موٹاپا: جسمانی و نفسیاتی اور سماجی بحران ڈاکٹر قاسم علی شاہ اور ڈاکٹر مشتاق احمد اورکزئی کا مکالمہ
یہ نشست ڈاکٹر قاسم علی شاہ کی گفتگو سے شروع ہوتی ہے اور وہ ابتدا ہی میں ڈاکٹر مشتاق احمد اورکزئی کے ساتھ اپنی دوستی کا تذکرہ کرتے ہوئے اس پہلو کو واضح کرتے ہیں کہ اصل تعلق ملاقاتوں کی کثرت سے نہیں بنتا بلکہ ایک مشترکہ مشن سے طے پاتا ہے۔ ان کے نزدیک مشن وہ مرکز ہے جس کے گرد انسان کی زندگی، روزگار، مصروفیات اور مقصد گھومتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ “مشن والے لوگوں” کو غیر معمولی طور پر پسند کرتے ہیں۔
اسی مشن کے تحت وہ ڈاکٹر مشتاق احمد اورکزئی کا تعارف کرواتے ہیں، جنہیں وہ پاکستان اور پورے خطے میں موٹاپے کے علاج کے حوالے سے ایک نمایاں سرجن قرار دیتے ہیں۔ وہ اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں کہ ڈاکٹر مشتاق کے مریض محض مریض نہیں بلکہ ان کے چاہنے والے، بلکہ یوں کہنا زیادہ درست ہوگا کہ ان کے مرید بن چکے ہیں۔ اس کی وجہ محض سرجری نہیں بلکہ وہ تعلق ہے جو ڈاکٹر مشتاق اپنے مریضوں کے ساتھ قائم کرتے ہیں۔
گفتگو کا رخ جلد ہی اس نکتے کی طرف مڑتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں میڈیکل فیلڈ کو کس محدود نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ ڈاکٹر بننے کے بعد زیادہ تر نوجوان چند مخصوص فیلڈز ہی کو کامیابی کی علامت سمجھتے ہیں، جیسے گائنی، کارڈیالوجی، نیفرولوجی یا آرتھوپیڈکس، جبکہ کئی اہم شعبے توجہ سے محروم رہ جاتے ہیں۔ موٹاپے کا علاج بھی ایسا ہی ایک شعبہ ہے جس میں علاج کے ساتھ ساتھ شدید آگاہی کی ضرورت ہے، کیونکہ لوگوں کو یہ معلوم ہی نہیں کہ موٹاپا اصل میں ہے کیا۔ موٹاپا کوئی معمولی مسئلہ نہیں بلکہ ایک عذاب ہے۔ ایک ایسا عذاب جو انسان کی زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کرتا ہے۔ اٹھنا بیٹھنا، سونا جاگنا، کھانا پینا، ازدواجی تعلقات، سماجی حیثیت، خود اعتمادی، سب کچھ آہستہ آہستہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتا ہے۔
ڈاکٹر مشتاق احمد اورکزئی حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے ایک قول کے حوالے سے گفتگو کو آگے بڑھاتے ہیں کہ انسان جو کچھ بھی چاہے، مگر ہوتا وہی ہے جو اللہ کو منظور ہوتا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ بچپن میں ان کا خواب چیف آف آرمی اسٹاف بننے کا تھا، یہاں تک کہ انہوں نے آئی ایس ایس بی کے لیے درخواست بھی دی، مگر تقدیر انہیں میڈیکل فیلڈ میں لے آئی۔ پھر ایک قریبی رشتہ دار کی لیور کی بیماری سے وفات نے انہیں لیور ٹرانسپلانٹ سرجری کی طرف مائل کیا اور وہ اسی مقصد سے ترکی گئے، استنبول کے معروف ہسپتال میں تربیت حاصل کی۔ لیکن زندگی کا اصل موڑ اس وقت آیا جب انہوں نے اپنی والدہ کو موٹاپے کی پیچیدگیوں میں مبتلا دیکھا۔ ہر ممکن کوشش کے باوجود وزن کم نہ ہو سکا، گھٹنے خراب ہوئے، شوگر لاحق ہوئی، گردے فیل ہوئے اور ڈائیلاسز تک بات پہنچی۔ اسی تلاش کے دوران انہیں باریاٹرک سرجری کا علم ہوا، جو اس وقت پاکستان میں تقریباً نامعلوم تھی۔ انہوں نے اسی فیلڈ میں فیلوشپ کی، شفا انٹرنیشنل اسلام آباد میں کام کیا، اور پھر جب پشاور واپس آئے تو انہیں سب سے بڑی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔
