مباحثہ ’’کیا خدا کا وجود ہے؟‘‘ کا تجزیہ

مفتی یاسر ندیم الواجدی کی گفتگو

مفتی یاسر ندیم الواجدی گفتگو کا آغاز اس احساس سے کرتے ہیں کہ کانسٹیٹیوشن کلب میں ہونے والی بحث ایک غیر معمولی اور تاریخی واقعہ تھی، جس نے بہت کم وقت میں لاکھوں لوگوں کی توجہ حاصل کی۔ ان کے نزدیک اس بحث نے یہ بات واضح کر دی کہ خدا کے وجود کا مقدمہ آج بھی پوری قوت کے ساتھ عقلی بنیادوں پر پیش کیا جا سکتا ہے، جبکہ الحادی موقف دلائل کے اعتبار سے کمزور اور منتشر نظر آتا ہے۔ وہ اس بات پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں کہ الحادی جانب سے کسی مضبوط یا نئے استدلال کی توقع پوری نہ ہو سکی، اور یہ بات ایک مرتبہ پھر ان کے اس دعوے کی تائید بن گئی کہ الحاد ایک ایسی فکری عمارت ہے جو دلیل کے بغیر کھڑی کی گئی ہے۔

وہ یہ نکتہ بھی بار بار واضح کرتے ہیں کہ بہت سے ملحدین کے فکری انکار کے پیچھے محض فلسفیانہ وجوہ نہیں بلکہ نفسیاتی عوامل بھی کارفرما ہوتے ہیں، خصوصاً بچپن کے صدمات اور زندگی کی تلخیاں۔ اسی تناظر میں وہ جاوید اختر کے ذاتی تجربات کا ذکر کرتے ہیں اور اس نتیجے تک پہنچتے ہیں کہ خدا کے انکار کے پیچھے اکثر کائناتی مسئلہ نہیں بلکہ ذاتی دکھ اور ناانصافی کا احساس ہوتا ہے۔ اس کے باوجود وہ بحث کو جیت اور ہار کے پیمانے میں پرکھنے کے بجائے ہمدردی، دعا اور خیر خواہی کو زیادہ اہم سمجھتے ہیں۔

مفتی یاسر اس مباحثے کے ایک بڑے مثبت نتیجے کے طور پر اس تاثر کے خاتمے کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مذہبی لوگ ٹی وی مباحثوں میں محض شور شرابا کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک اس بحث نے یہ ثابت کر دیا کہ مذہب کی نمائندگی وقار، استدلال اور علمی سنجیدگی کے ساتھ بھی کی جا سکتی ہے۔ وہ اس بات کو خاص طور پر اہم سمجھتے ہیں کہ مختلف نظریاتی دنیاؤں سے تعلق رکھنے والے افراد باہمی احترام کے ساتھ ایک دوسرے کے سامنے بیٹھ کر گفتگو کر سکتے ہیں، اور یہی رویہ معاشروں کو آگے بڑھاتا ہے۔

وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ بحث کا مرکزی سوال ’’کیا خدا موجود ہے؟‘‘ بالکل درست منتخب کیا گیا، کیونکہ خدا کے وجود کو مانے بغیر زندگی کے مقصد، اخلاقیات اور انصاف جیسے تمام سوالات بے بنیاد ہو جاتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ مغربی فکر کی بنیادی غلطی ہے کہ وہ خدا کے سوال کو نجی اور ثانوی بنا کر صرف مادی ترقی کو اصل مقصد بنا لیتی ہے۔ وہ مذاہب کی تاریخ سے متعلق پیش کیے گئے اس مغالطے کی بھی تردید کرتے ہیں کہ مذاہب کے بدلنے سے خدا کا فانی ہونا ثابت ہوتا ہے، اور واضح کرتے ہیں کہ مذاہب انسان کی فہم کے درجے کی نمائندگی کرتے ہیں، نہ کہ خدا کے وجود کی۔

