تعلیمی نظام میں مصنوعی ذہانت کا کردار

رپورٹ کا تعارف

یہ تحریر امریکی نشریاتی ادارے PBS NewsHour کی ایک ویڈیو رپورٹ ReThinking College میں پیش کی گئی ایک تحقیق پر مبنی ہے۔ ویڈیو کی ابتدائی میزبانی آمنہ نواز نے کی، جبکہ خصوصی نمائندے فریڈ ڈی سیم لازارو نے اس ویڈیو رپورٹ کو ترتیب دیا۔ گفتگو میں مختلف جامعات کے اساتذہ، منتظمین اور طلبہ کی آراء شامل ہیں، جن کا تعلق لوزیانا سٹیٹ یونیورسٹی، یونیورسٹی آف آرکنساس، اور اوہائیو سٹیٹ یونیورسٹی سے ہے۔ ذیل میں پہلے شرکاء کے نام اور اس کے بعد ویڈیو کی گفتگو کو مرتب انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔

مبصرین و شرکاء

  • آمنہ نواز— میزبان، پی بی ایس نیوز آور
  • فریڈ ڈی سام لازارو — خصوصی نامہ نگار
  • برائن بیری — وائس پرووُسٹ، یونیورسٹی آف آرکنساس
  • میگن فرٹس — پروفیسر، یونیورسٹی آف آرکنساس
  • روی بیلم کونڈا — پرووُسٹ، اوہائیو سٹیٹ یونیورسٹی
  • لوری کینڈل — پروفیسر، اوہائیو سٹیٹ یونیورسٹی
  • ٹینا ٹیلن — پروفیسر، اوہائیو سٹیٹ یونیورسٹی
  • رچل جرویز — طالبہ، اوہائیو سٹیٹ یونیورسٹی
  • ایشلے ڈن — حالیہ گریجویٹ، لوزیانا سٹیٹ یونیورسٹی

اعلیٰ تعلیم میں مصنوعی ذہانت کی آمیزش

امریکہ بھر کی جامعات سے اس سال گریجویٹ ہونے والی کلاس وہ پہلی نسل ہے جس نے اپنے کالج کا تمام دورانیہ مصنوعی ذہانت (Generative AI) کے دور میں گزارا ہے۔ یہ ایسی مصنوعی ذہانت ہے جو متن اور تصاویر جیسا نیا مواد خود تخلیق کر سکتی ہے۔ جیسے جیسے یہ ٹیکنالوجی بہتر ہو رہی ہے، انسانی تحریر اور مصنوعی ذہانت کے بنائے ہوئے مواد میں فرق کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اس تبدیلی نے اعلیٰ تعلیم کے اداروں کو مخمصے میں ڈال دیا ہے اور اساتذہ و منتظمین کے لیے ایک مشکل چیلنج پیدا کر دیا ہے۔

دو برس قبل فلسفے کی ایک استاد نے محسوس کیا کہ کچھ طلبہ کی تحریریں اچانک حد سے زیادہ شستہ، منظم، اور ناقابل یقین ہو گئی ہیں، گویا کسی سرکاری یا تکنیکی دستاویز کا انداز ہو۔ استاد نے اپنا یہ احساس ذکر کیا کہ انہیں اب طلبہ کو پرکھنے کی اپنی صلاحیت فضول لگ رہی ہے۔

طلبہ میں مصنوعی ذہانت کا وسیع تر پھیلاؤ

حالیہ سروے کے مطابق طلبہ کی اکثریت اب چیٹ جی پی ٹی، کلاڈ، اور جیمنائی جیسے مصنوعی ذہانت کی سروسز اپنے تعلیمی کاموں کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ اس کی وجہ واضح ہے کہ وہ کام جو پہلے گھنٹوں یا دنوں میں مکمل ہوتے تھے، اب چند منٹوں میں ہو جاتے ہیں۔ ایک سادہ سا سوال یا مضمون کا موضوع دے کر مکمل تحریر حاصل کی جا سکتی ہے۔

اساتذہ کے لیے بنیادی چیلنج

اساتذہ کے نزدیک اصل مسئلہ یہ ہے کہ اگر وہ طلبہ کے بجائے مصنوعی ذہانت کی تحریر پڑھ رہے ہوں تو تدریس کی افادیت جانچنے کا سب سے اہم ذریعہ کھو بیٹھتے ہیں۔ تحریر ہی وہ آئینہ ہے جس میں استاد دیکھتا ہے کہ طالب علم نے کیا سیکھا، کیسے سوچا، اور کہاں کمزوری رہی۔ اسی لیے اساتذہ ایک ایسے فریم ورک کے خواہاں ہیں جس میں جدت بھی ہو اور حصولِ تعلیم کے مقصد کو درپیش خطرات بھی کم سے کم رہیں۔

