قائدِ اعظم محمد علی جناح
بانئ پاکستان کی مختصر سوانح

برصغیر کی جدید تاریخ میں چند ہی شخصیات ایسی ہیں جنہوں نے محض سیاسی واقعات میں حصہ نہیں لیا بلکہ خود تاریخ کے دھارے کو نئی سمت دی۔ محمد علی جناح ان نادر شخصیات میں شامل ہیں جن کی سیاسی بصیرت، قانونی ذہانت اور غیر متزلزل عزم نے ایک نئی ریاست کے قیام کی صورت اختیار کی۔ وہ محض ایک وکیل یا سیاست دان نہیں تھے بلکہ ایک ایسے مفکرِ ریاست تھے جنہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کے اجتماعی وجود کو ایک واضح سیاسی منزل عطا کی۔

جناح 1913ء سے قیامِ پاکستان تک آل انڈیا مسلم لیگ کے قائد رہے اور آزادی کے بعد اپنی وفات تک پاکستان کے پہلے گورنر جنرل کے منصب پر فائز رہے۔ پاکستان میں انہیں قائدِ اعظم اور بابائے قوم کے القابات سے یاد کیا جاتا ہے، اور ان کی پیدائش کا دن قومی سطح پر منایا جاتا ہے۔ ان کی زندگی دراصل برصغیر کے مسلمانوں کی سیاسی بیداری، فکری ارتقا اور ایک نئی ریاست کی تشکیل کی داستان ہے۔

ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظر

محمد علی جناح 25 دسمبر 1876ء کو کراچی میں پیدا ہوئے، جو اس وقت برطانوی ہندوستان کا حصہ تھا۔ ان کا پیدائشی نام محمد علی جناح بھائی تھا۔ ان کے والد جناح بھائی پونجا ایک تاجر تھے جن کا تعلق گجرات کے علاقے کاٹھیاواڑ سے تھا، جبکہ والدہ مٹھی بائی ایک سادہ، دیندار اور گھریلو مزاج خاتون تھیں۔ خاندان اگرچہ متوسط طبقے سے تعلق رکھتا تھا، مگر تعلیم، محنت اور خود داری کو بنیادی اقدار کی حیثیت حاصل تھی۔

گھر میں گجراتی زبان بولی جاتی تھی، مگر وقت کے ساتھ بچوں نے کچھی اور انگریزی زبان پر بھی عبور حاصل کیا۔ جناح اپنے بہن بھائیوں میں دوسرے نمبر پر تھے۔ ان کی ہمشیرہ فاطمہ جناح بعد کے برسوں میں نہ صرف ان کی قریبی رفیقِ حیات ثابت ہوئیں بلکہ سیاسی و اخلاقی طور پر بھی ان کا مضبوط سہارا بنیں۔

تعلیم اور فکری نشوونما

جناح نے اپنی ابتدائی تعلیم کراچی اور بمبئی میں حاصل کی۔ انہوں نے سندھ مدرسۃ الاسلام، کرسچن مشنری اسکول اور بعد ازاں بمبئی کے مختلف تعلیمی اداروں میں تعلیم پائی۔ ان کے لڑکپن کے بارے میں کئی داستانیں گردش کرتی ہیں، مگر معتبر شواہد اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ وہ کم عمری ہی سے سنجیدہ، نظم و ضبط کے پابند اور غیر معمولی خود اعتمادی کے حامل تھے۔ انہیں منطق، قانون اور استدلال سے خاص شغف تھا۔ یہی رجحان آگے چل کر ان کی وکالتی عظمت اور سیاسی استقامت کی بنیاد بنا۔ وہ جذبات کے بجائے دلیل پر یقین رکھتے تھے اور کسی بھی معاملے کو اصولی فریم میں دیکھنے کے عادی تھے۔

انگلستان میں قیام اور قانونی تربیت

انیسویں صدی کے آخری عشرے میں جناح اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان روانہ ہوئے۔ ابتدا میں وہ ایک تجارتی ادارے سے منسلک ہوئے، مگر جلد ہی انہیں احساس ہوا کہ ان کی اصل دلچسپی قانون کے شعبے میں ہے۔ چنانچہ انہوں نے لنکن اِن میں داخلہ لے کر بیرسٹری کی تعلیم حاصل کی۔

لندن میں قیام کے دوران وہ برطانوی آئینی نظام، پارلیمانی روایات اور قانون کی بالادستی سے گہرے طور پر متاثر ہوئے۔ یہی وہ دور تھا جب جمہوری سیاست، آئینی جدوجہد اور قانونی طریقِ کار ان کے سیاسی نصب العین کا حصہ بنے۔ اسی زمانے میں انہوں نے اپنا نام مختصر کر کے محمد علی جناح رکھ لیا۔

