اسلامی قانون میں خواتین کے حقوق ایک تنقید کا جائزہ
یہ تحریر ’’لیگوڈیسک‘‘ پر شائع ہونے والے ایک مضمون کے تناظر میں ہے، جس میں سماجی اور قانونی زاویۂ نظر سے اسلام میں خواتین کے حقوق کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ ذیل میں پہلے اس مضمون کے مرکزی نکات کا خلاصہ پیش کیا جائے گا، اس کے بعد اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اس کا تنقیدی جائزہ لیا جائے گا۔
مضمون کے مندرجات
- مضمون کے مطابق اسلام اپنے مذہبی مصادر — قرآن، حدیث، اجماع اور قیاس — کے معاملے میں ایک منضبط اور اصولی مذہب ہے، اور اس کے پیروکار عموماً ان مصادر سے انحراف نہیں کرتے۔ مصنف کے نزدیک اسلام نے خواتین کو وسیع پیمانے پر حقوق عطا کیے ہیں، جو اسے دیگر قدیم معاشرتی نظاموں سے ممتاز بناتے ہیں۔
- قبل از اسلام معاشرے میں خواتین کی حالت کو نہایت ابتر قرار دیا گیا ہے، جہاں انہیں محض ایک ’شے‘ سمجھا جاتا تھا، ان کے کوئی باقاعدہ حقوق نہیں تھے، نیز اخلاقی و سماجی حدود تقریباً ناپید تھیں۔ اس کے برعکس، اسلام کے ظہور کے بعد، خصوصاً عہدِ نبوی میں، خواتین کو ایک واضح سماجی اور اخلاقی مقام عطا کیا گیا۔ نکاح، مہر اور ازدواجی زندگی کے اصول وضع کیے گئے، اور سورۃ النساء کے ذریعے عورت کو مکمل انسانی وقار اور اخلاقی ذمہ داری کے ساتھ ایک مستقل فریق کے طور پر تسلیم کیا گیا۔ اسی دور میں تعددِ ازدواج کو چار تک محدود کیا گیا اور مہر کو عورت کا باقاعدہ حق قرار دیا گیا۔
- تاہم مضمون میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا گیا ہے کہ اسلام سے منسوب بعض سماجی و قانونی رویے ایسے ہیں جن کے نتیجے میں خواتین کے حقوق متاثر ہوتے ہیں، جن میں بالخصوص تین طلاق اور تعددِ ازدواج کا ذکر کیا گیا ہے۔ مصنف کے مطابق ان امور کی قرآن میں صراحت موجود نہیں، اس کے باوجود مسلم معاشروں میں ان پر عمل کیا جاتا ہے، اور جدید عدالتی فیصلوں میں انہیں حقوقِ نسواں کے منافی قرار دے کر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ مضمون بظاہر ان رویوں کو عملاً اسلامی قانون کا حصہ تصور کرتے ہوئے اسلام پر اعتراض قائم کرتا ہے۔
- اس کے ساتھ ساتھ مضمون یہ بھی تسلیم کرتا ہے کہ اسلام نے خواتین کے حق میں کئی اہم قانونی و معاشرتی تحفظات فراہم کیے ہیں، مثلاً مہر، نکاح کو ایک معاہدہ قرار دینا، اور عورت کو نکاح کی شرائط طے کرنے کا حق دینا۔ مزید یہ کہ ہندوستانی قانونی نظام میں بھی مسلم خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے متعدد قوانین اور عدالتی فیصلے موجود ہیں، جیسے مسلم پرسنل لا ایکٹ، تحلیلِ نکاح کا قانون، طلاق یافتہ خواتین کے حقوق کا قانون، اور فوجداری ضابطۂ کار کے تحت نان و نفقہ کے احکامات۔