پالیسی سازی اور ادارہ جاتی ردِعمل

جامعات کی انتظامیہ اس تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال میں پالیسی سازی کی طرف توجہ دے رہی ہیں۔ تقریباً 70 فیصد کالج منتظمین اور اساتذہ کو خدشہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کی وجہ سے تعلیمی ڈگری کی پہلے والی قدر نہیں رہی۔ ایک طرف یہ حقیقت سامنے آ چکی ہے کہ مصنوعی ذہانت کو مکمل طور پر پکڑنے یا شناخت کرنے کی صلاحیت محدود ہے، دوسری طرف یہ احساس بھی ہے کہ درست استعمال کی صورت میں یہ طلبہ کے لیے تاریخ کا طاقتور ترین تعلیمی ذریعہ بن سکتا ہے۔ اسی لیے کئی ادارے اساتذہ کو یہ اختیار دے رہے ہیں کہ وہ اپنے کورس میں مصنوعی ذہانت کے قابلِ قبول استعمال کی حدود خود طے کریں، بشرطیکہ وہ اسے واضح طور پر نصاب میں شامل کریں۔

نگرانی، شبہات، اضافی بوجھ

جن اداروں میں اساتذہ نے مصنوعی پر مکمل پابندی عائد کر رکھی ہے، وہاں شناخت کا عمل نہایت پیچیدہ اور وقت طلب بن چکا ہے۔ متعدد ڈیٹیکشن سافٹ ویئر استعمال کیے جا رہے ہیں، مگر یہ طریقے نہ تو مکمل ہیں اور نہ ہی غلطیوں سے پاک۔ اس عمل نے تدریس کو بعض اوقات نگرانی اور تفتیش میں بدل دیا ہے، جس سے اساتذہ کی ذاتی زندگی اور پیشہ ورانہ اطمینان متاثر ہو رہا ہے۔

طلبہ کی بے یقینی اور خوف

اس ماحول میں طلبہ خود کو دو پاٹوں کے درمیان محسوس کرتے ہیں۔ ایک طرف ادارے کی سخت پالیسیز اور دوسری طرف ایسے ٹولز جو بعض اوقات انسانی تحریر کو بھی مشکوک قرار دے دیتے ہیں۔ ایک طالبہ کا تجربہ اس بات کی مثال ہے کہ کیسے اس کے ایک مضمون پر مصنوعی ذہانت کے الزام نے ناکامی اور تعلیمی مستقبل کے خطرے کا خوف پیدا کر دیا، اگرچہ بعد میں اسے مکمل نمبر دے دیے گئے۔ سوشل میڈیا پر اس کے ردِعمل نے واضح کیا کہ ایسے واقعات اب غیر معمولی نہیں رہے۔

مصنوعی ذہانت بطور ایک تعلیمی ذریعہ

تمام ادارے مصنوعی ذہانت کے خلاف نہیں۔ کچھ جامعات اسے سیکھنے اور تنقیدی سوچ بڑھانے کے ذریعہ کے طور پر اپنا رہے ہیں۔ بعض اساتذہ طلبہ کو ترغیب دیتے ہیں کہ وہ مصنوعی ذہانت سے اپنے اصل کام کا تجزیہ کروائیں، سوالات بنوائیں، اور اپنی کمزوریوں کو پہچانیں۔ طلبہ کے مطابق اس طرح وہ نہ صرف مواد کو بہتر سمجھ پاتے ہیں بلکہ اپنی تیاری کا خود جائزہ بھی لے سکتے ہیں۔

ملازمتوں کی دنیا اور مستقبل کی تیاری

تعلیمی منتظمین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اگر طلبہ نئی ٹیکنالوجی استعمال کرنا نہیں سیکھیں گے تو بدلتی ہوئی ملازمتوں کی دوڑ میں پیچھے رہ جائیں گے۔ اسی سوچ کے تحت بعض جامعات نے مصنوعی ذہانت میں مہارت کو تمام انڈرگریجویٹ طلبہ کے لیے لازمی بنا دیا ہے، تاکہ وہ یہ جان سکیں کہ کون سا کام ٹیکنالوجی کے سپرد کیا جا سکتا ہے، اور کہاں انسانی صلاحیت کا استعمال زیادہ فائدہ مند اور ضروری ہے۔ اس پالیسی کے نتیجے میں مختلف شعبوں میں تجربات ہو رہے ہیں۔ مثلاً‌ موسیقی جیسے فنون میں بھی مصنوعی ذہانت کو اس طرح استعمال کیا جا رہا ہے کہ وہ سازوں کی تکنیک یا طلبہ میں موسیقی کی فطری سمجھ کو جانچنے میں مدد دے۔ وہ تحقیقی کام جو پہلے گھنٹوں کی محنت مانگتا تھا، اب مصنوعی ذہانت چند لمحوں میں انجام دے رہی ہے، جس سے تحقیق کے نئے دروازے کھل رہے ہیں۔

بنیادی سوال

اس تمام پیشرفت کے باوجود ایک بنیادی سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ مصنوعی ذہانت کے اس انقلابی دور سے کیسے نمٹا جائے؟ جو خلل اور تبدیلی اس کی وجہ سے تعلیمی نظام میں آئی ہے، اسے کس طرح سے افادیت کا رخ دیا جائے؟ دوسرے لفظوں میں ایسا کیا کیا جائے کہ مصنوعی ذہانت انسانی صلاحیت کو بہتر بنائے، نہ کہ محض اس کی جگہ لے لے؟

https://youtu.be/rbCQKODKv1o


اقسام مواد

تراجم, خلاصہ جات