1895ء میں، محض انیس برس کی عمر میں، وہ بیرسٹر بننے والے کم عمر ترین ہندوستانیوں میں شامل ہو گئے۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ وطن واپس لوٹے، جہاں ان کی عملی زندگی کا ایک فیصلہ کن باب شروع ہوا۔

وکالت کا آغاز اور پیشہ ورانہ عروج

وطن واپسی پر جناح نے بمبئی میں وکالت شروع کی۔ ابتدا میں یہ سفر دشوار تھا، مگر ان کی محنت، تیاری اور غیر معمولی قانونی ذہانت نے جلد ہی انہیں ممتاز وکلاء کی صف میں شامل کر دیا۔ انگریزی زبان پر عبور، دلائل کی مضبوطی اور ججوں کے سامنے بے خوف مگر مہذب انداز ان کی شناخت بن گیا۔

چند ہی برسوں میں وہ بڑے اور پیچیدہ مقدمات لڑنے لگے۔ ایک موقع پر انہیں ایک اعلیٰ عدالتی عہدہ پیش کیا گیا، مگر انہوں نے اسے مسترد کر دیا کیونکہ وہ وکالت کو اپنی آزادی اور خود مختاری کے زیادہ قریب سمجھتے تھے۔ وقت کے ساتھ ان کی شہرت، اثر و رسوخ اور مالی حیثیت میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔

سیاست کی طرف قدم اور کانگریس سے وابستگی

وکالت کے ساتھ ساتھ جناح سیاست میں بھی دلچسپی لینے لگے۔ انہوں نے ابتدا میں آل انڈیا کانگریس کے پلیٹ فارم سے سیاسی سفر کا آغاز کیا۔ اس زمانے میں وہ آئینی جدوجہد، تدریجی اصلاحات اور ہندو مسلم اتحاد کے مضبوط حامی سمجھے جاتے تھے۔

کانگریس کے اندر وہ اعتدال پسند رہنماؤں کے قریب تھے جو قانون، تعلیم اور سیاسی شعور کے ذریعے آزادی حاصل کرنا چاہتے تھے۔ جناح کا خیال تھا کہ ہندوستان کی ترقی اور خود مختاری صرف منظم، آئینی اور قانونی راستے سے ہی ممکن ہے۔

مسلم سیاست، اختلافات اور نئی سمت

جب بعض مسلم رہنماؤں نے مسلمانوں کے لیے علیحدہ سیاسی نمائندگی کی بات کی تو جناح نے ابتدا میں اس رجحان سے اختلاف کیا۔ ان کا موقف تھا کہ مذہبی بنیادوں پر سیاست قومی وحدت کو نقصان پہنچائے گی۔ تاہم وقت کے ساتھ سیاسی حالات بدلتے گئے۔ کانگریس کے اندر اکثریتی رویوں اور بعض فیصلوں نے جناح کو یہ احساس دلایا کہ مسلمانوں کے مفادات کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ پہلی جنگِ عظیم کے دوران بھی وہ اس امید پر برطانوی حکومت کی حمایت کرتے رہے کہ اس کے نتیجے میں ہندوستان کو سیاسی آزادی ملے گی، مگر یہ امید پوری نہ ہو سکی۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں سے جناح کی سیاسی سوچ بتدریج ایک نئے اور فیصلہ کن رخ پر گامزن ہوئی۔

کانگریس سے علیحدگی اور آئینی سیاست کا اختتام

1919ء کے بعد ہندوستانی سیاست میں گاندھی کی عوامی تحریک اور ستیاگرا نے مرکزی حیثیت اختیار کر لی۔ جناح اس طرزِ سیاست سے بنیادی اختلاف رکھتے تھے۔ ان کے نزدیک مذہبی جذبات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا خطرناک تھا اور عوامی ہیجان آئینی نظم کو نقصان پہنچاتا تھا۔

1920ء میں جب کانگریس نے ستیاگرا کو اپنی بنیادی پالیسی بنا لیا تو جناح نے کانگریس سے علیحدگی اختیار کر لی۔ یہ علیحدگی محض جماعتی نہیں بلکہ دو سیاسی فلسفوں کی علیحدگی تھی۔

لندن کا قیام اور فکری تیاری

کانگریس سے علیحدگی کے بعد جناح ایک ایسے دور میں داخل ہوئے جو بظاہر خاموش مگر فکری طور پر نہایت اہم تھا۔ وہ کچھ عرصہ لندن میں مقیم رہے۔ یہ زمانہ غور و فکر، سیاسی خود احتسابی اور مستقبل کی تیاری کا دور تھا۔ اسی عرصے میں فاطمہ جناح ان کے قریب ترین رفیق کے طور پر ابھریں۔ انہوں نے نہ صرف ان کی صحت کا خیال رکھا بلکہ سیاسی معاملات میں بھی ایک قابلِ اعتماد مشیر کا کردار ادا کیا۔

