اپنا تعارف کیسے کروائیں!
’’دی کمپنیز ایکسپرٹ‘‘ کے میزبان بل ٹاڈ کی گفتگو:
’’ذرا اپنے بارے میں کچھ بتائیں‘‘۔ یہ وہ سوال ہے جو کسی بھی جاب انٹرویوز میں سب سے زیادہ پوچھا جاتا ہے، اور عام طور پر گفتگو کا آغاز اسی سے ہوتا ہے تاکہ ماحول کی اجنبیت ختم کی جا سکے۔ اس عمومی نوعیت کے سوال کا جواب دینے کے بے شمار طریقے ہیں اور یوٹیوب پر ایسی ویڈیوز کی بھرمار ہے جو مختلف طریقے بتاتی ہیں، لیکن آج میں آپ کو وہ طریقہ بتانے جا رہا ہوں جو میری نظر میں سب سے تیز، سادہ اور مؤثر ترین طریقہ ہے۔
آئیے پہلے اس معاملے کو ہائرنگ مینیجر (بھرتی کرنے والے) کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ جب بھی کسی ملازمت کا اشتہار دیا جاتا ہے تو درخواستوں کا تانتا بندھ جاتا ہے، آج کل یہ بہت معمولی بات ہے کہ ایک ہی اسامی کے لیے درجنوں امیدوار سامنے آ جائیں۔ ایسی صورت میں ہائرنگ مینیجر کے لیے یہ ایک ایسا سلسلہ بن جاتا ہے جس میں کمزور امیدواروں کو مسترد کر کے فہرست محدود کی جاتی ہے، تاکہ اس میں سے اُس ایک فرد کا انتخاب آسان ہو سکے جو اس ملازمت کے لیے درکار ہے۔
اب اگر امیدوار کے زاویے سے دیکھیں تو اسے یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ لوگ کن بنیادوں پر مسترد کیے جا رہے ہیں۔ بظاہر تو اشتہار میں کچھ شرائط لکھی ہوتی ہیں، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اُن شرائط پر ایک سے زیادہ امیدوار پورا اتر سکتے ہیں۔ اسی لیے اکثر کچھ ’غیر اعلانیہ' معیار بھی ہوتے ہیں جن کا کہیں تذکرہ نہیں ہوتا، مگر وہی مسترد ہونے کی بنیاد بنتے ہیں۔ میں نے ماضی میں ایسے واقعات دیکھے ہیں کہ مثلاً ہائرنگ مینیجر کسی خاص کھیل کی ٹیم کا مداح ہے، اور امیدوار نے نادانستہ اپنی پسندیدہ ٹیم کا ذکر کر دیا جو مخالف نکلی، بس اتنی سی بات پر وہ مسترد ہو جائے گا کہ وہ ادارے کے ماحول میں ’فِٹ‘ نہیں بیٹھتا۔ یہ چیزیں حقیقت میں ہوتی ہیں۔
اب یہاں ہم فرض کر لیتے ہیں کہ انہوں نے آپ کے کوائف (Resume) پڑھ لیے ہیں۔ عام طور پر اگر آپ کو انٹرویو کی کال آئی ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ انہوں نے آپ کا پروفائل دیکھ لیا ہے۔ اگرچہ ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا، میں نے ایسے کیسز بھی دیکھے ہیں جہاں انٹرویو لینے والے نے ریزیومے کو ہاتھ تک نہیں لگایا ہوتا، لیکن یہاں ہم یہی فرض کریں گے کہ آپ کے کوائف پڑھے گئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ کے کوائف میں موجود معلومات 'محفوظ' ہیں۔ یعنی جو کچھ وہاں لکھا ہے، اس کی بنیاد پر آپ مسترد نہیں ہوئے۔ ہم اسی نکتے کو اپنی حکمتِ عملی کی بنیاد بنائیں گے۔
چنانچہ جب انٹرویو میں آپ سے کہا جائے کہ ’’اپنے بارے میں بتائیں‘‘، تو آپ کا پہلا جملہ یہ ہونا چاہیے: ’’جیسا کہ آپ میرے کوائف میں دیکھ سکتے ہیں…‘‘۔ اس کے بعد اپنے تعلیم و تجربے کو زمانی ترتیب (Chronological order) سے بیان کریں۔ یعنی پرانے کام سے شروع کر کے بتدریج حال کی طرف آئیں اور اپنی حالیہ مصروفیات پر بات ختم کریں۔ یہ پورا خلاصہ پینتالیس سیکنڈ سے ایک منٹ کے درمیان ہونا چاہیے، اس سے زیادہ نہیں۔ اور اپنی بات کا اختتام ایسے جملے پر کریں: ’’اور یہی وہ سفر ہے جو مجھے آج یہاں تک لے آیا ہے، اور اسی لیے میں اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے بہت پُرجوش ہوں۔‘‘
یاد رکھیں کہ انٹرویو میں آپ کا اصل مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ آپ ہی اس عہدے کے لیے سب سے موزوں امیدوار ہیں اور آپ کے پاس وہ تمام مہارتیں موجود ہیں جن کی انہیں تلاش ہے۔ آپ ہرگز یہ نہیں چاہیں گے کہ اپنا قیمتی وقت اُن باتوں پر ضائع کریں جو آپ نے پندرہ سال پہلے کی تھیں اور جن کا موجودہ عہدہ سے کوئی خاص تعلق نہیں۔ انسانی ذہن ایسا ہے کہ لوگ سنی ہوئی باتوں کا کچھ حصہ ہی یاد رکھ پاتے ہیں۔ اس لیے پینتالیس سیکنڈ سے ایک منٹ کا وقت کافی ہے، اور آپ کی ساری توجہ یہ باور کرانے پر ہونی چاہیے کہ آپ مطلوبہ معیار پر پورا اترتے ہیں، تاکہ یہ بات ان کے ذہن میں نقش ہو جائے۔ اپنی گفتگو کا رخ پرانے کاموں سے موڑتے ہوئے اِس اسامی کی ضروریات کی طرف لانا ہی اصل کامیابی ہے۔
یہ گفتگو میری ایک نئی یوٹیوب سیریز کا حصہ ہے جس میں، میں جاب انٹرویوز کے تمام اہم سوالات اور بھرتی کے عمل پر بات کروں گا۔ میں یہ سب کچھ پوسٹ گریجویٹ سطح پر پڑھاتا بھی ہوں اور میں اس ’میز‘ کے دونوں طرف رہا ہوں، یعنی میں نے لوگوں کو ہائر بھی کیا ہے اور خود بھی انٹرویوز دیے ہیں، اس لیے مجھے امید ہے کہ یہ مشورے آپ کے کام آئیں گے۔