وہ انصاف کے مسئلے کو خدا کے وجود کی ایک مضبوط دلیل قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر انصاف فطرت میں ہر جگہ موجود نہیں، مگر انسان کے اندر پایا جاتا ہے، تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان کو کسی خاص مقصد اور اخلاقی ذمہ داری کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے۔ اسی طرح وہ رینڈم پیدائش کے تصور کو انسانی لاعلمی کا نتیجہ قرار دیتے ہیں، نہ کہ حقیقت۔ ان کے نزدیک یہ Argument from Ignorance ہے کہ چونکہ ہمیں کسی چیز کا علم نہیں، اس لیے وہ بے مقصد ہے۔

مفتی یاسر سوال کرنے کے حوالے سے مذہب پر لگائے جانے والے الزام کو بھی ایک بڑا فکری دھوکہ قرار دیتے ہیں۔ وہ قرآن، اسلامی تاریخ اور علمِ کلام کی روایت کا حوالہ دے کر واضح کرتے ہیں کہ اسلام نے ہمیشہ معقول سوالات کی حوصلہ افزائی کی ہے، البتہ بے جا اور ضرر رساں سوالات سے روکا ہے۔ ان کے نزدیک علمِ کلام کوئی فرسودہ علم نہیں بلکہ ایک زندہ علمی روایت ہے، جسے صرف زبان اور اسلوب کے اعتبار سے عصرِ حاضر کے مطابق پیش کرنے کی ضرورت ہے۔

گفتگو کے آخری حصے میں وہ سائنس اور عقل کی حدود کی طرف توجہ دلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ سائنس ’’کیسے‘‘ کا جواب تو دے سکتی ہے، مگر ’’کیوں‘‘ کا نہیں۔ انسانی شعور، اخلاقی سوالات اور مقصدِ حیات جیسے مسائل سائنس کے دائرے سے باہر ہیں۔ اسی طرح وہ غزہ کے مسئلے کو جذباتی دلیل کے طور پر استعمال کرنے کو فکری بددیانتی قرار دیتے ہیں اور واضح کرتے ہیں کہ شر اور ظلم کا وجود خدا کے نہ ہونے کی نہیں بلکہ اخلاقی جواب دہی کے تصور کی دلیل ہے۔ ان کے نزدیک یہ سارا مباحثہ امت کے فکری اعتماد کی بحالی کا سبب بنا اور اس بات کا اعلان تھا کہ حق دلیل سے غالب آتا ہے، شور سے نہیں۔

مفتی شمائل احمد عبد اللہ ندوی کی گفتگو

مفتی شمائل ندوی اپنی گفتگو میں سب سے پہلے اس بات پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ انہیں خدا کے وجود اور وحدانیت کا مقدمہ ایک قومی سطح کے پلیٹ فارم پر پیش کرنے کی توفیق ملی۔ وہ اس کامیابی کو اپنی ذات سے منسوب کرنے کے بجائے اللہ کے فضل اور اہلِ ایمان کی دعاؤں کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک اصل حیرت کی بات یہ تھی کہ جاوید اختر کی طرف سے وہی پرانی باتیں دہرائی گئیں اور کسی سنجیدہ فلسفیانہ یا علمی استدلال کی جھلک نظر نہ آئی، حالانکہ وہ اس بحث کے لیے کئی مختلف دلائل کے ساتھ تیار ہو کر آئے تھے۔

وہ وضاحت کرتے ہیں کہ پوری بحث میں ان کا مرکزی سہارا دلیلِ امکان، یعنی Argument of Contingency رہی، کیونکہ مخالف فریق اسی بنیادی تصور کو سمجھنے سے قاصر رہا۔ ان کے نزدیک یہ ایک افسوس ناک امر تھا کہ ایک معروف الحادی چہرہ کنٹنجنسی، واجب الوجود اور لامتناہی تسلسل جیسے بنیادی فلسفیانہ تصورات کو سمجھنے میں ناکام رہا، حالانکہ یہ مباحث صدیوں سے فلسفے اور علمِ کلام کا حصہ ہیں۔ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ کائنات کی ہر چیز ممکن الوجود ہے، یعنی اس کا ہونا ضروری نہیں تھا، اور جو چیز ممکن الوجود ہو وہ لازماً کسی اور پر اپنے وجود کے لیے منحصر ہوتی ہے۔ یہ سلسلہ عقلًا کسی ایک ایسی ہستی پر جا کر رکتا ہے جو خود کسی کی محتاج نہ ہو، اور وہی واجب الوجود ہے۔