علامہ اقبال اور نظریاتی انقلاب

جناح کی سیاسی زندگی میں سب سے گہری تبدیلی علامہ محمد اقبال کے افکار کے ذریعے آئی۔ اقبال نے انہیں باور کرایا کہ برصغیر کے مسلمانوں کا مسئلہ محض نمائندگی کا نہیں بلکہ تہذیبی اور فکری بقا کا سوال ہے۔ اقبال سے خط و کتابت اور مسلسل مکالمے کے نتیجے میں جناح اس نتیجے پر پہنچے کہ مسلمانوں کے لیے علیحدہ سیاسی وحدت ناگزیر ہے۔ اب وہ اسلام کو محض ذاتی عقیدہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی اور اخلاقی نظام کے طور پر دیکھنے لگے۔

مسلم لیگ کی تنظیمِ نو اور 1937ء کا فیصلہ کن تجربہ

1934ء میں جناح ہندوستان واپس آئے اور مسلم لیگ کی قیادت سنبھالی۔ انہوں نے جماعت کو ازسرِ نو منظم کیا، رکنیت کو وسعت دی اور اسے ایک فعال سیاسی قوت بنایا۔

1937ء کے انتخابات میں مسلم لیگ کی ناکامی جناح کے لیے ایک تلخ مگر بیدار کن تجربہ ثابت ہوئی۔ کانگریس کی بھاری کامیابی نے یہ حقیقت آشکار کر دی کہ متحدہ ہندوستان میں مسلمان کس قدر سیاسی طور پر بے اختیار ہو سکتے ہیں۔

قراردادِ لاہور اور تحریکِ پاکستان

دوسری جنگِ عظیم کے دوران سیاسی خلا نے جناح کو فیصلہ کن موقع فراہم کیا۔ مارچ 1940ء میں لاہور کے اجلاس میں وہ قرارداد منظور کی گئی جو بعد میں قراردادِ پاکستان کہلائی۔ یہ قرارداد مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن کے مطالبے کا باضابطہ اعلان تھی۔ جناح کے نزدیک یہ مطالبہ کسی ضد یا جذبات کا نتیجہ نہیں بلکہ مسلمانوں کی سیاسی بقا کی ناگزیر شرط تھا۔

آزادی، تقسیمِ ہند اور قیامِ پاکستان

1947ء میں برطانوی حکومت نے اقتدار کی منتقلی کا فیصلہ کیا۔ ماؤنٹ بیٹن کے منصوبے کے تحت ہندوستان تقسیم ہوا اور 14 اگست 1947ء کو پاکستان وجود میں آیا۔ 11 اگست کو جناح نے دستور ساز اسمبلی میں ایک تاریخی خطاب کیا جس میں مذہبی آزادی، شہری مساوات اور قانون کی بالادستی کو ریاست کی بنیاد قرار دیا۔

گورنر جنرل شپ، بحران اور ریاست سازی

آزادی کے بعد جناح کو مہاجرین کی آبادکاری، وسائل کی قلت، انتظامی بحران اور سرحدی تنازعات جیسے سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ شدید بیماری کے باوجود وہ مہاجر کیمپوں کا دورہ کرتے اور ریاستی معاملات کی نگرانی کرتے رہے۔ کشمیر، جوناگڑھ اور دیگر نوابی ریاستوں کے معاملات نے پاکستان کو ابتدائی دنوں ہی میں بڑے چیلنجز سے دوچار کر دیا۔

بیماری اور وفات: ایک عہد کا اختتام

جناح کئی برسوں سے تپِ دق اور سرطان جیسے مہلک امراض میں مبتلا تھے، مگر یہ حقیقت عوام سے پوشیدہ رکھی گئی۔ 11 ستمبر 1948ء کو، قیامِ پاکستان کے صرف ایک سال بعد، وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ان کی وفات پر پاکستان اور بھارت دونوں میں سوگ منایا گیا۔ ان کی نماز جنازہ علامہ شبیر احمد عثمانی نے پڑھائی۔ لاکھوں افراد ان کے جنازے میں شریک ہوئے۔

اختتامیہ

محمد علی جناح کی سب سے بڑی وراثت پاکستان ہے۔ وہ محض ایک ریاست کے بانی نہیں بلکہ اس کے فکری معمار بھی تھے۔ ان کی قیادت نے ایک منتشر قوم کو ایک مقصد پر جمع کیا اور تاریخ کا دھارا موڑ دیا۔ ان کے بارے میں اختلافات رہیں گے، مگر اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ انہوں نے دنیا کے نقشے پر ایک نئی مسلم ریاست کا اضافہ کیا اور برصغیر کی تاریخ کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔

یہ سوانح ایک فرد کی نہیں بلکہ ایک قوم کی تشکیل کی داستان ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح کی زندگی اس بات کی مثال ہے کہ اصول، قانون اور عزم اگر یکجا ہو جائیں تو تاریخ کو نئی سمت دی جا سکتی ہے۔

https://ur.wikipedia.org