- مضمون کا مجموعی نتیجہ یہ ہے کہ اسلامی قانون عمومی طور پر خواتین کو عزت، وقار اور بنیادی حقوق فراہم کرتا ہے، البتہ بعض عملی مسائل اور اختلافی پہلو اپنی جگہ موجود ہیں۔
تنقیدی جائزہ
اس مضمون کے متعلق بنیادی اشکال یہ ہے کہ اس میں اسلامی تعلیمات اور مسلمان معاشروں کے بعض تاریخی و ثقافتی رویوں کے درمیان امتیاز نہیں کیا گیا، اور نہ ہی فقہی تعبیرات کے سیاق و تناظر اور تطبیقی پس منظر کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ چنانچہ اس حوالے سے چند گزارشات درج ذیل ہیں:
- اسلام بذاتِ خود عورت کو کمتر جنس قرار نہیں دیتا، بلکہ قرآن کریم میں مرد و عورت دونوں کو نفسِ واحدہ سے پیدا شدہ قرار دیا گیا ہے، اور فضیلت کا معیار تقویٰ بتایا گیا ہے، نہ کہ جنس کو۔ البتہ اسلامی شریعت میں مرد اور عورت کے تخلیقی فرق کے اعتبار سے دونوں کے فرائض اور حقوق میں متناسب تقسیم کی گئی ہے۔
- ’’تین طلاق‘‘ کو اسلام کا حکم قرار دینا علمی طور پر درست نہیں، جمہور فقہاء کے نزدیک یہ طرزِ عمل ناپسندیدہ ہے، اور عہدِ نبوی و خلافتِ راشدہ میں اسے معمول یا مثالی طلاق کے طور پر تسلیم نہیں کیا گیا۔
- اسی طرح تعددِ ازدواج کو محض عورت کے حقوق کی خلاف ورزی کے طور پر پیش کرنا بھی یک رُخی تجزیہ ہے۔ قرآن نے اس کی اجازت سخت شرطِ عدل کے ساتھ دی ہے، اور ساتھ ہی یہ واضح تنبیہ بھی کی ہے کہ اگر عدل کا خوف ہو تو ایک ہی نکاح پر اکتفا کیا جائے۔ اس بنا پر تعددِ ازدواج ایک عمومی حکم نہیں بلکہ مخصوص سماجی حالات کے تناظر میں دی گئی ایک مشروط رعایت ہے۔
- مضمون میں اسلامی قانون کو rigid (سخت گیر) قرار دینا بھی ایک غیر محتاط تعبیر ہے۔ اسلامی شریعت اصولوں میں استحکام ضرور رکھتی ہے، مگر اطلاق کے مرحلے میں مقاصدِ شریعت، سدّ الذرائع، رفعِ حرج، اور انسانی مصلحت جیسے اصولوں کو پیشِ نظر رکھتی ہے، جو اس کے قانونی و اخلاقی نظام کو لچک اور توازن فراہم کرتے ہیں۔
- عورت کو مہر، وراثت، نکاح میں رضامندی، خلع، اور معاشی تحفظ جیسے حقوق دینا اس امر کی واضح دلیل ہے کہ اسلام عورت کو محض قانونی شخصیت نہیں بلکہ مکمل اخلاقی و سماجی وقار کے ساتھ ایک بااختیار فرد تسلیم کرتا ہے۔
آخرکار یہ کہا جا سکتا ہے کہ مضمون میں پیش کیے گئے بعض اعتراضات زیادہ تر عملی کوتاہیوں، سماجی رسوم، یا مخصوص فقہی تعبیرات سے متعلق ہیں، نہ کہ اسلامی تعلیمات اور شرعی قوانین کی اصل روح سے۔ اسلامی اصولوں کی درست تفہیم کے ساتھ دیکھا جائے تو اسلام خواتین کے حقوق کا ایک منظم، متوازن، اور اخلاقی تحفظ فراہم کرنے والا نظام پیش کرتا ہے، جسے اس کے اپنے فکری، اخلاقی، اور تاریخی تناظر سے ہٹ کر محض جدید قانونی یا مغربی معیارات کی کسوٹی پر پرکھنا علمی انصاف کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا۔