حصولِ معلومات کا ایک انداز
کسی شخص سے مطلوبہ معلومات حاصل کرنے کا ایک خاص انداز انگریزی میں Elicitation کہلاتا ہے، جس میں براہِ راست سوالات کرنے کی بجائے تبصرے یا تاثر پر مشتمل جملے استعمال کیے جاتے ہیں۔ اس کا بنیادی فائدہ یہ ہوتا ہے کہ سامنے والا شخص خود کو تفتیش یا پوچھ گچھ کی زد میں محسوس نہیں کرتا، بلکہ اسے یوں لگتا ہے جیسے وہ اپنی مرضی سے بات کر رہا ہے۔ چونکہ اس سے سوال نہیں کیا جا رہا ہوتا، اس لیے اس کے ذہن میں دفاعی یا حفاظتی ردِعمل پیدا نہیں ہوتا۔ ایلیسیٹیشن کے تحت استعمال ہونے والی چند تکنیکس درج ذیل پیش کی جا رہی ہیں۔
تصحیح کروانے کی تکنیک (Correcting the record)
سب سے سادہ اور مؤثر تکنیک یہ ہے کہ جان بوجھ کر کوئی غلط یا ادھوری معلومات بیان کر دی جائیں، تاکہ سامنے والے کے اندر ’’ریکارڈ درست کرنے‘‘ کی خواہش پیدا ہو۔ مثال کے طور پر اگر کسی ملازم سے یہ کہہ دیا جائے کہ حکومت یا ڈیپارٹمنٹ نے اِس شعبے کی تنخواہیں اتنی بڑھا دی ہیں، تو وہ فوراً تصحیح کرے گا اور اپنی تنخواہ کے بارے میں کوئی نہ کوئی معلومات دے بیٹھے گا۔ اس طریقے میں اسے یہ احساس نہیں ہوتا کہ اس سے کوئی ذاتی سوال پوچھا گیا ہے، بلکہ وہ محض غلطی کی اصلاح کر رہا ہوتا ہے۔ اسی طرح کسی ڈرائیور سے یہ کہنا کہ ’’ایک سروے کے مطابق سب سے زیادہ ڈرائیور لوگ اپنے کام سے خوش رہتے ہیں‘‘۔ تو زیادہ امکان یہی ہے کہ وہ فوراً اس کی تصحیح کرے گا اور اپنے تجربات بیان کرنے لگے گا۔
تاثراتی و تبصراتی جملوں کی تکنیک (… I bet …, So)
ایک تکنیک یہ ہے کہ براہ راست سوال کرنے کی بجائے کوئی تبصرہ یا تاثر دیا جائے۔ مثلاً یہ کہنا کہ ’’مجھے لگتا ہے آپ کو اس کام میں بہت دلچسپ تجربات ہوئے ہوں گے‘‘ یا ’’میں سمجھ سکتا ہوں کہ یہ کام آپ کے لیے اتنا آسان نہیں رہا ہوگا‘‘۔ ایسے جملے سامنے والے کو کسی دباؤ کے بغیر بولنے کی دعوت دیتے ہیں۔ چونکہ اس سے کچھ پوچھا نہیں جا رہا ہوتا، اس لیے وہ زیادہ کھل کر بات کرتا ہے۔
تردید کروانے کی تکنیک (Disbelief)
ایک طریقہ تردید کروانے کا ہے، جس میں کچھ اس طرح کا جملہ بولا جاتا ہے کہ ’’تم ضرور لمبے سفر سے واپس آئے ہو‘‘۔ اگر یہ بات درست نہ ہو تو سامنے والا فوراً وضاحت کرنے لگے گا کہ وہ کہاں مصروف تھا اور کیا کر رہا تھا، اور یوں براہ راست سوال کے برعکس وہ کہیں زیادہ معلومات فراہم کر دے گا۔ اسی تکنیک کے مطابق اگر کسی سے یہ کہا جائے کہ ’’فلاں کام تو تمہارے لیے کچھ مشکل نہیں ہے‘‘۔ تو عین ممکن ہے کہ سامنے والا فوراً تردید کر دے اور اپنی مشکلات بیان کرنے لگ جائے۔
حد بندی کی تکنیک (Bracketing)
ایک اور مؤثر تکنیک یہ ہے کہ کسی چیز کو ایک حد یا دائرے کے اندر رکھ کر بیان کیا جائے، جیسے یہ کہنا کہ فلاں کام فلاں مہینے میں متوقع ہے، یا یہ کہنا کہ فلاں کی عمر تیس سے پینتیس سال کے درمیان لگتی ہے۔ اس طرح سامنے والا عموماً درست حد بتانے کے لیے بول پڑتا ہے، اور یوں اصل معلومات سامنے آ جاتی ہیں۔
جملہ دہرانے کی تکنیک (Repeating after)
جب کچھ معلومات حاصل ہو جائیں اور محسوس ہو کہ سامنے والا اس پر اکتفا کرنے والا ہے، تو اس کی آخری بات یا جملہ اس طرح دہرا دیا جائے کہ ’’اچھا، تو اس طرح ہوا ہے‘‘، یا ’’واقعی یہ تو حیرانگی کی بات ہے‘‘۔ اس پر مخاطب کچھ نہ کچھ مزید بات ضرور کرے گا، اور اس طریقے سے گفتگو کا تسلسل قائم رکھا جا سکتا ہے۔
مختصر یہ کہ براہ راست سوالات نہ پوچھنے کے پیچھے تصور یہ ہے اس سے ذہن دفاعی کیفیت میں چلا جاتا ہے اور محتاط ہو جاتا ہے، جبکہ انسان جب کسی معاملہ میں اپنا اختیار محسوس کر رہا ہو تو نسبتاً زیادہ فراخدلی کا مظاہرہ کرتا ہے۔
نوٹ: یہ تحریر درج ذیل ویڈیو کی روشنی میں لکھی گئی ہے: