’’خدا ہے یا نہیں‘‘ کی بحث

خدا کے وجود کا سوال انسانی فکر کے قدیم ترین اور گہرے ترین سوالات میں سے ایک ہے۔ اس سوال پر غور کرتے ہوئے مختلف تہذیبوں، فلسفیانہ روایتوں، اور مذہبی مکاتب نے مخصوص اصطلاحات وضع کیں تاکہ اس موضوع کے مختلف پہلوؤں کو واضح طور پر سمجھا جا سکے۔ اسلامی علمِ کلام میں بھی ایسی ہی اصطلاحات کے ذریعے موضوع کی تفہیم اور عقلی دلائل کے ذریعے خدا کے وجود پر استدلال کیا جاتا ہے۔ جبکہ جدید دور میں الحادی فکر انہی تصورات کو مختلف زاویوں سے چیلنج کرتی ہے یا غیر ضروری قرار دیتی ہے۔ اس لیے ان تصورات یا اصطلاحات کی درست تفہیم کے بغیر نہ تو اسلامی علمِ کلام کا موقف پوری طرح سمجھا جا سکتا ہے اور نہ ہی جدید الحاد کے اعتراضات کی نوعیت واضح ہوتی ہے۔ ذیل میں پہلے اس موضوع کے حوالے سے چند بنیادی اصطلاحات کی وضاحت پیش کی گئی ہے، اور پھر انہی اصطلاحات کی روشنی میں اسلامی علمِ کلام اور جدید الحاد کا تقابلی جائزہ پیش کیا گیا ہے تاکہ اس فکری مکالمے کو قدرے مربوط انداز میں سمجھا جا سکے۔

چند بنیادی اصطلاحات

خدا پرستی (Theism)

اُس نظریے کو کہتے ہیں کہ ایک ذاتی، شعور رکھنے والا، قادرِ مطلق خدا موجود ہے جو کائنات کو پیدا کرنے کے بعد بھی اس میں فعال کردار ادا کرتا ہے۔ اسلامی، مسیحی، اور یہودی فکر اسی تصور پر قائم ہیں، جہاں خدا محض ایک نظری قوت نہیں بلکہ ارادہ، علم اور اخلاقی حکم کا سرچشمہ ہے۔

الحاد (Atheism)

اس موقف کا نام ہے جس کے مطابق کسی بھی قسم کے خدا یا مابعد الطبیعی ہستی کے وجود کو رد کر دیا جاتا ہے۔ یہ نظریہ کہتا ہے کہ کائنات کے تمام مظاہر کو مادی اسباب اور قدرتی قوانین کے ذریعے سمجھا جا سکتا ہے، کسی الوہی مداخلت کے بغیر۔

لا ادریت (Agnosticism)

یہ موقف خدا کی موجودگی یا عدم موجودگی پر بات کرنے کی بجائے یہ کہتا ہے کہ انسان کے پاس اتنی معرفت یا علمی صلاحیت ہی نہیں کہ وہ اس سوال کا قطعی جواب دے سکے۔ یہ موقف یقین اور انکار کے درمیان ایک فکری توقف کو ظاہر کرتا ہے۔

ربوبیت/ غیر مداخلتی خدا (Deism)

اس تصور کے مطابق خدا نے کائنات کو تخلیق تو کیا، مگر اس کے بعد وہ قوانینِ فطرت کے حوالے کر کے خود مداخلت سے کنارہ کش ہو گیا۔ اس تصور میں وحی، معجزات اور الہامی ہدایت کو عموماً تسلیم نہیں کیا جاتا۔

ہمہ خدائیت (Pantheism)

اس نظریہ کے مطابق خدا اور کائنات میں کوئی بنیادی فرق نہیں، جو کچھ موجود ہے وہی خدا ہے۔ اس تصور میں خدا کو ایک علیحدہ ہستی کے بجائے جو کچھ موجود ہے اس میں مدغم مانا جاتا ہے۔

ہمہ درخدائیت (Panentheism)

خدا پرستی (Theism) اور ہمہ خدائیت (Pantheism) کے مواقف کے درمیان ایک موقف ہمہ درخدائیت (Panentheism) کا ہے۔ اس کے مطابق کائنات خدا میں موجود ہے، مگر خدا کائنات تک محدود نہیں۔ یوں خدا ماوراء بھی ہے اور قریب بھی۔

وجودی دلیل (Ontological Argument)

یہ دلیل محض عقل کے ذریعے خدا کے وجود کو ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ اس کے مطابق کامل ترین ہستی کا تصور بذاتِ خود اس کے وجود کو لازم قرار دیتا ہے، کیونکہ عدمِ وجود کمال کے منافی ہے، یعنی جس ہستی کو کامل مانا جائے اس کے بارے میں یہ تصور ہی غلط ہے کہ وہ موجود نہ ہو، کیونکہ نہ ہونا خود سب سے بڑی کمی ہے۔۔

