قائد اعظم کی یکم جولائی ۱۹۴۸ء کی تقریر
جناب گورنر، ڈائریکٹرز اسٹیٹ بینک، خواتین و حضرات!
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا افتتاح مالیاتی شعبے میں ہماری ریاست کی خود مختاری کی علامت ہے، اور مجھے آج یہاں افتتاحی تقریب منعقد کرنے کے لیے موجود ہونے پر بہت خوشی ہے۔ پچھلے سال اگست میں پاکستان کے قیام کے ساتھ ہی ہمارا اپنا ایک بینک شروع کرنا قابلِ عمل نہیں سمجھا گیا تھا۔ ایک ایسا ادارہ جو کرنسی کے اجرا اور بینکنگ جیسے تکنیکی اور نازک کام کا ذمہ دار ہو، اس کے افتتاح سے پہلے کافی تیاری کا کام ضروری ہوتا ہے۔ اس تیاری کے لیے ’’پاکستان مانیٹری سسٹم اور ریزرو بینک آرڈر ۱۹۴۷ء‘‘ کے تحت یہ قرار دیا گیا تھا کہ ’’ریزرو بینک آف انڈیا‘‘ ۳۰ ستمبر ۱۹۴۸ء تک پاکستان کی کرنسی اور بینکنگ اتھارٹی کے طور پر کام کرتا رہے گا۔ بعد میں یہ محسوس کیا گیا کہ اگر ریزرو بینک آف انڈیا کو جلد از جلد پاکستان میں اپنے افعال سے سبکدوش کر دیا جائے تو ہماری ریاست کے بہترین مفاد میں ہو گا۔ چنانچہ ان افعال کو ایک پاکستانی ایجنسی میں منتقل کرنے کی تاریخ کو حکومتِ ہند اور ریزرو بینک کے ساتھ باہمی رضامندی سے تین ماہ آگے بڑھا دیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ ہماری کرنسی اور بینکنگ کا انتظام کرنے کے لیے کسی دوسری ایجنسی کے بجائے پاکستان کا ایک مرکزی بینک قائم کیا جائے۔ اس فیصلے نے پاکستان میں اس شعبے کے گنے چنے تربیت یافتہ افراد کو ابتدائی کارروائیاں مکمل کرنے کے لیے بہت کم وقت دیا، جبکہ انہوں نے اپنی انتھک کوشش اور سخت محنت سے مقررہ تاریخ تک اپنا کام مکمل کر لیا، جو قابلِ تعریف ہے اور میں ان کی محنت کے اس اعتراف کو ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں۔
جناب گورنر! جیسا کہ آپ نے مشاہدہ کیا کہ غیر منقسم ہندوستان میں بینکنگ کا نظم غیر مسلموں کے پاس رہا، مغربی پاکستان سے ان کی ہجرت نے ہماری نوآموز ریاست کی اقتصادی زندگی میں کافی خلل پیدا کیا ہے۔ تجارت اور صنعت کے پہیے روانی سے چلتے رہیں، اس کے لیے یہ لازمی ہے کہ غیر مسلموں کی نقل مکانی سے پیدا ہونے والا خلا فوری طور پر پُر کیا جائے۔ مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ پاکستانی شہریوں کو بینکنگ میں تربیت دینے کے منصوبے زیرِ غور ہیں۔ میں ان کی پیشرفت کو دلچسپی سے دیکھوں گا اور مجھے یقین ہے کہ ان کو آگے بڑھانے میں اسٹیٹ بینک کو تمام متعلقہ افراد بشمول بینکوں اور یونیورسٹیوں کا تعاون حاصل ہوگا۔ بینکنگ ایک نیا اور وسیع میدان فراہم کرے گی جس میں ہمارے نوجوانوں کی صلاحیتیں کھل کر سامنے آ سکتی ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ وہ مہیا کی جانے والی تربیتی سہولیات سے فائدہ اٹھانے کے لیے بڑی تعداد میں آگے آئیں گے۔ ایسا کرتے ہوئے وہ نہ صرف خود کو فائدہ پہنچائیں گے بلکہ ہماری ریاست کی فلاح و بہبود میں بھی حصہ ڈالیں گے۔
