اُدھار نہ دینے کے متعلق چند باتیں
عزیز و اقارب یا دوست احباب کو جب معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے پاس کچھ اضافی رقم ہے یا کچھ پیسے جمع ہیں تو وہ کوئی نہ کوئی ضرورت بنا کر وہ ساری رقم یا اس میں سے کچھ ادھار لینے آجاتے ہیں۔ اس صورتحال سے کیسے نمٹا جائے؟ یہ بڑی حساس اور مشکل صورتحال ہوتی ہے، کیونکہ یہاں معاملہ صرف پیسوں کا نہیں بلکہ رشتوں کی نزاکت کا بھی ہوتا ہے۔ جب لوگوں کو آپ کی بچت کا علم ہو جائے تو وہ اسے "فالتو رقم" سمجھنے لگتے ہیں، جبکہ اس رقم کو آپ اپنے پاس محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تاکہ کسی مشکل میں کام آ سکے، یا کوئی خاص منصوبہ بندی کر کے آپ اسے اپنے مصرف میں لا سکیں۔ چنانچہ ادھار مانگنے کی صورتحال سے حکمتِ عملی اور شائستگی کے ساتھ نمٹنے کی ضرورت ہوتی ہے، جس کے متعلق چند گزارشات یہاں پیش کی جا رہی ہیں۔
اپنا مال کیسے بچائیں
سب سے پہلا اصول یہ ہے کہ اپنی بچت یا اضافی رقم کا تذکرہ عام نہ کریں۔ اپنی مالی حالت کو راز رکھیں اور خاموشی اختیار کریں۔ نئی گاڑی، مہنگے فون یا جائیداد وغیرہ کی خریداری کا ڈھنڈورا نہ پیٹیں۔ عاجزی اپنائیں، اگر کوئی پوچھے بھی تو ہمیشہ یہی کہیں کہ بس اللہ کا شکر ہے، دال روٹی چل رہی ہے اور کچھ ضروری اخراجات سر پر کھڑے ہیں۔
جب کوئی ادھار مانگنے آئے تو براہِ راست "نہیں" کہنے کے بجائے یہ ظاہر کریں کہ وہ رقم پہلے ہی کسی خاص مقصد کے لیے مختص ہے۔ کچھ اس طرح سے کہیں کہ کاش آپ نے پہلے پوچھا ہوتا، میں نے تو ابھی پرسوں ہی وہ رقم فلاں کاروبار میں ڈال دی ہے، یا اُن پیسوں سے کوئی پرانا قرض چکا دیا ہے۔
اگر آپ کے لیے ممکن ہو، تو ایک ایسا اصول بنائیں جو سب کے لیے برابر ہو۔ مثلاً یہ کہیں کہ میں نے اپنے گھر والوں کے ساتھ مل کر یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم قریبی عزیز و اقارب میں پیسوں کا لین دین نہیں کریں گے تاکہ ہمارے تعلقات خراب نہ ہوں، امید ہے آپ برا نہیں مانیں گے۔
لوگوں کو بتائیں کہ آپ کے پاس جو پیسے ہیں وہ "اضافی" نہیں بلکہ "مختص" ہیں۔ اپنے آنے والے اخراجات کی ایک لمبی فہرست ذہن میں رکھیں، اور جب کوئی ادھار مانگے تو اپنی ان مجبوریوں کا ذکر کر دیں تاکہ اسے احساس ہو کہ آپ خود مالی دباؤ میں ہیں۔
اگر معاملہ بہت سنگین ہو اور آپ کا دل چاہے کہ مدد کریں، تو اتنی رقم دیں جسے آپ بھول سکیں، جس کے واپس نہ آنے پر آپ کی اپنی زندگی متاثر نہ ہو، اور نہ ہی اس شخص سے آپ کے تعلقات خراب ہوں۔
اگر آپ کوئی عذر بھی نہ کرنا چاہتے ہوں، اور بالکل کوئی رقم بھی نہ دینا چاہتے ہوں، تو صاف انکار بھی ایک راستہ ہے۔ کسی کو ادھار نہ دے کر اسے تھوڑی دیر کے لیے ناراض کرنا، اس سے بہتر ہے کہ آپ اپنی جمع پونجی گنوا کر عمر بھر کا پچھتاوا مول لیں اور بعد میں ممکنہ طور پر رشتوں میں تلخی پیدا کر لیں۔
ایک اخلاقی سوال