عِلّی و کونی دلیل (Causal / Cosmological Argument)

عِلّی یعنی عِلّت پر مبنی دلیل، کائنات کے وجود سے خدا کے وجود پر استدلال کرتی ہے۔ اس دلیل کے مطابق چونکہ ہر حادث شے کسی سبب کی محتاج ہوتی ہے، اس لیے کائنات (جو کہ حادث ہے) کے لیے بھی ایک اولین سبب کا ہونا لازم ہے۔ یہ اولین سبب خود غیر معلول ہوتا ہے، یعنی اس کے وجود کے لیے کسی اور سبب کی ضرورت نہیں ہوتی۔

غائیتی / نظم کی دلیل (Teleological Argument)

یہ دلیل کائنات میں پائے جانے والے نظم، مقصدیت، اور پیچیدہ ترتیب کو دیکھ کر یہ نتیجہ اخذ کرتی ہے کہ اس کے پیچھے کسی دانا اور ارادہ رکھنے والی ہستی کا وجود لازم ہے۔

مسئلۂ شر (Problem of Evil)

یہ سوال اٹھاتا ہے کہ اگر خدا قادرِ مطلق اور خیرِ مطلق ہے تو دنیا میں شر اور تکلیف کیوں موجود ہے؟ یہ سوال خدا کے وجود پر سب سے زیادہ زیرِ بحث آنے والا اعتراض سمجھا جاتا ہے۔

الٰہی غیاب / خفاء الالٰہ (Divine Hiddenness)

یہ اصطلاح اس اعتراض کی نمائندگی کرتی ہے کہ اگر خدا موجود ہے اور انسان سے تعلق چاہتا ہے تو وہ خود کو غیب کیوں رکھتا ہے کہ لوگ اس کے وجود پر شک میں مبتلا رہتے ہیں۔

اسلامی علمِ کلام اور جدید الحاد کا تقابلی جائزہ

ذیل میں اب تک ذکر کی گئی اصطلاحات کی روشنی میں اسلامی علمِ کلام اور جدید الحاد کا تقابلی جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔

اسلامی علمِ کلام اور جدید الحاد کے درمیان اصل فرق اس بات سے شروع ہوتا ہے کہ دونوں سوال کہاں سے اٹھاتے ہیں۔ اسلامی علمِ کلام پہلے یہ دیکھتا ہے کہ وجود خود کیا تقاضا کرتا ہے، جبکہ جدید الحاد عموماً یہ مان کر چلتا ہے کہ جو کچھ ہے، بس ہے، اور اس سے آگے سوال اٹھانا ضروری نہیں۔ یعنی متکلم کے نزدیک سوال فطری اور لازم ہے، جبکہ ملحد کے نزدیک یہی سوال غیر ضروری سمجھا جاتا ہے۔

اسلامی علمِ کلام میں یہ بات بنیادی حیثیت رکھتی ہے کہ کائنات کی ہر چیز ممکن الوجود ہے، یعنی وہ لازمی نہیں تھی، ہو بھی سکتی تھی اور نہیں بھی ہو سکتی تھی۔ مثال کے طور پر انسان، زمین، ستارے، حتیٰ کہ طبیعی قوانین بھی، یہ سب ایسے ہیں جو نہ ہوتے تو بھی کوئی منطقی تضاد پیدا نہ ہوتا۔ جب عقل اس نکتے پر غور کرتی ہے تو وہ یہ سوال اٹھاتی ہے کہ اگر سب کچھ محتاج اور غیر یقینی ہے، تو یہ سب قائم کس سہارے پر ہے؟ یہاں سے عقل ایک ایسی ہستی تک پہنچتی ہے جو خود کسی کی محتاج نہ ہو، اور جس کا نہ ہونا ممکن ہی نہ ہو۔ اسی کو واجب الوجود کہا جاتا ہے۔ جدید الحاد اس پوری سوچ کو یا تو غیر ضروری قرار دیتا ہے یا یہ کہہ کر رد کر دیتا ہے کہ وجود بذاتِ خود کوئی مسئلہ نہیں، بس ایک حقیقت ہے جسے قبول کر لینا چاہیے۔

اسی طرح اسلامی علمِ کلام یہ کہتا ہے کہ کائنات ہمیشہ سے نہیں تھی بلکہ ایک وقت میں وجود میں آئی، کیونکہ ہم ہر جگہ تبدیلی، حرکت اور زوال دیکھتے ہیں۔ جو چیز بدلتی ہے وہ ازلی نہیں ہو سکتی۔ اس لیے کائنات کو پیدا کرنے والا کوئی ہونا چاہیے۔ جدید الحاد یہاں سائنس کا حوالہ دے کر کہتا ہے کہ کائنات کا آغاز طبیعی قوانین کے تحت ہوا، اس میں خدا کو شامل کرنے کی ضرورت نہیں۔ علمِ کلام اس جواب کو ادھورا سمجھتا ہے، کیونکہ اس کے نزدیک سوال یہ نہیں کہ کائنات کیسے بنی، بلکہ یہ ہے کہ خود یہ قوانین کیوں موجود ہیں۔

اسلامی علمِ کلام وجود کے بارے میں ایک اور بنیادی سوال اٹھاتا ہے: ’’کچھ ہے ہی کیوں؟ کچھ بھی نہ ہونے کے بجائے کچھ کیوں موجود ہے؟‘‘ یہ سوال سائنس نہیں بلکہ عقلِ محض کا سوال ہے۔ جدید الحاد عموماً اس مقام پر خاموش ہو جاتا ہے یا یہ کہتا ہے کہ اس سوال کا کوئی جواب نہیں، یا جواب ضروری نہیں۔ علمِ کلام کے نزدیک یہ انسانی عقل کی توہین ہے، کیونکہ عقل فطری طور پر بنیاد تلاش کرتی ہے۔

پھر مسئلۂ شر سامنے آتا ہے۔ جدید الحاد کہتا ہے کہ اگر خدا ہے اور وہ طاقتور اور مہربان ہے تو دنیا میں دکھ، ناانصافی، اور شَر کیوں ہے؟ اسلامی علمِ کلام اس کے جواب میں کہتا ہے کہ انسان محدود ہے، اسے پوری کائناتی حکمت نظر نہیں آتی۔ بہت سی تکلیفیں اور آزمائشیں یا تو کسی تربیت یا پھر کسی بڑے خیر کا ذریعہ ہوتی ہیں۔ شر خود کوئی مستقل حقیقت نہیں بلکہ حالات کے تناظر میں سمجھا جاتا ہے۔ جدید الحاد چونکہ کائنات کو مقصد سے خالی مانتا ہے، اس لیے وہ شر کو خدا کے خلاف دلیل بنا لیتا ہے۔

اسی طرح جدید الحاد یہ اعتراض بھی کرتا ہے کہ اگر خدا موجود ہوتا تو وہ خود کو زیادہ واضح طور پر ظاہر کرتا۔ اسلامی علمِ کلام کہتا ہے کہ خدا کوئی تجربہ گاہ کی چیز نہیں کہ زبردستی دکھایا جائے۔ وہ عقل، فطرت، اخلاق اور وجدان کے ذریعے پہچانا جاتا ہے۔ خدا کا مقصد انسان کو مجبور کرنا نہیں بلکہ سوچنے اور انتخاب کرنے کا موقع دینا ہے۔

آخر میں سب سے گہرا فرق عقل کے استعمال کے بارے میں ہے۔ اسلامی علمِ کلام عقل کو معتبر مانتا ہے، مگر محدود بھی۔ وہ عقل کو خدا تک پہنچنے کا ذریعہ سمجھتا ہے، مگر خدا کو عقل میں قید نہیں کرتا۔ جدید الحاد عقل کو عموماً صرف تجربے اور سائنس تک محدود کر دیتا ہے، اور جو چیز اس دائرے میں نہ آئے اسے غیر حقیقی سمجھنے لگتا ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ اسلامی علمِ کلام کے نزدیک خدا کا وجود کائنات کو سمجھنے کی کنجی ہے، جبکہ جدید الحاد کے نزدیک خدا کا تصور غیر ضروری اضافہ ہے۔ اصل اختلاف اس بات پر ہے کہ انسان وجود کے سوالات کو سنجیدگی سے لیتا ہے یا انہیں نظر انداز کر دیتا ہے۔

علمِ کلام کی نمایاں علمی شخصیات

  • امام ابو حنیفہ النعمان (150ھ)
  • امام ابو منصور ماتریدی (333ھ)
  • امام ابو الحسن اشعری (324ھ)
  • امام ابو بکر محمد بن الطیب باقلانی (403ھ)
  • امام ابوبکر محمد بن الحسن بن فورک (406ھ)
  • امام الحرمین عبد الملک بن عبد اللہ الجوینی (478ھ)
  • امام ابو حامد محمد بن محمد الغزالی (505ھ)
  • امام فخر الدین رازی (606ھ)
  • امام سراج الدین ارموی (682ھ)
  • امام تقی الدین احمد بن تیمیہ (728ھ)
  • امام نجم الدین نسفی (537ھ)
  • امام عضد الدین ایجی (756ھ)
  • امام سعد الدین تفتازانی (792ھ)
  • امام سید شریف جرجانی (816ھ)

اقسام مواد

مضامین