000

آبادی کی کثافت: 1,166

سلہٹ خطہ

صدر مقام: سلہٹ

قیام: یکم اگست 1995ء

رقبہ: 12,635 مربع کلومیٹر

آبادی: 12,463,000

آبادی کی کثافت: 986

en.wikipedia.org/wiki/Bangladesh