وہ بتاتے ہیں کہ پٹھان معاشرے میں موٹاپے کو بیماری کہنا ایسا تھا جیسے ابتدائی دور میں اسلام پیش کرنا۔ جس چیز کو طاقت، حُسن اور خوشحالی کی علامت سمجھا جاتا ہو، اسے بیماری کہنا لوگوں کے لیے ناقابلِ قبول تھا۔ شادی کے لیے موٹی لڑکی کی خواہش اور تندرستی کے نام پر وزن بڑھانے کی ترغیب اس سوچ کی مثالیں ہیں۔ ایسے میں ڈاکٹر مشتاق نے فوراً علاج یا شہرت کے بجائے مزید آگاہی کو ترجیح دی۔ ایک سال تک وہ صرف سمجھاتے رہے، کونسلنگ کرتے رہے، اور آج بھی مختلف شہروں اور ممالک میں آگاہی پروگرام کرتے ہیں۔
گفتگو آگے بڑھتی ہے تو موٹاپے کی طبی تشریح سامنے آتی ہے کہ موٹاپا محض زیادہ کھانے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک دائمی بیماری ہے جو جینیٹک، ماحولیاتی اور ذہنی عوامل سے مل کر پیدا ہوتی ہے۔ یہ جراثیم سے نہیں پھیلتی بلکہ جسم کے اندر ایک طوفان برپا کر دیتی ہے۔ غیر ضروری چربی جسم کے ہر حصے میں جمع ہونا شروع ہو جاتی ہے، ظاہری بدصورتی کے ساتھ ساتھ اندرونی نظام بھی درہم برہم ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے مریضوں کی کہانیاں سناتے ہیں۔ کوئی بتاتا ہے کہ جہاز میں سیٹ بیلٹ بند نہ ہونے پر ایئر ہوسٹس کی معذرت نے اس کی شخصیت کو توڑ دیا۔ کوئی کہتا ہے کہ شادیوں میں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے سب کی نظریں اسی پر جمی ہوں۔ کوئی بچوں کے آوازے سن کر فیصلہ کرتا ہے کہ اب یا تو علاج ہوگا یا موت۔ یہ کہانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ موٹاپا صرف جسم کا نہیں، پوری زندگی کا مسئلہ ہے۔
اسی تناظر میں نفسیاتی پہلو پر بات ہوتی ہے کہ موٹاپا اینزائٹی اور ڈپریشن کو جنم دیتا ہے، اور بعض اوقات اینزائٹی اور ڈپریشن موٹاپے کو بڑھاتے ہیں۔ وہ خواتین مریضوں کی بات کرتے ہیں جو شاپنگ مالز میں کپڑوں کی دستیابی نہ ہونے پر نظریں جھکا لیتی ہیں، رشتے داروں سے ملنے سے کتراتی ہیں، اور آہستہ آہستہ سماجی زندگی سے کٹ جاتی ہیں۔ وہ ایسے مریضوں کا ذکر کرتے ہیں جو خود کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر چکے ہوتے ہیں۔
گفتگو میں ازدواجی زندگی اور بانجھ پن کا مسئلہ بھی سامنے آتا ہے موٹاپا مرد و خواتین دونوں میں ہارمونز کے نظام کو بگاڑ دیتا ہے۔ مردوں میں نسوانی ہارمون بڑھنے لگتے ہیں اور خواتین میں مردانہ ہارمون، جس کے نتیجے میں اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ ایسے درجنوں کیسز ہیں جہاں وزن کم ہونے کے بعد اللہ نے اولاد کی نعمت عطا کی۔
بچوں میں بڑھتا ہوا موٹاپا تشویشناک ہے۔ ایک چھ سالہ بچی کا ذکر آتا ہے جس کا وزن 66 کلو ہے، اور یہ سوال ابھرتا ہے کہ اگر آج کچھ نہ کیا گیا تو یہ بچی جوانی میں کہاں کھڑی ہوگی۔ موبائل فون، جسمانی سرگرمی کی کمی، جنک فوڈ اور والدین کی بے بسی، سب مل کر ایک ایسی نسل تیار کر رہے ہیں جو بیماری کے بوجھ تلے دب رہی ہے۔
اسی مقام پر پولیو اور موٹاپے کا تقابلی جائزہ سامنے آتا ہے۔ ڈاکٹر مشتاق کے مطابق پولیو کی شرح نہایت کم ہے، جبکہ موٹاپا پاکستان میں 35 سے 40 فیصد آبادی کو متاثر کر چکا ہے۔ اس کے باوجود قومی سطح پر موٹاپے کے خلاف وہ توجہ اور مہم نظر نہیں آتی جو پولیو کے لیے موجود ہے، حالانکہ موٹاپا مختلف بیماریوں مثلاً شوگر، ہارٹ اٹیک، معذوری اور معاشی بوجھ کی بنیادی وجہ بن چکا ہے۔