یہاں ایک اخلاقی سوال پیدا ہوتا ہے کہ ادھار مانگنے والے کے سامنے جو بہانے آپ گڑھتے ہیں، کیا وہ اخلاقی طور پر درست ہیں، یعنی غلط بیانی یا جھوٹ کے زمرے میں تو نہیں آتے؟ یہ سوال بہت اہم ہے کیونکہ جھوٹ یا بہانے بسا اوقات ضمیر پر بوجھ بن سکتے ہیں۔ اس سلسلہ میں اہلِ علم اور دانشور حضرات جو رہنمائی کرتے ہیں اس کی روشنی میں ہم دیکھ لیتے ہیں کہ اس معاملے سے کیسے نمٹا جائے۔
جھوٹ سے بچنے کا ایک مؤثر طریقہ "توریہ" بتایا جاتا ہے۔ یعنی ایسی بات کرنا جو حقیقت پر مبنی ہو لیکن سننے والا اس کا وہ مطلب لے جو آپ کی ضرورت ہے۔ مثلاً اگر آپ کہیں کہ پیسے ابھی ہاتھ میں نہیں ہیں، یا میرے پاس نہیں ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ وہ پیسے بینک میں ہیں یا کسی اور جگہ محفوظ ہیں۔ یعنی وہ اس وقت نقدی کی صورت میں آپ کی جیب میں نہیں۔ یہ جھوٹ نہیں بلکہ حقیقت کا ایک رخ ہے۔
ایک مؤثر طریقہ یہ ہے کہ اپنی مستقبل کی ان ضروریات کا ذکر کر دیں جو واقعی آپ کے ذہن میں ہوں کہ میں اپنی رقم ان کاموں پر خرچ کر سکتا ہوں۔ چنانچہ یہ جھوٹ کی بجائے ترجیحات کے زمرے میں آجائے گا کہ آپ یہ رقم ادھار دینے کی بجائے اپنی ضروریات کے لیے محفوظ رکھنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
جبکہ سب سے بہترین طریقہ صاف گوئی ہے، اگرچہ یہ کچھ تلخ ہوتا ہے۔ ادھار طلب کرنے والے کو بتا دیں کہ میرے پاس رقم تو موجود ہے لیکن میرا اصول یہ ہے کہ میں اُدھار نہیں دیا کرتا۔ البتہ یہ اصول ایسا ہو جو صرف اس شخص کے لیے نہ ہو، ورنہ یہ بعد میں جھوٹ ہی کا تاثر دے سکتا ہے۔
آخری بات یہ ہے کہ اخلاقی طور پر آپ پر یہ لازم نہیں کہ آپ اپنی ہر جمع پونجی دوسروں کے سامنے ظاہر کریں۔ آپ کی بچت صرف آپ کی، یا پھر آپ کے خاندان کی امانت ہے۔ اگر کوئی شخص کسی اشد ضرورت کی بجائے محض اپنی آسائش کے لیے آپ سے پیسے مانگ رہا ہے، تو آپ کا اپنی آسائش و ضروریات کو اُس پر فوقیت دینا اخلاقی طور پر بالکل درست ہے۔
توجہ طلب امور
اُدھار مانگنے والے سے مہلت نہ مانگیں۔ یہ نہ کہیں کہ میں سوچ کر بتاؤں گا، یا فلاں دن مجھ سے پھر پوچھنا۔ اس سے سامنے والے کی امید بڑھ جاتی ہے اور بعد میں انکار زیادہ دکھ دیتا ہے۔ جو کہنا ہے، پہلی بار میں شائستگی سے کہہ دیں۔ اس بات کا خیال رکھیں کہ انکار کرتے وقت لہجے میں تکبر نہیں بلکہ افسوس ہونا چاہیے تاکہ اسے لگے کہ آپ واقعی مجبور ہیں۔ اور اگر ممکن ہو تو اسے کوئی اور راستہ دکھا دیں جس سے اُس کی ’’ضرورت‘‘ پوری ہو سکتی ہو۔
مالی تعاون ایک مستحسن جذبہ ہے، لیکن جب یہ تعاون "ادھار" کی صورت میں رشتوں اور ذاتی بچتوں کے لیے خطرہ بن جائے، تو حکمتِ عملی اختیار کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ اکثر عزیز و اقارب آپ کی جمع پونجی کو "اضافی رقم" سمجھ کر مطالبہ کر بیٹھتے ہیں، جس سے نمٹنے کے لیے توازن، شائستگی اور اصول پسندی کی ضرورت ہوتی ہے۔ چنانچہ یہ تحریر اسی حوالے سے کچھ تجربات و مشاہدات کا اظہار ہے۔
یہ تحریر اُدھار ’’نہ دینے‘‘ کے متعلق ہے۔ اگر ایسی صورتحال پیش آجائے جہاں آپ واقعی اُدھار دینا چاہیں تو اس معاملے کے کئی پہلو ہو سکتے ہیں اور یہ ایک الگ تحریر کا متقاضی ہے۔