مفتی شمائل ندوی انسان کی پیدائش کے رینڈم ہونے کے دعوے کو بھی واضح طور پر رد کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ دعویٰ دراصل خدا اور انسان کے درجے کے فرق کو نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے۔ ان کے نزدیک انسان کا یہ کہنا کہ مجھ سے پوچھا کیوں نہیں گیا، ایک فکری مغالطہ ہے، کیونکہ خدا خالق ہے اور انسان مخلوق۔ اسی طرح وہ انصاف کے بارے میں الحادی موقف کو غیر معقول قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر انصاف محض سماجی معاہدہ ہو تو پھر اس کی کوئی مستقل اخلاقی حیثیت نہیں رہتی، کیونکہ سماجی حقائق تبدیل ہوتے رہتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ انصاف ایک معروضی اخلاقی سچائی ہے جو کسی اعلیٰ بنیاد (الٰہی تعلیمات) کی متقاضی ہے۔

وہ ایمان اور عقیدے کے فرق پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالتے ہیں اور واضح کرتے ہیں کہ جس Blind Faith پر تنقید کی جاتی ہے، اسلام اس کا قائل نہیں۔ ان کے نزدیک اسلام جس ایمان کی دعوت دیتا ہے وہ دلیل، فہم اور شعور کے ساتھ جڑا ہوا ایمان ہے۔ اسی طرح وہ اس الزام کو بھی مسترد کرتے ہیں کہ مذہب سوال کرنے سے روکتا ہے، اور واضح کرتے ہیں کہ اسلام بے جا سوالات کی حوصلہ شکنی کرتا ہے، نہ کہ علم کی جستجو پر مبنی سوالات کی۔

مفتی شمائل ندوی تقدیر اور دعا کے موضوع پر یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ دنیا کسی مکینکی نظام کے تحت نہیں چل رہی بلکہ ہر لمحہ اللہ کی تدبیر میں ہے۔ انسان کے کچھ اعمال اختیاری ہیں اور کچھ امور ایسے ہیں جن پر اس کا کوئی اختیار نہیں، اور دعا اسی حقیقت کے اعتراف کا نام ہے۔ دعا کو وہ ایک مستقل عبادت قرار دیتے ہیں جس کی قبولیت کی صورتیں مختلف ہو سکتی ہیں، اور انسان کا کام مانگنا ہے، نتیجہ طے کرنا نہیں۔

گفتگو کے آخری حصے میں وہ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جب منطقی دلائل ختم ہو جاتے ہیں تو ملحدین جذباتی مثالوں، خصوصاً غزہ جیسے سانحات، کا سہارا لیتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ ایک فکری مغالطہ ہے، کیونکہ ظلم اور شر کا مسئلہ خدا کے نہ ہونے کی نہیں بلکہ اخلاقی جواب دہی اور امتحانِ دنیا کے تصور کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ وہ واضح کرتے ہیں کہ اسلامی نقطۂ نظر میں دنیا آزمائش کی جگہ ہے، اور تاریخِ اسلام قربانیوں سے بھری ہوئی ہے۔ ان کے نزدیک غزہ کے مظالم ایمان کو کمزور نہیں بلکہ مضبوط کر رہے ہیں، اور یہی اس بات کا ثبوت ہے کہ مذہب محض نظریہ نہیں بلکہ زندہ حقیقت ہے۔

https://youtu.be/v1ajmmgSjdk


اقسام مواد

خلاصہ جات, مکالمہ