مجھے اس پر زیادہ تفصیل بیان کرنے کی ضرورت نہیں کہ اسٹیٹ بینک کو ہمارے ملک کی معاشی زندگی کو منظم کرنے میں کتنا اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔ بینک کی مالیاتی پالیسی کا پاکستان کے اندر اور بیرونی دنیا کے ساتھ ہماری تجارت اور کاروبار پر براہ راست اثر پڑے گا۔ اور یہی خواہش کی جانی چاہیے کہ آپ کی پالیسی زیادہ سے زیادہ پیداوار اور تجارت کے آزادانہ بہاؤ کی حوصلہ افزائی کرے۔ جنگ کے سالوں میں اختیار کی گئی مالیاتی پالیسی نے ہمارے موجودہ اقتصادی مسائل [بڑھانے] میں کوئی کم کردار ادا نہیں کیا۔ گزربسر کے اخراجات میں غیر معمولی اضافے نے مقررہ آمدنی والے افراد سمیت معاشرے کے غریب طبقوں کو بہت زیادہ متاثر کیا ہے اور یہ ملک میں موجودہ بے چینی کا ایک بڑا سبب ہے۔ حکومتِ پاکستان کی پالیسی یہ ہے کہ قیمتوں کو ایک ایسی سطح پر مستحکم کیا جائے جو پیداوار مہیا کرنے والوں کے ساتھ ساتھ صارف کے لیے بھی مناسب ہو۔ مجھے امید ہے کہ آپ کی کوششیں بھی اسی سمت میں ہوں گی تاکہ اس اہم مسئلے سے کامیابی کے ساتھ نمٹا جا سکے۔
میں آپ کے تحقیقی ادارے کے کام کو بغور دیکھوں گا کہ کس طرح سماجی اور اقتصادی زندگی کے اسلامی نظریات کے مطابق بینکاری کا نظام تیار کیا جاتا ہے۔ مغرب کے اقتصادی نظام نے انسانیت کے لیے تقریباً ناقابلِ حل مسائل پیدا کر دیے ہیں اور ہم میں سے بہت سے لوگوں کو لگتا ہے کہ صرف کوئی معجزہ ہی اسے اس آفت سے بچا سکتا ہے جس کا سامنا دنیا کو ہے۔ یہ انسانوں کے درمیان انصاف کرنے اور دنیا سے جھگڑوں کو ختم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اس کے برعکس، گزشتہ نصف صدی میں ہونے والی دو عالمی جنگوں کا یہ بڑی حد تک ذمہ دار ہے۔ مغربی دنیا مشینی اور صنعتی ترقی کے فوائد کے باوجود اِس وقت تاریخ کی سب سے بری حالت میں ہے۔ مغرب کے اقتصادی نظریے اور نظام کو اپنانے سے ہمیں ایک خوش اور مطمئن قوم بننے کے اپنے مقصد میں مدد نہیں ملے گی۔ ہمیں اپنی قسمت اپنے طریقے سے بنانی ہوگی اور دنیا کے سامنے ایک ایسا اقتصادی نظام پیش کرنا ہوگا جو انسانی مساوات اور سماجی انصاف کے سچے اسلامی تصور پر مبنی ہو۔ اس طرح ہم بطور مسلمان اپنے مشن کو پورا کریں گے اور انسانیت کو امن کا وہ پیغام دیں گے جو اسے بچا سکتا ہے اور بنی نوع انسان کی فلاح، خوشی اور خوشحالی کو یقینی بنا سکتا ہے۔
[اللہ کرے کہ] اسٹیٹ بینک آف پاکستان پھلے پھولے اور ان اعلیٰ مقاصد کو پورا کرے جو اس کے لیے مقرر کیے گئے ہیں۔
آخر میں، جناب گورنر، میں آپ اور آپ کے ساتھیوں کی طرف سے گرم جوش استقبال پر شکریہ ادا کرتا ہوں، اور ان معزز مہمانوں کا بھی جنہوں نے اپنی نیک تمناؤں کے اظہار کے طور پر اس موقع کو شرف بخشا، اور اس پر کہ آپ نے مجھے اسٹیٹ بینک کی یہ تاریخی افتتاحی تقریب منعقد کرنے کی دعوت دے کر عزت بخشی، جس کے متعلق میرا احساس ہے کہ یہ ہمارے عظیم ترین قومی اداروں میں سے ایک کے طور پر ترقی کرے گا اور دنیا بھر میں اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کرے گا۔
قائد اعظم محمد علی جناح
یکم جولائی، ۱۹۴۸ء