اس کے علاوہ گفتگو میں مختلف موضوعات پر بات ہوئی۔ مثلاً ذہنی صحت کے مسائل کا جسمانی معذوریوں کے ساتھ موازنہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا گیا کہ جس طرح ہم وہیل چیئر استعمال کرنے والوں کی مدد کرتے ہیں اور ان کے لیے سہولیات پیدا کرتے ہیں، اسی طرح ذہنی طور پر پریشان افراد کے ساتھ شفقت اور محبت کا سلوک کرنا چاہیے۔ انہیں معاشرے کی طرف سے قبولیت اور نفسیاتی مدد کی ضرورت ہے، ورنہ ان کی ڈپریشن اور اضطراب کی کیفیات مزید بگڑ سکتی ہیں۔ پھر بات بچوں میں موٹاپے اور ذہنی مسائل کے باہمی تعلق کی طرف گئی۔ موٹاپے کے جینیاتی اور ماحولیاتی دونوں پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی۔
مختلف عالمی رہنماؤں کے ذہنی مسائل کی مثالوں کے ذریعے یہ واضح کیا گیا کہ ذہنی بیماریوں کے اثرات صرف فرد تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے خاندان، معاشرے اور قوم کو متاثر کر سکتے ہیں۔
ماحولیاتی تبدیلیوں پر بات کرتے ہوئے قدیم اور جدید طرز زندگی کا تقابلی جائزہ پیش کیا گیا۔ دیسی، قدرتی غذا اور جسمانی محنت پر مبنی پرانے دور کے برعکس، آج ہائبرڈ غذا، مشینوں پر انحصار، کم جسمانی سرگرمی، اور سوشل میڈیا کے زیادہ استعمال کو صحت کے مسائل، خاص طور پر ڈپریشن اور اضطراب میں اضافے کی اہم وجوہات قرار دیا گیا۔ جدید سہولیات کے باوجود، ذہنی اطمینان اور سکون کے حقیقی ذرائع سے دوری کو بنیادی مسئلہ بتایا گیا۔
اس کے بعد گفتگو کا رخ روحانی اور اخلاقی تربیت کی طرف مڑا۔ تبلیغی جماعت کے تجربے کو انسانی کردار کی تعمیر اور سکون قلب کے حصول کا ایک اہم ذریعہ قرار دیا گیا۔ یہ بات واضح کی گئی کہ صرف علمی باتوں سے زیادہ، عمل اور سینہ بہ سینہ منتقل ہونے والی روحانی محبت دلوں کو مؤثر طور پر بدل سکتی ہے۔ سائنس اور مذہب کے باہمی تعلق پر بات کرتے ہوئے یہ نظریہ پیش کیا گیا کہ سائنس ہر چیز کی توجیہہ نہیں کر سکتی، اور ایمان و یقین کا اپنا مقام ہے۔ قرآن پاک میں بیان کردہ سائنسی حقائق کو اس کی مثال کے طور پر پیش کیا گیا۔
گفتگو کے آخری حصے میں طرزِ زندگی، کھانے پینے، نیند اور صبح کے معمولات پر بات ہوتی ہے۔ سنتِ نبوی ﷺ کے حوالے سے پیٹ کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کا ذکر آتا ہے۔ دن میں دو وقت کھانے، رات دیر سے کھانے سے پرہیز، جلد سونے اور فجر کے قریب جاگنے کی تلقین کی جاتی ہے۔ ڈاکٹر مشتاق اپنے ذاتی معمولات کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ کم کھانا، بروقت کھانا، اور مناسب نیند ہی ان کی توانائی اور صحت کا راز ہے۔
نشست کا اختتام روحانیت اور تبلیغی جماعت کے اثرات پر ہوتا ہے۔ ڈاکٹر مشتاق بتاتے ہیں کہ انہیں قول و فعل کی یکسانیت، سادگی، اور اللہ سے تعلق کی اصل روح وہیں سے ملی۔ ان کے نزدیک سائنس اہم ہے، مگر ہر چیز کا جواب سائنس کے پاس نہیں۔ اصل سکون اللہ کے ذکر اور مقصدِ زندگی کے ساتھ وابستہ ہونے میں ہے۔
آخر میں ڈاکٹر قاسم علی شاہ اس نشست کو سمیٹتے ہوئے اس دعا کے ساتھ رخصت ہوتے ہیں کہ اللہ اس علم، اس آگاہی اور اس مشن کو قبول فرمائے، لوگوں کو صحت عطا کرے، اور پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