فیصل مسجد: روایت اور جدت کا امتزاج

فیصل مسجد پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں واقع ایک عظیم الشان اور دنیا میں نمایاں شناخت رکھنے والی مسجد ہے۔ یہ پاکستان کی قومی مسجد ہے اور اپنی خاص طرزِ تعمیر، تاریخی پس منظر، اور وسیع گنجائش کی وجہ سے عالمی سطح پر مشہور ہے۔ فیصل مسجد اسلام آباد کے شمالی حصے میں مارگلہ ہلز کے دامن میں تعمیر کی گئی ہے اور فیصل ایونیو کے بالکل آخر میں واقع ہے، جو اسے شہر کے نقشے میں ایک ممتاز مقام بھی دیتا ہے اور ہمالیہ کے خوبصورت پس منظر، سرسبز پہاڑیوں، اور کھلی فضا کے ساتھ فیصل مسجد کو ایک چشم کشا نظارہ بھی دیتا ہے۔

فیصل مسجد کی تعمیر کے متعلق ابتدائی خیال 1960ء کی دہائی میں سامنے آیا جب سعودی عرب کے شاہ فیصل بن عبدالعزیز نے پاکستان کے دارالحکومت میں ایک عظیم الشان قومی مسجد بنانے کی تجویز دی۔ 1969ء میں بین الاقوامی مقابلہ منعقد ہوا، جس میں دنیا کے مختلف ممالک سے 43 ماہرینِ فنِ تعمیر نے اپنے ڈیزائن بھیجے۔ آخرکار ترک معمار ویدت دالوکے (Vedat Dalokay) کا جدید اور منفرد ڈیزائن منتخب ہوا، جو عمومی روایت سے ہٹ کر جدید اسلامی و عربی فنِ تعمیر کی نمائندگی کرتا تھا۔ تعمیراتی کام 1976ء میں شروع ہوا، جس میں سعودی حکومت نے مالی امداد فراہم کی اور 1986ء میں مسجد مکمل ہوئی۔

فیصل مسجد کا ڈیزائن بہت خاص اور روایتی اسلامی مساجد سے اس طرح مختلف ہے کہ اس کے نقشے کا آئیڈیا بدو خیمے سے لیا گیا ہے۔ مسجد روایتی گنبد کے بغیر ہے، مرکزی عبادت گاہ کا ہال اٹھ رخا (eight-sided) ہے اور یہ طرزِ تعمیر مسجد کو ایک منفرد اور جدید صورت دیتا ہے۔ مسجد کے چار بڑے مینار ہیں جن کی اونچائی تقریباً 90 میٹر (300 فٹ) ہے۔ فیصل مسجد کے اندر سفید سنگِ مرمر، خوبصورت فانوس، اور قرآنی آیات کی خطاطی استعمال کی گئی ہے، جس میں معروف پاکستانی خطاط صادقین کے فن کے نمونے شامل ہیں۔ فیصل مسجد کی مجموعی گنجائش تقریباً 300,000 نمازیوں تک بتائی جاتی ہے، جو اسے دنیا کی بڑی مساجد میں شامل کرتی ہے۔ مرکزی عبادت ہال میں تقریباً 74,000 افراد کے علاوہ احاطہ اور صحن میں سمانے والے افراد کی تعداد مجموعی طور پر تین لاکھ تک پہنچتی ہے۔ 1986ء سے 1993ء تک فیصل مسجد دنیا کی سب سے بڑی مسجد شمار کی جاتی تھی، پھر سعودی عرب اور دیگر ممالک میں بڑی مساجد کی تعمیر کے بعد اس کا درجہ وسعت کے اعتبار سے کم ہوتا گیا۔

فیصل مسجد پاکستان کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سیاحوں اور فنِ تعمیر کے طلباء کا مرکز رہی ہے۔ اس کی منفرد لکیریں، بلند مینار، اور بے مثال مقام اسے ایک عبادت گاہ سے بڑھ کر سیاحتی اور ثقافتی علامت بھی بناتے ہیں۔ فیصل مسجد کا ذکر مختلف کتب اور ادب پاروں میں کیا گیا ہے۔ فیصل مسجد صرف اسلام آباد کی پہچان ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان کے وقار اور اسلامی طرزِ تعمیر کی ایک عظیم الشان علامت ہے۔ مارگلہ کی پہاڑیوں کے دامن میں واقع یہ خوبصورت مسجد اپنی بناوٹ اور محلِ وقوع کے اعتبار سے دنیا بھر کے سیاحوں اور زائرین کے لیے کشش کا مرکز ہے۔ جب سورج کی پہلی کرنیں مارگلہ کی چوٹیوں سے ٹکراتی ہیں تو اس مسجد کے سفید سنگِ مرمر سے تراشے گئے مینار ایک سحر انگیز منظر پیش کرتے ہیں۔

اس عظیم الشان منصوبے کا خواب سعودی فرمانروا شاہ فیصل بن عبدالعزیز نے دیکھا تھا اور انہی کے نام سے فیصل مسجد منسوب ہے۔ اس کا نقشہ ایک ترک ماہرِ تعمیرات ویدت دالوکے نے تیار کیا، جس میں انہوں نے جدیدیت اور روایت کا ایک ایسا حسین امتزاج پیدا کیا جو دیکھنے والے کو ورطہِ حیرت میں ڈال دیتا ہے۔ مسجد کے چاروں کونوں پر ایستادہ بلند و بالا مینار آسمان سے باتیں کرتے نظر آتے ہیں، جو نہ صرف مسجد کے روایتی طرزِ تعمیر کی نمائندگی کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف زاویوں سے ان کے مناظر منفرد وقار کا احساس بھی دلاتے ہیں۔

مسجد کے اندرونی حصے میں داخل ہوں تو وہاں کی وسعت اور سکون روح کو گرما دیتا ہے۔ چھت پر لٹکا ہوا بھاری بھرکم اور خوبصورت فانوس اور دیواروں پر موجود قرآنی آیات کی خطاطی اسلامی آرٹ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہاں ہزاروں کی تعداد میں نمازی ایک ساتھ اللہ کے حضور سر بسجود ہو سکتے ہیں۔ مسجد کے اردگرد پھیلے ہوئے سبزہ زار اور باغات اس کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کرتے ہیں، جہاں لوگ نہ صرف عبادت کے لیے آتے ہیں بلکہ یہاں کے پرسکون ماحول میں کچھ وقت گزار کر ذہنی سکون بھی حاصل کرتے ہیں۔

فیصل مسجد محض ایک عبادت گاہ نہیں بلکہ یہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ محبت اور اخوت کا ایک زندہ جاوید نشان بھی ہے۔ رات کے وقت جب یہ مسجد روشنیوں میں نہاتی ہے تو مارگلہ کی پہاڑیوں کے پس منظر میں یہ کسی چمکتے ہوئے ہیرے کی مانند دکھائی دیتی ہے۔ یہ جگہ اسلام آباد آنے والے ہر شخص کے لیے ایک لازمی مقام ہے، جو اسے دیکھنے کے بعد اس کی تعمیر، نفاست اور روحانیت کا گرویدہ ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔

https://ur.wikipedia.org

https://en.wikipedia.org


اقسام مواد

معلوماتِ عامہ